• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عزیر احمد

امریکی خلائی ادارہ ناسا نظام شمسی میں زمین کے گرم ترین ہمسایہ سیارے زہرہ کی طرف دو خلائی روبوٹک مشن بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ زمین کے چاند اور مریخ کی تسخیر کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ زہرہ کی طرف مشن بھیجنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔ امریکی ریاست فلوریڈا میں کیپ کنیورل کی رپورٹ کے مطابق ناسا کے نئے منتظم بِل نَیلسن کا کہنا ہے کہ ناسا مستقبل میں زہرہ کی طرف دو روبوٹک خلائی مشن روانہ کرے گا۔خلائی تحقیق کے ماہرین نظام شمسی کے بہت گرم ہمسایہ سیارے کو ’’اُبلتا ہوا‘‘ سیارہ قرار دیتے ہیں۔یہ پہلا موقع ہو گا کہ زمین پر سائنس دان ایک ایسے سیارے کی تسخیر کی کوشش کریں گے، جسے زمین کے نظام شمسی کا 'سب سے زیادہ نظر انداز کردہ سیارہ سمجھا جاتا ہے۔

نَیلسن کے مطابق یہ دونوں مشن ایک طرح سے جڑواں خلائی مشن ہوں گے اور ان کا مقصد یہ سمجھنے کی کوشش کرنا ہو گا کہ زہرہ کس طرح اتنا گرم ترین سیارہ بنا کہ وہاں کا درجہ ٔ حرارت اتنا زیادہ ہے کہ اس کی سطح پر سیسہ تک آسانی سے پگھل سکتا ہے۔ 'ان دونوں روبوٹک مشینوں میں ایک کا نام' ’’ڈاونچی پلَس‘‘ ہوگا ۔اس کے ذریعے زہرہ کی بہت کثیف بادلوں والی فضا کا مطالعہ کیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ کھوج لگانے کی کوشش بھی کی جائے گی کہ آیا اس سیارے پر کبھی کوئی سمندر بھی تھااور کیا یہ سیارہ قابل رہائش تھا یا نہیں ؟اس مشن کے دوران جو چھوٹی سی خلائی گاڑی زہرہ کی فضا میں بھیجی جائے گی، وہ اس سیارے کی فضا میں موجود گیسوں کے نمونے حاصل کر کے ان کا سائنسی مطالعہ بھی کرے گی۔

یہ مشن 1978ء کے بعد گزشتہ تقریباً نصف صدی میں امریکا کی سربراہی میں زہرہ کی فضا میں کوئی اسپیس کرافٹ بھیجنے کی اولین کوشش ہو گی۔ زہرہ کی طرف بھیجے جانے والے دوسرے مشن کا نام’’ 'ویریتاس‘‘ ہو گا اور وہ زہرہ کی سطح پر سخت چٹانی پتھروں کے نمونے حاصل کر کے یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ زمین کے اس پڑوسی سیارے کی ارضیاتی علوم کے حوالے سے کیا معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں؟ 

اب تک کی معلومات کے مطابق زہرہ کی فضا زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس سے بھری ہوئی ہے۔ٹام ویگنر کے مطابق ان دونوں خلائی مشینوں کی مدد سے اتنی زیادہ معلومات حاصل ہو سکیں گی کہ ایک طر ح سے یہ زہرہ کی دوبارہ دریافت ہوگی ۔یہ دونوں نئے خلائی مشن 2028ء اور 2030ء کے درمیان زہرہ کی طرف بھیجے جائیں گے اور ان کے لیے ناسا کے 'ڈسکوری پروگرام کے تحت فی کس 500 ملین ڈالر مہیا کیے جائیں گے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید