• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جرمنی کے قلعے اور محلات، عظیم تعمیراتی شاہکار

جرمنی اپنے قدیم اور عظیم قلعوں اور محلات کی خوبصورت تعمیر اور ڈیزائن کے حوالے سے ایک پہچان رکھتا ہے، جو ہر سال دنیا بھر کے لاکھوں سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بنتے ہیں۔ ایک اندازہ ہے کہ جرمن شہر منہائم سے جمہوریہ چیک کے شہر پراگ کے راستے پر 90سے زائد قلعے اور محلات واقع ہیں۔ یہ کسی لڑی میں پروئے موتیوں کی طرح ہیں۔ ذیل میں ان میں سے کچھ خوبصورت عمارتوں کا تعارف پیش کیا جارہا ہے۔

ہائیڈل برگ

قلعوں اور محلات کے اس راستے (کاسل روڈ) پر سب سے پہلے ہائیڈل برگ کیسل آتا ہے، جو دریائے نیکر کے کنارے واقع ہے۔ 17ویں صدی کے دوران جنگوں سے اس کو بہت نقصان پہنچا تھا، تاہم اس کے کھنڈرات کو محفوظ بنا لیا گیا ہے۔ رومانوی دور کے مصوروں نے اسے اپنی پینٹنگز کے ذریعے امر کر دیا ہے۔

نیکر شٹائن آخ

اسی راستے پر مزید آگے جائیں تو آپ کو نیکر شٹائن آخ میں چار قلعے ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ کاسل روڈ پر ایک چھوٹے قصبے کا یہ ’غیر سرکاری ریکارڈ‘ ہے۔ ان میں سے دو قلعے آج بھی ناصرف بہتر حالت میں ہیں بلکہ آباد بھی ہیں۔ وہاں رہنے والے خاندانوں کی اجازت سے انہیں اندر جا کر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

نیکر سِیمرن

نیکر سِیمرن علاقے میں واقع ہورنبیرگ قلعے کو دریائے نیکر کے کنارے واقع سب سے قدیم اور بڑا قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ جرمنی کے مشہور ادیب گوئٹے نے اپنی زندگی کے 45برس یہاں بسر کیے۔ 1773ءمیں انھوں نے اپنے اولین ڈراموں میں سے ایک ڈرامہ یہاں ہی لکھا تھا۔ اب اس قلعے کو ایک ہوٹل اور ریستوران میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

نوئن شٹائن

کاسل روڈ پر مزید آگے جائیں تو آپ کو جرمنی کے خوبصورت ترین قلعوں میں سے ایک نوئن شٹائن نظر آئے گا۔ اس محل میں نادر پینٹگز کے ساتھ ساتھ کئی دیگر قدیم اشیا بھی موجود ہیں۔ آپ ایک ایسی جوتی کی تعریف بھی کر سکتے ہیں، جو کبھی روسی مہارانی کیتھرین دا گریٹ کی تھی۔

بامبرگ

بامبرگ کی سات پہاڑیوں میں سے اونچی ترین پہاڑی پر آلٹن بُرگ قلعہ واقع ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس کا ذکر 1109ء میں ملتا ہے۔ 14ویں سے 16ویں صدی تک یہ بشپ آف بامبرگ کی رہائش گاہ رہا۔ تاہم 1980ء کی دہائی میں اسے سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا۔

لیشٹن آؤ

آنس باخ ڈسٹرکٹ میں واقع لیشٹن آؤ قلعہ قرون وسطیٰ میں تعمیر کیا گیا تھا۔ 16ویں اور 17ویں صدی کی مقامی جنگوں میں یہ تباہ ہو گیا تھا۔ بعدازاں اس کی تعمیرنو اطالوی ڈچ قلعوں کے طرز تعمیر پر کی گئی۔

گرائفن شٹائن

یہ قلعہ 17ویں صدی سے شینک فان شٹاؤفن برگ خاندان کی ملکیت میں ہے۔ اسی خاندان کے کرنل کلاؤز شینک گراف فان شٹاؤفن برگ نے 1944ء میں آڈولف ہٹلر پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ نتیجتاً یہ قلعہ جلا دیا گیا تھا، تاہم بعدازاں اس کی تعمیر نو کی گئی۔

لانگن بُرگ

یاگسٹ وادی کے بلند ترین مقام پر لانگن بُرگ نامی یہ قلعہ واقع ہے۔ یہ محل 13ویں صدی سے ہوہن لوہے کے شاہی خاندان کی ملکیت ہے اور آج بھی ان کی رہائش گاہ ہے۔ اس قلعے میں ایک کیفے کے ساتھ ساتھ ایک کار میوزیم بھی موجود ہے۔

کو بُرگ

کو بُرگ قلعہ شہر کا ایک دلکش نظارہ پیش کرتا ہے۔ یہ 167میٹر کی پہاڑی پر تعمیرکردہ ہے۔ اس کا شمار جرمنی کے ان قلعوں میں ہوتا ہے، جو آج بھی اپنی بہترین حالت میں موجود ہیں۔ 1530ء میں کلیسا میں اصلاحات کے بانی مارٹن لوتھر نے چھ ماہ تک یہاں قیام کیا تھا۔

کروناخ

جرمن سرحد کے اندر واقع کاسل روڈ کا آخری اسٹاپ کروناخ شہر میں بنتا ہے۔ روزنبرگ قلعے کی 750 سالہ تاریخ میں کبھی بھی اس پر حملہ نہیں کیا گیا۔ آج اس کے ایک حصے کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں 13ویں سے 16ویں صدی کی پینٹنگز رکھی گئی ہیں۔ اس کے بعد کاسل روڈ جمہوریہ چیک میں سے ہوتا ہوا پراگ تک جاتا ہے۔