• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوکت ترین نے نیب کے متعلق سیکریٹریز کمیٹی کی بات کی تصدیق کردی

اسلام آباد (انصار عباسی) اگرچہ نیب نے وزیر خزانہ کی اس رائے سے اختلاف کیا ہے کہ نیب کے ڈر کی وجہ سے سرکاری ملازمین بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے، لیکن بیوروکریسی کا کہنا ہے کہ شوکت ترین نے درست صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔ 

سول سروس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے غیر محفوظ محسوس کرتی ہے، حتیٰ کہ بیوروکریسی کو وزیراعظم اور آرمی چیف سے رابطہ کرنا پڑا اور سیکریٹریز کمیٹی نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ بیورو ہراساں کرنے کی پالیسی بند کرے۔ 

بیوروکریسی نے سیکریٹریز کمیٹی کے ذریعے باضابطہ طور پر نیب پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ادارے کے بیوروکریٹس کیخلاف اقدامات ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہیں۔ 

نیب جس انداز سے کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اس کے برعکس، سیکریٹریز کمیٹی نے حکومت کو 2019ء میں بتایا تھا کہ فوری اقدام کرکے نیب کو روکا جائے اس سے قبل کہ بیورو مستقل طور پر سول سروس کے کام کرنے کے انداز کو مفلوج کر دے۔ 

اجلاس کے اہم نکات دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ سیکریٹریز نے معمولی وجوہات کی بنا پر گرفتاریوں اور طلبی کے نوٹس کے اجرا کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کیا تھا، جس کا مقصد قابل احترام سرکاری ملازمین کی تضحیک ہے اور یہ اقدام اچھی طرز حکمرانی کے اصولوں کیخلاف ہے لہٰذا اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ 

ماضی میں زبانی یقین دہانیوں کے باوجود نیب حکام کے رویّوں میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ سرکاری افسران کو ٹھوس شہادتوں کے بغیر سمن جاری ہوئے، انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں۔ سیکریٹریز نے یہ بات زور دے کر کہی کہ قانون میں ٹھوس ترامیم کے ذریعہ دی جانے والی یقین دہانیوں کو قانونی تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔ 

شوکت ترین نے نیب قانون میں ترمیم کا اشارہ دیا ہے تاکہ بیوروکریسی کو نیب کے خوف کے بغیر کام کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ سیکریٹریز کمیٹی نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ یہ بات قابل مذمت ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ۔36 نیب کی جانب سے نیک نیتی کے ساتھ کیے جانے والے اقدامات کو تحفظ فراہم کرتی ہے جبکہ حکومتی شخصیات کی جانب سے تمام تر اقدامات کی بڑے تواتر سے بدنیتی سے جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ 

گو کہ سول سرونٹس ایکٹ کی دفعہ۔23 ۔ اے بھی سول سروسز کو اسی طرح کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔ کمیٹی نے کہا یہ بات بڑی تشویشناک ہے کہ کئی مقدمات میں سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی ٹھوس شہادتوں کے بجائے کسی مخصوص مقدمے میں فیصلے کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ جو بعد میں چل کر ناقص ثابت ہوتا ہے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ بیوروکریسی اکثر شکایت کرتی ہے اور اعلیٰ عدلیہ نے بھی کئی مرتبہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نیب کے تفتیشی افسران کے پاس متعلقہ کیسز سے نمٹنے کیلئے مناسب تجربہ اور معلومات نہیں۔ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے چند وزراء نے مختلف مواقع پر عوامی تقریبات میں کہا ہے کہ نیب کی وجہ سے بیوروکریٹس فائلوں پر دستخط نہیں کر رہے اور اس سے حکمرانی اور کارکردگی میں خرابی پیدا ہو رہی ہے۔ 

سیکریٹریز کمیٹی نے واضح طور پر یہی بات کہی تھی کہ پالیسی فیصلوں کو اگر جرم سمجھا جائے گا تو سرکاری ملازمین احتیاط کا مظاہرہ کریں گے اور فیصلے نہیں کر پائیں گے، جس سے حکمرانی اور ڈلیوری میں تاخیر پیدا ہوگی، یہ وہ علامات ہیں جو نظر آنے لگ گئی ہیں۔ 

سیکریٹریز کمیٹی نے کہا تھا کہ حال ہی میں نیب نے کابینہ اور اس کی کمیٹی کی جانب سے کیے جانے والے مشترکہ فیصلوں کی ذہانت پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں، قانونی ایگزیکٹو اتھارٹی کی طرف اس بے حسی سے جدت کی حوصلہ شکنی ہوگی اور سرکاری ملازمین اور سینئر سرکاری عہدیدار خطرات سے پر چیلنجز سے نمٹ نہیں پائیں گے۔ اس صورتحال کے اثرات عوام محسوس کریں گے اور حکومت اپنے طے شدہ ایجنڈے پر عمل نہیں کر پائے گی جس کیلئے سخت عزم اور ارادے کی ضرورت ہے۔ 

بیوروکریسی کے احتجاج کے بعد وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیب قانون میں 2019ء کے اواخر میں کچھ ترامیم متعارف کرائیں تاکہ بیوروکریٹس کو نیب کی جانب سے ہراساں کیے جانے سے بچایا جا سکے۔ تاہم، یہ آرڈیننس 120؍ دن کی اپنی مدت مکمل کرکے ختم ہوگیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کی وجہ سے نیب قانون ویسا کا ویسا رہ گیا جس کی وجہ سے بیوروکریسی کیلئے خوف کا ماحول بنا رہا۔ 

وزیر خزانہ نے عمران خان کی حکومت کا حصہ بننے سے قبل ہی واضح کر دیا تھا کہ نیب قانون میں ترمیم کرنا ہوگی تاکہ بیورو کی جانب سے سرکاری ملازمین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند ہو سکے۔ شوکت ترین نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ قانون میں ترمیم ہونا چاہئے لیکن یہ واضح نہیں کہ حکومت ایسا کیسے کرے گی۔ 

تاہم، قومی احتساب بیورو کا کہنا ہے کہ نیب ایک قومی ادارہ ہے جو اپنے تفویض کردہ مینڈیٹ کے مطابق انصاف اور میرٹ کی بنیاد پر آئینی و قانونی اقدامات سر انجام دینے پر یقین رکھتا ہے اور وہ کرپشن کیخلاف اقدامات بلا تعطل جاری رکھے گا۔ نیب انسدادِ بدعنوانی کیخلاف جنگ کو قومی فریضہ سمجھ کر سر انجام دے رہا ہے۔ 

نیب کی کسی سیاسی پارٹی سے کسی طرح کی وابستگی نہیں جبکہ نیب کے تمام اقدامات پاکستان اور پاکستان کی عوام کی فلاح سے مشروط ہیں۔ کرپشن کے تمام مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے اور نیب احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر قانون کے مطابق عمل پیرا ہے۔

تازہ ترین