• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاطینی امریکا کے ملک ہیٹی میں حکومت نے صدر جووینل موئس کے قتل کے بعد انفرااسٹرکچر کی حفاظت کے لیے امریکا اور اقوامِ متحدہ سے فوج بھیجنے کی اپیل کی کردی ہے۔وزیربرائےامورِانتخابات میتھیاس پئیرکے مطابق ملک کے عبوری وزیرِ اعظم کلاڈ جوزف نے امریکا کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن سے بات کرتے ہوئے امریکا کی افواج ہیٹی میں تعینات کرنے کے لیے کہا ہے۔ ان کے بہ قول ایسی ہی ایک درخواست اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے بھی کی گئی ہے۔میتھیاس پئیر نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس وقت ہیٹی کا کلیدی انفرااسٹرکچر جیسے بندرگاہ، ہوائی اڈے اور توانائی سے متعلق تنصیبات نشانے پر ہیں۔دوسری جانب روئٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا کا اس وقت اپنی فوج ہیٹی بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اس سے قبل بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ امریکا ہیٹی کی حکومت کی جانب سےسکیورٹی اور تفتیش میں مدد کی درخواست پر ایف بی آئی اور ہوم لینڈسکیورٹی کے اہل کار وہاں بھیجے گا۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے گزشتہ جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں کہاتھا کہ امریکا میں حکام صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ہیٹی کی کس طرح مدد کی جا سکتی ہے۔ امریکا، ہیٹی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ہیٹی کے صدر کے قتل کے بعد کی صورتِ حال میں مدد کی جا سکے۔

یاد رہے کہ چھ اور سات جولائی کی درمیانی شب کو ہیٹی کے صدر جووینل موئس کو ان کی نجی رہایش گاہ پر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واردات میں ان کی اہلیہ بھی زخمی ہوئی تھیں جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی تھیں۔اس وقت ملک کی باگ ڈور عبوری وزیرِ اعظم کلاڈ جوزف کے ہاتھ میںہےاورہیٹی نے ملک کی سلامتی کی صورتِ حال اور مقتول صدرپر حملے میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے جاری تفتیش میں بھی امریکا کی مدد مانگی ہے۔

ملک کے عبوری وزیرِ اعظم کلاڈ جوزف نےاس واردات کے بارے میںایک بیان میں بتایا تھا کہ مسلح افراد نے دارالحکومت پورٹ اوپرنس میں صدر کے گھر میں گھس کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں صدر کی اہلیہ بھی زخمی ہوئی ہیں جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ حملہ آور کون تھے۔ کلاڈ جوزف کا کہنا تھا کہ عوام کے تحفظ اور ریاستی اُمور چلانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ملک کی صورتِ حال مسلح افواج اورسکیورٹی اداروں کے کنٹرول میں ہے۔

ہیٹی کے صدرکا قتل ایسے وقت میں ہواہے جب ملک میں بدعنوانی کے الزامات عام ہیں اور سیاسی عدم استحکام، غذائی قلت اور بے امنی کی وجہ سے ملک انتشار کا شکار ہے۔ دارالحکومت میں حالیہ عرصے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور شہر کی سڑکوں پر مختلف گروہوں کے آپس کے جھگڑےاورپولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی معمول بن چکی ہیں۔ہیٹی میں 2017 میں مقتول صدر کے اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی عدم استحکام اور غربت کی وجہ سے تشدد میں اضافہ دیکھا گیا تھا ۔

حزبِ اختلاف کے راہ نماصدر پر یہ الزام لگاتے تھے کہ وہ ملک کے مسائل حل کرنے کے بجائے آمرانہ انداز میں ملکی اُمور چلا رہے ہیں اور2018سے زیرِ التوا انتخابات کرانے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔البتہ صدر موئس ان الزامات کی تردید کرتے رہے تھے۔ صدر جووینل موئس نے فروری2017میں عہدہ صدارت سنبھالا تھا۔ حالیہ برسوں میں گیس کی قیمتوں، معاشی مسائل اور کورونا وائرس سے نمٹنے جیسے مسائل میں ناکامیوں کے سبب ان کی مقبولیت میں کمی آگئی تھی اور ان کے استعفے کا مطالبہ ہوتا رہا تھا۔

ہیٹی کا شمار لاطینی امریکا کے پس ماندہ ممالک میں ہوتا ہے جہاں غربت، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے عوامی سطح پر احتجاج بھی ہوتا رہتا ہے۔ہیٹی میں 2010 میں شدید نوعیت کے زلزلے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے باعث ملک کی اقتصادی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔2016میں سمندری طوفان نے بھی ہیٹی میں تباہی مچا دی تھی۔ امریکا اور عالمی برادری نے ہیٹی کے مسائل حل کرنے کے لیے اس کے لیے امداد کا بھی اعلان کیا تھا۔

حکام کے مطابق جووینل موئس کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں اور ہیٹی کی پولیس کو کافی کام یابی ملی ہے۔بارہ جولائی کو ہیٹی کے پولیس چیف کا کہناتھاکہ پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہےجس نے اس قتل کے لیے سہولت کاری کی ہے۔اس کی عمرتریسٹھ برس ہے اور اس کی شناخت کرسچن ایمانوئل کے نام سے ہوئی ہے۔یہ شخص گزشتہ ماہ ایک نجی جہاز کے ذریعے ملک میں داخل ہوا تھا ۔تاہم پولیس نے اس کے مقاصد سے متعلق تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔پولیس کا کہناہےکہ ملزم سیاسی مقاصد کے لیے ہیٹی آیا تھا اورصدرکے قتل کے بعد گرفتار ہونے والا یہ پہلا شخص ہے جسے مشتبہ قاتل کہا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم کے گھر سے گولیاں، دو گاڑیاں اور دیگر سازو سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل پولیس کا کہنا تھا کہ صدر کے قتل میں کم از کم اٹھائیس افراد کا گروپ شامل ہے جن میں سے بیس مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان میں دو امریکی شہری بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ تین مشتبہ افراد کو ہلاک کیا جاچکا ہے اور دیگر کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق اس الزام میں گرفتار شدہ افراد میں سے بعض کولمبیا کی فوج کے سبک دوش فوجی ہیں۔ پولیس کے مطابق تین مشتبہ افراد تصادم میں ہلاک ہوئے۔آٹھ اب بھی فرار ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔

جووینل موئس کے قتل کے بعد ملک کی سینیٹ نے سینیٹرجوزیف لیمبرٹ کو نئے صدرکےلیے نام زد کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ہیٹی کی حکومت نے امریکا اور اقوام متحدہ سےافواج بھیجنے کی درخواست کی ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق امریکا نے اس موقعے پر کسی عسکری امدادسے انکار کیاہے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کووہاں بین الاقوامی فورسز تعینات کرنے کے کسی بھی منصوبے پر عمل کے لیے پہلے سلامتی کونسل سے منظوری لینا ہو گی۔

ہیٹی (Haiti) کیریبین جزائر میں ایک چھوٹا سا ملک ہے۔یہ بنیادی طور پر ہسپانیولا جزیرے پر مشتمل ہے۔ اس جزیرےپردوسراملک ڈومینیکن جمہوریہ ہے۔ فرانسیسی اور’’کریول‘‘ہیٹی کی سرکاری زبانیں ہیں۔ اس کا دار الحکومت پورٹ او پرنس ہے۔یہ خِطّے کا غریب ملک ہے اور صدر کے قتل کی وجہ سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔جووینل موئس کے قتل کے بعد سے ہی ملک میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔ اقوام متحدہ کی نظر میں صدر کے قتل کے بعد جب تک نئے انتخابات نہیں ہو جاتے اس وقت تک ملک کے موجودہ وزیر اعظم کلاڈ جوزیف صحیح معنوں میں ہیٹی کے راہ نما ہیں، لیکن سینیٹ نے انہیں نظر انداز کر دیا ہے۔تاہم کلاڈ جوزیف کا کہنا تھاکہ میں حصول اقتدار کی کش مکش میں نہیں پڑنا چاہتا۔ ہیٹی میں صدر بننے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے انتخاب کے ذریعے۔اطلاعات کے مطابق سینیٹرز کے اس اقدام سے ملک مزید سیاسی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ملکی آئین کے مطابق صدر کی اچانک موت کی صورت میں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس عہدہ صدارت سنبھال سکتا ہے۔ تاہم حال ہی میں ملک کےچیف جسٹس کی کووڈ 19 کی وجہ سے موت واقع ہو گئی تھی۔

ادہر کولمبیا کے پولیس ڈائریکٹر نےجووینل موئس کے قتل کے ضمن میں گزشتہ دنوں کہا تھا کہ اس واردات میں کولمبیا کی فوج کے کم از کم سترہ سبک دوش فوجی شامل ہو سکتے ہیں۔ کولمبیا کی حکومت نے اس قتل کی تحقیقات میں ہیٹی کی کوششوں میں مدد کا بھی وعدہ کیا ہے۔ لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ آخر قتل کا انتظام کس نے کیا اور اس کے پیچھے کیامحرکات ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل بھی یہ ملک طویل سیاسی عدم استحکام کی تاریخ رکھتاہے۔تاہم 2006 میں صدر رینے پریوال کے انتخاب کے بعد حالات میں تھوڑی بہتری آنا شروع ہوئی تھی،لیکن پھر وہاں مشکلوں کے بادل چھا گئے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ ہیٹی کوعام دنیاسے زیادہ سیاسی بحرانوں ،بدانتظامی،غربت اور قدرتی آفات کا سامنا رہا ہے۔ جب بھی ملک میں صورتِ حال بہتر ہونے لگتی ہے قوم کسی اور بحران کا شکار ہو جاتی ہے۔اس کے دیہی علاقوں میں عوام کے حالات بہت خراب بتائے جاتے ہیں اور غذا کی کمی، ایڈز اور دیگر متعدی بیماریاں عام ہیں۔

جب پہلے پہل پانچ سو برس قبل یورپی باشندے یہاں پہنچے تھے تو وہ یہاں کے جنگلات دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔ اب ان میں سے صرف تین فی صد جنگلات رہ گئے ہیں، باقی کو کاٹ دیا گیا ہے۔ جنگلات سے حاصل ہونے والی لکڑی اب بھی ملک میں استعمال ہونے والا سب سے بڑا ایندھن کا ذریعہ ہے۔شاید جنگلات کی اسی کمی کی وجہ سے2008سے طوفان سے ہونے والی تباہی کا سلسلہ شروع ہوا جس میں کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک اور دس لاکھ کے قریب بے گھر ہوگئے تھے۔پھر 2010 میں شدید نوعیت کے زلزلے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور2016میں سمندری طوفان نے وہاںتباہی مچا دی تھی۔ان قدرتی آفات کے علاوہ ہیٹی نے اپنی پوری تاریخ میں سیاسی افراتفری اور بدانتظامی کا شکار رہا ہے۔ 1986 میں ’’بے بی ڈوک‘‘ ڈیووالیئر کو اقتدار سے علیحدہ کیا گیا تھا تو ایسا محسوس ہوتا تھاکہ شاید ہیٹی میں جمہوری نظام آ جائے۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔

البتہ کئی برس کی افراتفری کے بعد 1990میںایک نوجوان سابق کیتھولک پادری ژاں برٹرینڈ آرِسٹیڈ کے انتخاب کی شکل میں نئی امید پیدا ہوئی۔لیکن ان کے اقتدار کا چند ماہ بعد اس وقت خاتمہ ہو گیا جب فوج کے کرنیلوں نے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ اس سے نہ صرف جمہوری نظام کا خاتمہ ہو گیا بلکہ کئی ہزارافراد نئی فوجی جنتا کے ظلم و تشدد کا شکاربنے۔ اس کے علاوہ ہزاروں افراد نے گھریلو ساختہ کشتیوں میں ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔1994میں ان ہی لوگوں کی بڑی تعداد میں امریکا آمد تھی جس نے اس وقت کے امریکی صدر بِل کلنٹن کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بُوٹوں والوں کو گھر بھیج دیا جائے۔

اس کے بعد ایک بار پھر ژاں برٹرینڈ آرِسٹیڈ برسراقتدار آ گئے اور ایسا لگا کہ سیاسی اقتدارکے ایک اور عہد کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ ان کے اور ان کے جانشین رینے پریوال کے دور میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں کی مدد کی وجہ سے حالات تھوڑا بہتر ہوئے ، لیکن اس کے باوجود ہیٹی مغربی خط استوا پر واقع ملکوں میں سے غریب ترین ملک رہا جہاں فی کس اوسط آمدن دو ڈالرز یومیہ سے کم ہے۔تاہم 2001میں آرِسٹیڈ کے دوسری مدت کے لیے انتخاب کے بعد سیاسی حالات خراب ہونا شروع ہو گئے اور تشدد میں اضافہ ہوا۔ صدر آرِسٹیڈ کو کئی ماہ کے سیاسی بحران کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔ اس کے بعداقوام متحدہ کی نوہزاراہل کارو ں پرمشتمل امن فوج وہاں بھیجی گئی جس نے وہاں استحکام لانے کے ساتھ سڑکوں اور دیگر انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں مدد دی۔

صدر رینے پریوال کے2006میں انتخاب کے بعد ملک کے حالات میں تھوڑی مگر اہم نوعیت کی بہتری آنا شروع ہوئی تھی۔ نوکری کے مواقعے پیدا ہوئے ، غریب آبادیوں میں تشدّد میں کمی آئی اور سیاحت سے متعلق سرگرمیوں میں بہتری کے آثار دیکھے جا رہے تھے۔لیکن جیسا پہلے ہوتاآ رہاتھا،ویسا ہی ہوا اور نئی امیدیں دم توڑ گئیں۔دو صدیوں کے سب سے شدید زلزے نے ملک کی بنیادیں تک ہلادی تھیں۔