• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقار محسن

شہر کی ایک فلور مل چوہوں کی قدیم اور وسیع ریاست تھی۔ وہاںگندم کے ساتھ سوکھی روٹیوں کی بوریاں بھی موجود ہوتی تھیں تاکہ دونوں کو ملا کر آٹا تیار کیا جاسکے اور یوں حاجی برکت علی کی آمدنی اور لوگوں کے پیٹ کے امراض میں اضافہ ہوتا رہے۔جب گندم اور سوکھی روٹیوں کی نئی کھیپ آتی تو چوہوں کی عید ہوجاتی۔ جب سیر ہو کر کھانے کے بعد ان کے پیٹ لٹک جاتے تو وہ نئے نئے خواب دیکھنے لگتےاور اس قسم کی تقریریں کی جاتیں،

’’ عزیز ہم وطنو! آخر ہم کب تک چوہے دانوں اور بلی کا شکار ہوتے رہیں گے۔ آخر کب وہ انقلاب آئے گا جب ہر گودام، ہر باورچی خانہ اور ہر پرچون کی دوکان پر ہماری حکومت ہوگی؟‘‘

اگلا نوجوان چوہادونوں ٹانگوں پر کھڑا ہوکر پہلوانوں کی طرح ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہتا،’’اس بار نامراد بلی مجھے نظر آجائے پھر دیکھنا اس کا کیاحشر کرتا ہوں۔ ظلم سہنا بھی ظالم کی حمایت کرنے کے برابرہے۔‘‘

اس کے بعدضعیف چوہا کھانستے ہوئےبولتا، ’’ہم صدیوں سے بلی کے مظالم سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں ایک بار پھر کہتا ہوں اگر ہم بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہمیشہ کے لئےمحفوظ ہوجائیں گے۔‘‘

بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی تدبیر واقعی چوہوں کی قوم میں ایک عرصہ سے گردش کر رہی تھی۔ اس سلسلہ میں کچھ سنجیدہ اور انقلابی اقدامات بھی ہوئے لیکن کامیابی نہ ہوسکی۔ ایک بار چند نوجوان وہ گھنٹہ گھسیٹ لائے جو اسکول میں لکڑی کے ہتھوڑے سے بجایا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بھاری تھالی نما گھنٹہ سپاہیوں سے سنبھل نہ سکا ، اس کے گرنے سے دو تین چوہے اسی کے نیچے دب کر مرگئے۔ دوسری بار کچھ کم فہم نوجوان کسی بیل کی گھنٹی گھسیٹ لائے۔ اس کے گھسیٹنے میں ایسا شور مچا کہ سوئی ہوئی بلیاں جاگ گئیں اور یوں تمام انقلابی بلیوں کے ہتھے چڑھ گئے۔

جو جو، ایک نہایت چالاک، شریر اور نڈر چوہا تھا۔ والدین کے بار بار منع کرنے کے باوجود وہ چوہے دان میں لگا مکھن، پنیر یا ڈبل روٹی کا ٹکڑا صاف نکال لاتا اور چوہے دان کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ جاتا۔ جو جو بھی اپنے بزرگوں کے دعوے اور احمقانہ تقریریں سنتا رہتا۔ آخر اس نے بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کا بیڑا اٹھایا۔اس نے اپنے تینوں دوستوں چوں چوں، گو گواور چمکو کو اپنی اسکیم تفصیل سے سمجھائی اور تنبیہہ کردی کہ اس اسکیم کی اطلاع کسی بزرگ کو نہ دی جائے۔

چمکو کا گھر بوتل گلی کی مشہور دوکان،مکہ عطر ہاؤس میں تھا۔ چاروں دوست وہاں سے ایک خوبصورت سنہری عطر کی خالی شیشی لے کر آئے اور اسے صاف کر کے ایک مخمل کی ڈبیا میں رکھ دیا۔

اگلے دن چاروں دوست وہ شیشی لے کر پھول باغ پہنچے۔ ایک کیاری میں چنبیلی کے پھول آنکھیں موندے سورہے تھے۔ جو جو نے ان کی نازک گردن ہلا کر کہا۔

’’چنبیلی بہن! معاف کرنا ہم آپ کی نیند میں مخل ہوئے۔ آپ کی بہت مہربانی ہو گی، اگر آپ اپنی خوشبو کےچند قطرے عنایت کردیں۔‘‘ چنبیلی نے مسکراتے ہوئے چند قطرے شیشی میں ٹپکا دیئے۔

اس کے بعد چاروں دوست گلاب کے پاس گئے جو بلبل سے باتیں کر رہا تھا۔ چوں چوں نے گلاب کو سلام کر کے کہا۔

’’پھولوں کے راجہ اگر آپ ہمیں اپنی خوشبو کے چند قطرے دے دیں تو آپ کا بہت احسان ہوگا۔‘‘

’’ارے ہمارا تو کام ہی خوشبو بانٹنا ہے۔ بھرلو شیشی۔‘‘ گلاب نے ہنس کر کہا۔

یوں چاروں دوست بیلا، چمپا، رات کی رانی، دن کا راجہ کے پاس بھی گئے اور ان کی خوشبوؤں کے قطرے بھی حاصل کر لئے اور سنہری شیشی پتوں میں چھپادی۔

بلیوں نے اپنے اپنے علاقے بانٹ رکھے تھے اور برکت فلورمل پر مانو چمپا کی حکومت تھی۔ جو جوکو علم تھا کہ 22 جنوری کو بی چمپا کی سالگرہ ہے اور اس دن فلورمل کی چھت پر علاقے کی بلیاں جمع ہو کر جشن منائیں گی اور یوں اس دن چاروں دوست اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر ایک چوہے گاڑی پر وہ خوشبوؤں سے بھری شیشی لاد کر اس وقت چھت پر پہنچے جب بلیوں کا جشن عروج پر تھا۔ فرش پر ایک سفید دسترخوان پر گوشت کی بوٹیوں، نرم نرم ہڈیوں اور مچھلیوں کا ڈھیر تھا۔ مٹی کے کونڈوں میں دودھ بھرا ہوا تھا۔ چاروں دوست ایک کونے میں خاموشی سے بیٹھ گئے۔

کچھ دیر بعد جب بی چمپا کی نظر ان چاروں پر پڑی تو اس کی دم اور کمر کے بال کھڑے ہوگئے اور اس نے چیخ کر کہا۔’’تم! تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہماری محفل میں آنے کی‘‘

ایک اور مہمان بلی ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولی۔’’چلو اچھا ہوا۔ اب کھانے کے مینو میں ان چاروں کا بھی اضافہ ہو جائے گا۔‘‘

جو جو نے ادب سے سرجھکا کر کہا۔

’چمپا بہن ہماری نیت صاف ہے۔ ہم لوگ آپ کی سالگرہ پر ایسا نایاب تحفہ لے کر آئے ہیں کہ آپ کا دل باغ باغ ہوجائے گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے جب جو جو نے خوشبو کی شیشی کا ڈھکنا کھولاتو مست کر دینے والی خوشبو چاروں طرف پھیل گئی۔ مانو چمپا نے حیرت سے سنہری شیشی کی طرف دیکھا اور پھر چند قطرے اپنے ریشمی بالوں پر لگا لئے جس سے اس کے پورے جسم سے خوشبوؤں کی لپٹیں اٹھنے لگیں۔ چمپا نے خوش ہو کر کہا۔ ’’واقعی تم لوگوں کا تحفہ لاجواب ہے۔ اس لئے ہم اس خوشی میں آج تم لوگوں کو نوش فرمانے کا ارادہ ترک کرتے ہیں۔‘‘

اس کے بعد جب بھی بی چمپا خوشبو لگا کر نکلتیں تو چاروں طرف مہک پھیل جاتی اور تمام چوہے محفوظ مقامات پر پہنچ جاتے اور یوں جو جو کی عقلمندی سے آخر کار چوہے بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کے بجائے انہیں خوشبو میں معطر کرنے میں کامیاب ہوگئے اور ان کی صدیوں پرانا بلی سے ہوشیار رہنےکا خواب پورا ہوگیا۔