• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹی وی مقامی فنکاروں کو نظرانداز کررہا ہے‘آصف شہزاد

پشاور (وقائع نگار) ٹی وی ‘ ریڈیو اور تھیٹر کے باصلاحیت اداکار آصف شہزاد نے کہا ہے کہ ایک وقت تھا جب پی ٹی وی کے ڈرامے بھارتی ایکٹنگ اکیڈمیز میں دکھائے جاتے تھےکیونکہ اس وقت پیشہ ورانہ تخلیق کار کام کرتے تھے اب ہرفرد کام کو بوجھ سمجھتا ہے۔ پی ٹی وی پشاور مرکز میں پروڈیوسر کو کام مل جائے تو پہلے تو آخری وقت تک ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طریقے سے یہ ڈرامہ یا پروگرام رک جائے اور جب مجبوراً کام کرنا پڑے تو اتنی بے دلی سے کرتے ہیں کہ اس پروجیکٹ کا بیڑہ غرق کر دیتے ہیں، اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ 15برس سے پشاور مرکز سے ایک اچھا ڈرامہ نہیں نشر ہوا جو عوام میں مقبول ہوا ہو اور نہ ہی کوئی سٹار بنایا گیااتنے عرصے میںمنظور نظر فنکار وں اور لکھاریوں سے استفادہ کیا گیا۔ ایک اداکار نجی پشتو چینل میں بیٹھ کر لائیو مارننگ شو میں پی ٹی وی کی دھجیاں اڑا تا ہے اور وہی اداکار پشاور مرکز کے اردو اور پشتو میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ لکیر کے فقیر اتنے کے جس اداکار کو ایک پروڈیوسر کاسٹ کرلے تو دوسرا پروڈیوسر کو بھی ڈرامہ ملے تو وہ اسے کو اپنے ڈرامے میں کاسٹ کرتا ہے،مجھ سمیت متعدد پشاوری فنکار وں کو پی ٹی وی نظر انداز ڈرامے اور فنکاروں کو کچل رہا ہے۔جب پشاور مرکز میں پروڈکشن بند تھی تو اس کیلئے پشاور کے فنکاروں نے سابق وزیر اطلاعات شبلی فراز و دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں ۔ ذاتی جیب سے پیسے خرچ کئے مظاہرے کئے لیکن جب کام شروع ہوا تو مجھ سمیت تمام مقامی فنکار بیروزگار جبکہ باہر سے فنکاروں کو یہاں لاکر کام کرایا جارہا ہے۔ایک لکھاری کا ڈرامہ ہندکو میں ناکام ہوا تو اسے بیچ میں ہی انجام تک پہنچانے سے پہلے بند کر دیا گیا ‘پھر اسی لکھاری کے ناکام ڈرامے کو اردو میں بنا کر نشر کیا گیا جس کا کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ ان دنوں اٹک پار چھوٹے چھوٹے کرداروں میں نظر آنے والا اداکار پشاور مرکز میں ہندکو اور اردو میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے جس کا مارکیٹنگ پوائنٹ آف ویو سے چہرہ بکتا ہے اور نہ ہی اس کی اداکاری متاثر کن ہے ۔
پشاور سے مزید