• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گھر کی تزئینِ نوکی حکمت عملی ترتیب دینا

کوئی بھی چیز جب نئی ہوتی ہے تو کچھ عرصے تک اس میں مرمت کا کوئی کام نہیں نکلتا، لیکن مسلسل استعمال کے بعد کچھ عرصے میں وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگ جاتی ہے۔ ایسا ہی عمارت کے ساتھ بھی ہوتا ہے یعنی جب بھی پائیدار تعمیراتی مواد کے استعمال سے کوئی عمارت تعمیر کی جاتی ہے تو تقریباً 10سے 15سال تک اس میں کوئی کام نہیں نکلتا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موسم کی تبدیلی، ماحول اور استعمال کی وجہ سے عمارت میں مختلف نوعیت کے کام نکلتے رہتے ہیں۔

ایسے میں یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد عمارت کی تزئینِ نو کروائی جائے، اس طرح سالوں پرانی عمارت کبھی خستہ حال اور بوسیدہ نہیں ہوگی۔ گھر کی تزئینِ نو پر زیادہ رقم خرچ کیے بغیر بھی اسے نئی بنیادوں پر تعمیر کیا ہوا دکھایا جاسکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں خالی پلاٹ پر نیا گھر بنانا انتہائی مشکل ہے یا اگر آپ نے بنا بنایا پرانا گھر خریدا ہے تو اسے منہدم کرکے نئے سرے سے گھر تعمیر کرنے کے لیے بھی اچھی خاصی رقم درکار ہوتی ہے۔ ایسے میں گھر کی تزئینِ نو کروانا ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔ آج کے مضمون میں تزئینِ نوکے حوالے سے کچھ اہم اصول ہیں بیان کیے جارہے ہیں جو کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔

منصوبہ بندی کرنا

تزئینِ نو کے لیے سب سے پہلی چیز متاثر کن منصوبہ بندی کرنا ہے۔ اس کے لیے آپ کو کسی ماہر آرکیٹیکٹ کی خدمات حاصل کرنا پڑیں گی یا کسی تجربہ کار ماہر تعمیرات سے رابطہ کرنا پڑے گا کیونکہ تجربہ کار معمار یا ماہر تعمیرات ہی آپ کو بتا سکتا ہے کہ گھر کے کن حصوں میں متاثر کن تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ ممکن ہے کہ اس مقصد کے لیے گھر کا کچھ حصہ گرانا پڑے اور کہیں معمولی تبدیلی سے کام چل جائے۔ بجٹ کی کمی کے باعث اگر آپ یہ کام کسی ٹھیکیدار کے سپرد کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اس سے معلوم کریں کہ آپ کے بجٹ میں رہتے ہوئے گھر میں کتنی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

بجٹ مختص کرنا

جب بھی کوئی منصوبہ ترتیب دیا جاتا ہے تو اس پر عمل کرنے کےلیے بجٹ مختص کرنا پڑتا ہے۔ تزئینِ نو کا فیصلہ لینے کے بعد آپ نے منصوبہ بندی کے مرحلے میں یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ آپ کا بجٹ کتنا ہے اور آپ اس میں رہتے ہوئے گھر میں کیا کیا تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔ اگر آپ کچھ زیادہ تبدیلیوں کی خواہش رکھتے ہیں کیونکہ تزئینِ نو کا عمل روز روز نہیں کیا جاتا تو ایسے میں اپنے بجٹ پر نظرثانی کریں۔ 

ایک فہرست تیار کریں، جس میں تزئینِ نو کے دوران مختلف چیزوں پر اُٹھنے والے ممکنہ اخراجات اور تزئینِ نو کے بعد کی جانے والی آرائش و سجاوٹ پرآنے والے ممکنہ اخراجات درج کریں۔ یہ اصول نہ صرف تزئینِ نو بلکہ گھر خریدنے کے بعد اس میں شفٹ ہونے سے پہلے یا بعد میں کی جانے والی تھوڑی بہت تبدیلی پربھی لاگو ہوگا۔

تحقیق کرنا

ایک بار جب آپ بجٹ مختص کردیں تو پھر خود بھی مختلف چیزوں کے حوالے سے تحقیق کریں۔ سب کچھ معمار یا ٹھیکیدار پر چھوڑنے کے بجائے مارکیٹ جاکر دیکھیں کہ آپ تزئینِ نو کے دوران بجٹ میں رہتے ہوئے کس طرح جدید ٹرینڈز اور اسٹوریج آئیڈیاز پر عمل کرکے گھر میں نمایاں تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔ تزئینِ نو کے دوران آرائشی اشیا، پردے اور رنگ و روغن سے متعلق بھی تحقیق کریں کیونکہ گھر اس وقت ہی خوبصورت نظر آئے گا جب ہر چیز بہترین انداز سے کی گئی ہوگی۔

رنگ روغن کروانا

گھر کا بیرونی حصہ سب سے پہلے لوگوں کی توجہ حاصل کرتا ہے، لہٰذا ا س کی تزئین نو کے متعلق لازمی سوچیں۔ اگر آپ کا بجٹ بیرونی حصے میں ڈیزائن کی تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دیتا تو اس پر کم از کم رنگ ہی کروادیں۔ اگر آپ کا بجٹ رنگ کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا تو موجودہ رنگ کا ایک کوٹ کروادیں، اس طرح نیا پن آجائے گا۔ رنگ وروغن گھر کی تزئینِ نو میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گھر کی تمام دیواروں کا رنگ خراب نہیں ہوا تو آپ کچھ تبدیلی لانے کی غرض سے کسی ایک دیوارکا رنگ تبدیل کروادیں، رنگوں کا بہترین امتزاج گھر کو خوبصورت دکھائے گا۔

اس کے علاوہ دروازوں کی مرمت کے ساتھ ان پر پہلے سے موجو د رنگ کوہی دوبارہ کروانے کے بجائے ان کا رنگ تبدیل کروائیں تاکہ ایک خوشنما تبدیلی محسوس کی جاسکے۔ دروازوں کی طرح کھڑکیاں بھی تزئینِ نو کا اہم حصہ ہوتی ہیں۔ کمرے کو بڑا اور روشن دکھانے کے لیے چھوٹی کھڑکیوں کی جگہ بڑی کھڑکیاں لگوائیں۔ اگر یہ آپ کے بجٹ سے باہر ہو تو کھڑکیوں کو دوبارہ رنگ کروانے سے بھی مناسب تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ رنگ وروغن سے متعلق ایک بات یاد رکھیں کہ یہ گھر کی روشنی پر اثر انداز ہوتے ہیں، لہٰذا ان کے انتخاب کے دوران سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔

فرش کی تبدیلی

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فرش پرانا معلوم ہونے لگتا ہے جیسے کہ کئی پرانے گھروں میں آج تک موزائیک نظر آتا ہے۔ اگر آپ کا بجٹ اجازت دے تو ٹائل، ماربل، لکڑی وغیرہ جیسے تعمیراتی مواد کا استعمال کرکے فرش تبدیل کروائیں، بصورت دیگر کارپٹ بچھاکر بھی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

باورچی خانہ

گھر کا باورچی خانہ اگر چھوٹا ہے اور اس میں سامان بھی زیادہ موجود ہے تو جدید کیبنٹس لگوا کر آپ اس مشکل کا حل نکال سکتے ہیں۔ جدید کیبنٹ اسٹائل میں لکڑی یا اسٹیل استعمال کرتے ہوئے ایک کیبنٹ کو دو سے تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، اس طرح چھوٹے سے باورچی خانہ میں زائد سامان رکھنے کی گنجائش نکل آتی ہے۔

باتھ روم

باتھ روم کی آدھی ٹائل والی دیواروں کو مکمل ٹائل والی کروانےاور سینٹری سامان تبدیل کرنے سے نیا پن لایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ باتھ روم کی کسی ایک دیوار کے ٹائل تبدیل کروانے سے اس میں نیا پن لایا جا سکتا ہے۔