سائنس دانوں نے صحت مند خلیات کو نقصان پہنچائے بغیر کینسر سے متاثر خلیات کو مارنے کا انوکھا طریقہ دریافت کر لیا۔
کینسر کے موجودہ بیشتر علاج ٹیومر کے ساتھ ساتھ صحت مند بافتوں کو بھی متاثر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں سنگین مضر اثرات سامنے آتے ہیں، اس ضمنی نقصان کو کم کرنے کے لیے محققین ایسے طریقۂ علاج کی تلاش میں ہیں جو صرف کینسر خلیات کو نشانہ بنائیں۔
اسی سلسلے میں یونیورسٹی آف جنیوا اور یونیورسٹی آف ماربرگ کی قیادت میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم نے ایک غیر معمولی حکمتِ عملی دریافت کی ہے، جس میں امینو ایسڈ سسٹین کی شبیہ استعمال کی گئی ہے۔
سلفر پر مشتمل یہ مالیکیول بعض اقسام کے کینسر کی افزائش کو نمایاں طور پر سست کر دیتا ہے، جبکہ صحت مند خلیات پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا، چونکہ یہ مرکب بنیادی طور پر مخصوص کینسر کے خلیات کے ذریعے جذب کیا جاتا ہے، اس لیے یہ خلیاتی تنفس اور ڈی این اے کی تیاری جیسے اہم افعال میں خلل ڈالتا ہے۔
چوہوں پر کیے گئے تجربات میں اس طریقۂ کار نے جارحانہ چھاتی کے کینسر کی نشوونما کو نمایاں طور پر کم کیا، جو ایک ہدفی اور مؤثر علاج کی امید افزا سمت کی نشاندہی کرتا ہے، یہ نتائج سائنسی جریدے نیچر میٹابولزم میں شائع ہوئے ہیں۔
یونیورسٹی آف جنیوا کی ٹیم نے مختلف امینو ایسڈز کے کینسر خلیات پر اثرات کا جائزہ لیا، تجربات سے معلوم ہوا کہ ڈی سسٹین (D-Cys)، جس میں سلفر ایٹم شامل ہوتا ہے، لیبارٹری ماحول میں بعض کینسر خلیات کی افزائش کو مؤثر طور پر روکتی ہے، اہم بات یہ ہے کہ صحت مند خلیات اس سے متاثر نہیں ہوئے، جو اسے غیر معمولی بناتا ہے۔
محققین کے مطابق کینسر اور صحت مند خلیات کے درمیان یہ فرق آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے، D-Cys ایک مخصوص ٹرانسپورٹر کے ذریعے خلیات میں داخل ہوتا ہے، جو صرف بعض کینسر خلیات کی سطح پر موجود ہوتا ہے۔
محققین نے مزید بتایا کہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ اگر یہی ٹرانسپورٹر صحت مند خلیات کی سطح پر ظاہر کر دیا جائے تو وہ بھی D-Cys کی موجودگی میں بڑھنا بند کر دیتے ہیں۔
یونیورسٹی آف ماربرگ کی ٹیم کے ساتھ اشتراک کے نتیجے میں سائنس دانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ D-Cys کس طرح زہریلا اثر ڈالتا ہے۔
محققین کے مطابق یہ مائٹوکونڈریا جو خلیے کے پاور ہاؤسز کہلاتے ہیں، میں موجود ایک اہم خامرے NFS1 کو بلاک کر دیتا ہے، یہ خامرہ آئرن سلفر کلسٹرز کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جو خلیاتی تنفس، ڈی این اے اور آر این اے کی تیاری، اور جینیاتی سالمیت برقرار رکھنے جیسے متعدد حیاتیاتی عمل کے لیے ناگزیر ہیں۔
اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہ طریقہ محفوظ اور مؤثر ثابت ہو جاتا ہے تو ڈی سسٹین اُن سرطانوں کے لیے ایک سادہ، جدید اور منتخب علاج فراہم کر سکتا ہے جو متعلقہ ٹرانسپورٹر کو زیادہ مقدار میں ظاہر کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ بیماری کے پھیلاؤ کے اہم مرحلے یعنی میٹاسٹسس کی روک تھام میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے، جو کینسر کی شدت میں اضافے کا بنیادی سبب بنتا ہے۔