• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

آزاد کشمیر میں مخلوط حکومت بنائے جانے کا امکان؟

آزادکشمیرمیں 21جولائی2016ء کومنتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی اوراس کے نتیجے میں بننے والی حکومت جومسلم لیگ ن کی ہے نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرلی ہے ۔یہ واحدحکومت ہے جس کے دورمیں نہ کوئی عدم اعتمادکی تحریک پیش ہوئی اورنہ ہی کسی کواقتدارسے ہٹانے کے لئے کوئی اقدامات کیے گئے ۔حالانکہ پاکستان میں جس پارٹی کی حکومت ہے وہ مسلم لیگ ن کی حریف ہے ۔مگراس کے باوجودایک منتخب حکومت کواپنی آئینی مدت پوری کرنے دینے کے عمل کوقابل قدرنگاہ سے دیکھاجارہاہے ۔ 

آزادکشمیر میں 25جولائی کو28لاکھ سے زاہدووٹران اپنے حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے 45ممبران اسمبلی کاانتخاب کریں گے جن میں آزاد کشمیرکے دس اضلاع سے 33ممبران اورمہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان میں سے بارہ ممبران کاانتخاب کیاجائے گا۔موجودہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن ،پاکستان پیپلزپارٹی پاکستان تحریک انصاف مسلم کانفرنس جموں کشمیرپیپلزپارٹی جماعت اسلامی پاکستان ،لبریشن لیگ اورتحریک لبیک اوردیگرجماعتیں شامل ہیں۔

پاکستان کی موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف نے بھی آزاد کشمیرکی تقریباً سبھی نشستوں پر اپنے امیدواروں کو میدان میں اتاراہواہے ۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان جووزیراعظم پاکستان بھی ہیں اپنی پارٹی کے امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلانے کے لئے آزادکشمیرکے تینوں ڈویژنل ہیڈکوارٹرزکاانتخابی دورہ کرنے والے ہیں۔

وہ وپونچھ ڈویژن میں باغ کے مقام پرمظفرآبادکے مقام پر مظفر آباد اور میرپور ڈویژنل کے مقام پر انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے اس کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرمین بلاول بھٹوزرداری اپنے پارٹی کے امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلانے کے لئے کوٹلی میرپورعباس پورحویلی ہجیرہ کادورہ کرچکے ہیں۔ مسلم لیگ کے نائب صدراورسابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازآٹھ جولائی سے آزاد کشمیرکے انتخابی دورہ پرہیں۔

ان کایہ دورہ 19جولائی تک جاری رہے گا۔اس طرح پاکستان کے قائدین آزادکشمیرکے انتخابات میں اپنااپناحصہ ڈالنے کے لئے دورے کررہے ہیں۔ ان انتخابات میں آزاد کشمیر میں ماضی میں حکومت میں رہنے والے اور سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والے سیاسی قائدین کے صاحبزدگان بھرپورحصہ لے رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے بانی صدر اور سینئرترین سیاسی رہنما سردار محمد ابراہیم خان کے دونوں پوتے سردارحسن ابراہیم خان اورسرداراسدابراہیم خان بالترتیب ڈسٹرکٹ پونچھ کے دوحلقوں یعنی حلقہ چاراورپانچ سے حصہ لے رہے ہیں۔

سردارقیوم خان کے صاحبزادے عتیق خان راجہ حیدرخان مرحوم اور آزاد کشمیر قانون سازاسمبلی کی پہلی خاتون ممبر کے صاحبزادے راجہ فاروق حیدر حصہ لے رہیں۔ آزاد کشمیر میں جمہوریت کی بحالی کیلئے چلنے والی تحریک کے اہم رہنماچوہدری نورحسین مرحوم کے صاحبزادے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری (سابق وزیراعظم آزاد کشمیر)سردارسکندرحیات خان سابق وزیراعظم کے صاحبزادے سردارفاروق ،سابق سپیکر قانون ساز اسمبلی سردار غلام صادق خان مرحوم کے صاحبزادے سردار سعود بن صادق ایڈووکیٹ سابق وزیرحکومت چوہدری مطلوب انقلاب مرحوم کے بیٹے ولید انقلابی ایڈووکیٹ، سابق وزیرتعلیم سردارمحمد یوسف خان آف باغ سردار امجد یوسف خان، سابق وزیراعظم آزادکشمیرچوہدری عبدالمجید کے صاحبزادے چوہدری قاسم مجیدسابق وزیر اورسابق مشیرمرحوم سردارخان بہادرخان کے پوتے سردار عامرالطاف (موجودہ ڈپٹی سپیکر) راجہ ممتاز حسین راٹھور (سابق وزیراعظم) فیصل ممتاز راٹھور سابق وزیراعظم خان عبدالحمیدخان کے پوتے خان ماجدخان اور دیگر سیاسی قائدین کے قریبی عزیز بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔

ان انتخابات میں بنائی کی گئی فہرستوں اوران کے مطابق تیارکی گئی پولنگ سکیموں کے حوالے سے لوگوں کوخاصے تحفظات ہیں۔اگرچہ کسی حدتک الیکشن کمیشن کی ہدایت پرڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسران نے ان فہرستوں اورپولنگ اسکیموں میں پائی گئی غلطیوں کی کسی حدتک تصحیح کرنے کی کوشش ہے مگراس طرح سے تصحیح نہ ہوسکی جس طرح سے ہونی چاہیے تھی ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلاخلاف ورزیاں جاری ہیں لوڈاسپیکرز کا استعمال کارنرمیٹنگ کے نام پربڑے بڑے جلسے ہورہے ہیں مگرالیکشن کمشنر اور انتظامیہ ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد کروانے میں بے بس نظرآرہے ہیں۔ بعض امیدواران جن کے پاس سرمایہ ہے وہ اپنی انتخابی مہم میں کھل کراپنی ترقیاتی منصوبہ کااعلان کررہے ہیں بلکہ موقع پران منصوبوں کے لئے نقدرقم فراہم کررہے ہیں۔

بالخصوص ڈسٹرکٹ پونچھ کے حلقہ تین اورپانچ میں یہ سلسلہ جاری ہے سرعام رقومات بانٹی جارہی ہیں جس پر چیف الیکشن کمیشن نے مقدمہ درج کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ اس وقت کی صورتحال کے مطابق ایسی کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے جواکیلے اتنی نشستیں لے سکے کہ حکومت بناسکے حکومت سازی کے وقت انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعتوں کوایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت ہے اس بات کاغالب امکان ہے کہ آزادکشمیرمیں مخلوط حکومت بنائے جائے گی۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید