• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تھری ڈی پرنٹنگ سے لے کر حیاتی مال سے تیار کردہ مواد (بائیو مینوفیکچرڈ مٹیریل) تک، تعمیرات کی نئی ٹیکنالوجیز کو ہاؤسنگ کے عالمی بحران (جس سے 2025ء تک دنیا کے 1.6ارب افراد کے متاثر ہونے کا اندازہ ہے) کا تیزاور سستا تر حل قرار دیا جارہا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجیز، تعمیراتی ضیاع میں بڑے پیمانے پر کمی لاکر ناصرف ماحولیات پر کم بوجھ ڈالیں گی بلکہ یہ کاربن نیوٹرل یا کسی حد تک نیگیٹو بھی ثابت ہوں گی۔ 

کاربن نیوٹرل کا مطلب وہ عمارتیں ہیں، جن سے کاربن کا اخراج صفر ہوتا ہے جب کہ نیگیٹو کا مطلب وہ عمارتیں ہیں، جو ناصرف خود کاربن خارج نہیں کرتیں بلکہ اس کے برعکس ماحول سے کاربن کو جذب بھی کرتی ہیں۔ تعمیراتی صنعت میں ان نئی ٹیکنالوجیز کا پرجوش خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ اب بھی موجود ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجیز توقعات پر پوری اُتر سکیں گی؟

یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ہاؤسنگ کی نئی ٹیکنالوجیز سے تعمیراتی ضیاع او رکاربن اخراج میں بڑے پیمانے پر کمی آئے گی، تاہم جب تک اس کے ساتھ دیگر تبدیلیاں عمل میں نہ لائی جائیں، ہاؤسنگ بحران کو کم نہیں کیا جاسکتا۔ درحقیقت، امریکا میں پری فیبریکیٹڈ گھر وں کی ٹیکنالوجی 19ویں صدی کے اوائل سے موجود ہے اور ایک کمپنی نے امریکا میں کئی ہزار سستے گھر فروخت بھی کیے لیکن ایک صدی گزرنے کے بعد بھی تعمیراتی شعبے میں پری فیبریکیشن کو نئی ٹیکنالوجی تصور کیا جاتا ہے اور یہ اب بھی بڑے پیمانے پر استعمال میں نہیں آسکی۔ ہاؤسنگ کے عالمی بحران کو حل کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کو استعمال میں لاتے وقت درج ذیل چیزوں کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔

صارف کو مرکز بنائیں

ہاؤسنگ کی عالمی مارکیٹ اپنے پیشگی متعین کردہ معیارات کے گرد چل رہی ہے، جس میں نئی تعمیرات اور ہوم اونرشپ پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ ہرچندکہ کسی بھی صنعت میں معیارات کا ہونا پیداواری صلاحیت میں اضافے اور لاگت میں کمی کا باعث ہوتا ہے، تاہم ساکن معیارات مختلف لوگوں، طبقات اور خطوں کی مختلف ضروریات میں نہیں ڈھل سکتے۔ مثال کے طور پر، میکسیکو میں ریڈی میڈ ہوم کی ٹیکنالوجی کو جب کم مطلوب مقامات پر متعارف کرایا گیا تو وہاں ہاؤسنگ مارکیٹ کریش کرگئی۔ میکسیکو کے ان مقامات پرریڈی میڈگھر اب بھی خالی پڑے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو انتخاب کے لیے مختلف آپشنز پیش کیے جانے چاہئیں۔ 

کووِڈ-19بحران نے ہاؤسنگ میں تبدیلی کو اپنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے: اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کے مکینوں کے پاس آپشن ہونا چاہیے کہ وہ گھر میں بآسانی نئی دیواروں کا اضافہ کرسکیں یا کسی دیوار کو گرا سکیں، تاکہ مکین دفتر سے دور گھر میں دفتری کام انجام دینے کے لیے گھر کے ڈیزائن میں ترامیم لاسکیں۔ لوگوں کو صرف نئی تعمیرات کی ضرورت ہی نہیں بلکہ کئی لوگوں کو گھر کی سادہ سی مرمت، بحالی یا اَپ گریڈ کرنے کی سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ 

اندازہ ہے کہ اس وقت جو عمارتیں موجود ہیں، ان میں سے دو تہائی عمارتیں 2050ء میں بھی زیرِ استعمال ہوں گی، جو اس وقت کئی ڈھانچہ جاتی اور ماحولیاتی مسائل کا باعث بنیں گی، جب کہ معیارِ زندگی پر ان کے اثرات اس کے علاوہ ہوں گے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی دستیاب ہے: بے قاعدہ آبادیوں کی نقشہ سازی کے لیے ’تھری ڈی اسکین‘ اور گرنے کے خطرات سے دوچار عمارتوں کی کم خرچ میں نشاندہی کے لیے مشین لرننگ سوفٹ ویئر کا استعمال۔ مزید برآں، محفوظ اور سبز گھروں کو فروغ دینے کے لیے ’لائٹ ریفلیکٹنگ پینٹ‘ اور کم لاگت ڈھانچہ جاتی ’رَیٹروفِٹ‘ تکنیکوں کا استعمال دوررس نتائج دے سکتا ہے۔

فائنانسنگ اسکیمیں

آج دنیا بھر میں کئی گھرانے بینک سے مارگیج حاصل نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ یا تو بے قاعدہ (اِن فارمل) معیشت کا حصہ ہیں یا ان کے پاس زمین کے ٹائٹل کے کاغذات نہیں ہیں۔ آمدنی کا ثبوت اور ڈاؤن پے منٹ کی شرائط بھی کئی لوگوں کو مارگیج تک رسائی حاصل کرنے سے روک دیتی ہیں۔ فِن ٹیک میں جدت لاکر، بے قاعدہ معیشت کا حصہ سمجھے جانے والے خاندانوں کی بے قاعدہ آمدنی کی تصدیق اور اسے تسلیم کرتے ہوئے انھیں ہاؤسنگ مارگیج کے اہل بنایا جاسکتا ہے۔ ا س سلسلے میں بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی سستے حل فراہم کرسکتا ہے۔

ہاؤسنگ کے منفرد سلوشنز تخلیق کریں

گھر کی ملکیت کے بین الاقوامی تصور نے غیرمساویت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ گھر کو قابلِ دسترس بنانے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ اس کا ایک حل Rent-to-own-start-ups ہوسکتے ہیں۔ جس طرح ایئر بی این بی نے ’ویکیشن رینٹل‘ مارکیٹ میں انقلاب برپا کیا ہے، اسی طرح متذکرہ بالا اسٹارٹ اَپس کم آمدنی والے خاندانوں، پناہ گزینوں اور معاشرے کے نچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کے لیے بڑے پیمانے پر مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، جو مناسب کرایہ پر گھر کی تلاش میں مارے پھرتے ہیں۔ 

کئی شہروں میں مالک مکان، کرایہ داروں سے ناصرف بھاری پیشگی رقوم لیتے ہیں بلکہ کئی جگہوں پر ان کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ اگر اس شعبہ میں کچھ عالمی اسٹارٹ اَپس آجائیں تو کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے کرایہ کے گھروں کی ایک نئی مارکیٹ پیدا ہوسکتی ہے، اچھے کرایہ داروں کی بچتوں اور حقوق کو تحفظ حاصل ہوسکتا ہے اور رینٹل سبسڈی اسکیموں اور گارنٹی فنڈز کے ذریعے بھاری پیشگی رقوم کے مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔