• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بولٹن کی ڈائری/ ابرار حسین
برطانیہ کے متعلق یہ تاثر یوں ہی قائم نہیں ہوا ہے کہ یہاں پر معیاری تعلیم کی درسگاہوں کا لامتناہی سلسلہ موجود ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ میں چاہے کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے اب کورونا وائرس کی وبا سے گھروں میں محصور رہنے کی وجہ سے بچوں کا جو تعلیم کا ضیاع ہوا ہے اس خلا کو پر کرنے کے لئے حکومت نے سمر اسکولوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے بولٹن میں بھی بچوں کو کرونا سے پیدا شدہ خلا دور کرنے کیلئے عمدہ کاوش کی گئی ہے۔ بولٹن کے 21 اسکولوں کے سیکڑوں طالب علم موسم گرما کی چھٹیوں میں سمر اسکولز میں "کیچ اپ کلاسز" پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں ۔ کیئرسلی اکیڈمی چھ ہفتوں کے وقفے کے دوران سمر اسکول ہوسٹ کرے گی ۔ تعلیم میں غیر معمولی رکاوٹ کے 17 ماہ کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے سمر اسکولوں کے لئے فنڈ کی فراہمی کی پیش کش کے بعد بولٹن بارو کے بہت سارے ہیڈ ٹیچرز کچھ طالب علموں، خاص کر چھوٹے بچوں کو مدعو کریں گے۔ اگرچہ اس میں حصہ لینے والے کسی بھی سیکنڈری اسکول کے طالب علم کو شرکت کے لئے مدعو کرسکتے ہیں لیکن تعلیمی سربراہان کا مشورہ یہ ہے کہ وہ ساتویں جماعت کے بچوں اور پھر جن بچوں کو زیادہ تر مدد، سپورٹ کی ضرورت رہتی ہے پر توجہ دیں۔ بولٹن کے وہ اسکول جو گرمیوں کے اسکولوں کی میزبانی کررہے ہیں وہ ویسٹنٹن ہائی، ٹورٹن، سینٹ جوزف کے آر سی ہائی، ماؤنٹ سینٹ جوزف ، رمورتھ ، لیڈی برج ہائی، ایسسا اکیڈمی ، کیئرسلی اکیڈمی ، اسمتھلس، ایڈن بوائز ، یونیورسٹی کولیجیٹ ، شارپلز ، لٹل لیور ، بولٹن مسلم گرلز ، یوتھ چیلنج پرو، لیور پارک، ہارپر گرین، ریونگٹن اور بلیکروڈ ہائی ، سینٹ جیمز چرچ آف انگلینڈ ہائی ، بولٹن سینٹ کیتھرین اکیڈمی اور کنگز لیڈرشپ اکیڈمی ہیںتاہم جہاں سیکنڈری اسکولوں میں موسم گرما کی مدت کے دوران بہتر کیچ آپ سیشنز شروع کیے گئے ہیں وہاں بیشتر پرائمری اسکول اپنے طلبا کو ثانوی تعلیم کے بارے میں ایک ہی سطح کے انضمام اور ٹیسٹر ڈیز کا انتظام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جن سیکنڈری اسکولوں نے یہ پروگرام شروع کیے ہیں ان سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ طلباء کے اسکولوں کے عملے کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور اپنے نئے ماحول کو محسوس کرنے کے لئے بہت سارے سیشنز استعمال کریں گے جس پر کلرنڈن سکول کی گورنر سمیرا حسین نے کہا ہے کہ ستمبر میں جب اسکول کی نارمل کلاسز شروع ہوں گی تو یہ بچے بہتر کارکردگی دکھا سکیں گے کیونکہ وہ نئے ماحول اور سٹاف سے مانوس ہو چکے ہوں گے۔ کاش برطانیہ کی طرح وطن عزیز پاکستان اور آزاد کشمیر میں بھی ارباب اختیار کورونا وائرس کی وبا سے ہمارے بچوں کا جو تعلیمی نقصان ہوا ہے اس کو دور کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات کریں ۔
یورپ سے سے مزید