• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری

نبی کریم ﷺ نے خطبہ دیا اور اس میں ارشاد فرمایا:اللہ عزو جل نے تم لوگوں پر حج فرض کردیا ہے ۔لہٰذا اب تمہیں حج ادا کرنا ہے۔ ایک صحابی رسولؐ یہ سن کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: اے اللہ کے رسولﷺ ! کیاہر سال حج کرنا ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دوں تو یہ ہر سال کے لیے فرض ہوجائے گا اور اگر یہ ہر سال کے لیے فرض ہوگیا تو تم نہیں کرپائو گے۔یعنی تمہارے اندر اتنی طاقت ہی نہیں ہوگی کہ ہر سال سفر حج کرسکو۔ لہٰذا یہ بات ذہن نشین کرلو کہ حج ایک بار ہی فرض ہے، البتہ جو ایک سے زائد بار کرے ،وہ اس کے لیے نفل ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے:’’اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو،وہ تمہارے پاس پیدل اور دبلے او نٹوں پر سوار حاضر ہوجائیں گے جو دور دراز کے راستوں سے آتے ہیں، تاکہ وہ اپنے فوائد بھی پائیں اور قربانی کے مقررہ دنوں کے اندر اللہ نے جو مویشی چوپائے انہیں بخشے ہیں ،ان پر ذبح کے وقت اللہ کا نام بھی ذکر کریں، پس تم اس میں سے خو د بھی کھائو اور خستہ حال محتاج کو بھی کھلائو‘‘۔

دورانِ حج حاجی دینی اور دنیاوی دونوں منافع وفوائد کااپنی دیکھتی آنکھوں سے مشاہدہ کرتا ہے۔ حج کے دنیوی منافع و فوائد یہ ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمان کلمہ گو ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں، ایک دوسرے سے ان کا تعارف ہوتا ہے، رابطہ قائم ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کے مزاج و معاملات سے آگاہی ہوتی ہے۔ ایک خطے کے مسلمان دوسرے خطے کے مسلمان کے احوال سے آگا ہ ہوتے ہیں ۔امت مسلمہ کے ایک عالمی اخوت وبھائی چارے کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔ اور آخرت کے حوالے سے فوائد یہ ہیں کہ جب بندہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے سب سے ہٹ کر اور کٹ کر عازم حج ہوتا ہے اور مقامات مقدس پر اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرتا ہے، روتا گڑگڑاتا ہے، اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوتا ہے، معافی کا طلب گا ر ہوتا ہے تو اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ،عمل صالح کی توفیق نصیب ہوتی ہے ،دنیا وآخرت دونوں بنتی سنورتی ہیں۔

حج بیت اللہ الحرام قدیم عبادت ہے۔ سابقہ امتوں کے رسُول و انبیاء اور اُن کے امتی حج بیت اللہ کے لیے یہاں حاضر ہوتے رہے ہیںاور مناسک حج ادا کرتے رہے ہیں۔حضر ت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ کا وادئی عسفان سے گزر ہوا اور آپﷺ نے اپنے رفیق سفر حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے فرمایا: اے ابو بکرؓ! یہ وہی وادی ہے کہ جس میں سے حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام اپنی جوان اونٹنیوں کے ہم راہ گزرے تھے۔ ان اونٹنیوں کے مہاریں کھجور کی چھال کی بنی ہوئی تھیں اور ان کے سفر کا مقصد بیت اللہ کا حج کرنا تھا۔پھر نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ستر پیغمبر اور بذاتِ خود حضرت شیث علیہ السلام ہجرت کی نیت سے مقام اوحاء سے گزرے تھے۔

بعثتِ نبویؐ سے قبل بھی مکہ والے حج کیا کرتے تھے، لیکن اس خالص توحید پر مبنی عبادت میں انہوں نے شرکیہ رسومات کو بھی شامل عبادت کردیا تھا، حالاں کہ یہ گھر خالصتاً اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا، چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: بے شک، سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا ،وہی ہے جو مکہ میں ہے ،برکت والا ہے اور سارے جہاں والوں کے لیے مرکزِ ہدایت ہے ۔اس میں کھلی نشانیاں ہیں،ان میں سے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جائے قیام ہے اور جو اس میں داخل ہوگیا، امان پاگیا اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو اور جو اس کا منکر ہو تو بے شک ،اللہ سب جہانوں سے بے نیاز ہے ۔

حضرت ابو ذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا، اے اللہ کے رسولﷺ!اللہ کی عبادت اور بندگی کے لیے کون سا گھر سب سے پہلے زمین پر بنایا گیا؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مسجد الحرام، میںنے عرض کیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺنے فرمایا: مسجد الاقصیٰ، پھر میں نے دریافت کیا کہ دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چالیس سال کا۔

حج ۹حجری میں فرض ہوا تھااور نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکرصدیق ؓکی سربراہی میںحج کا پہلا قافلہ روانہ فرمایا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی حج کو روانگی کے بعد آپ ﷺنے سیدنا علی المرتضیٰ ؓ کو سورۂ برأت کی ابتدائی چالیس آیات لے کر روانہ فرمایا، تاکہ وہ حج کے موقع پر حجاج کرام کو بآواز بلند پڑھ کر سنائیں۔ جن میں دیگر باتوں کے ساتھ یہ اعلان بھی تھا کہ آئندہ سال سے کسی کافرومشرک کو مکہ مکرمہ آنے کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی فرد بیت اللہ کابے لباس ہوکر طواف کرے گااور جب قبائل نے جس معینہ مدت کے لیے نبی کریمﷺ سے معاہدہ کر رکھا ہے،اس مدت تک ان کا معاہدہ برقرار رہے گا، دراصل عربوں نے ایام جاہلیت سے حج میں بے شمار شرکیہ خرافات کو شامل کرلیا تھا، قبیح ترین رسم یہ تھی کہ مرد وزن سب بے لباس ہوکر کعبۃ اللہ کا طواف کیا کرتے تھےاور یہ سمجھتے کہ ان کے کپڑے گناہوں خطائوں کے سبب ناپاک ہوچکے ہیں۔

حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریمﷺ اپنی قصواء نامی اونٹنی پر سوار ہوئے اور تلبیہ پڑھا تو اس راستے میں لوگ جوق در جوق والہانہ جوش وجذبہ کے ساتھ شریک قافلہ ہوتے رہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ جہاں تک میری نظر کام کرتی تھی، دائیں یا بائیں غرضیکہ ہر جانب سوار اور پیدل سر ہی نظر آتے تھے اور ہمارے درمیان اللہ کے رسول ﷺ کی سواری تھی اور وقتاً فوقتاً آپ پر آیات قرآنی بھی نازل ہو رہی تھیں،آپ جو عمل فرماتے ،ہم آپ کی اتباع میں ان اعمال کو دہراتے اور راستے میں تلبیہ پڑھتے رہے۔

جس وقت نبی کریم ﷺ تلبیہ پڑھتے تو ہم بھی لبیک اللھم لبیک کا نغمہ دہراتے۔ تلبیہ ایک سرمدی ترانہ ہے ۔جو فی الحقیقت کمالِ اطاعت اور فرماں برداری کے اعتراف کا مظہر ہے۔اس مقدس کلمے کو باربار دہرا کر بندہ اپنے رب سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ وہ اپنے آقاو مولیٰ کے در پر حاضر ہے۔مالک نے اپنے گھر پر آنے کا حکم کیا تو وہ فوراًحاضر ہوگیا کہ اب میں حاضر ہوں ۔علمائے اسلام فرماتے ہیں کہ رب ذوالجلال کے حضور اس کے بندوں کی طرف سے عاجزی و انکساری کے اظہار کے لیے اس سے زیادہ دوسرے الفاظ نہیں، تلبیہ کا تاریخی منظر یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تعمیر کعبہ کا حکم فرمایا تو حضر ت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کے اس حکم کی فوری تعمیل کی اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس کام میں اپنی مدد کے لیے شامل کرلیا ،جب کعبے کی تعمیر مکمل ہوگئی تو اللہ رب العزت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اب لوگوں کو حج اور اس گھر کی حاضری کے لیے بلائو،حضر ت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:اے میرے رب!یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے ،پھر میری آواز کو اور میری صدا کو کون سنے گا؟

اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا: اے میرے خلیل! آواز دینا تمہارا کام ہے اور تمہاری آواز کو لوگوں تک پہنچادینا ہمارا کام ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جبل ابو قبیس پر چڑ ھ کر لوگوں کو پکارا، اے لوگو! تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے تو تم اس کا حج کرو۔ چناں چہ لبیک اللھم لبیک کی صدا لگاتے ہوئے حجاج کرام اپنے رب کی اس پکار کا جواب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں، بے شک سب تعریف اور نعمت صرف تیرے لیے ہے اور تیری بادشاہت میں بھی تیرا کوئی شریک نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ تمام حجاج کرام کے مناسک حج قبول فرمائے اور تمام مو منین کو حج بیت اللہ کی عبادت اور دربار نبوی ﷺ کی زیارت نصیب فرمائے۔ (آمین)