• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’میں قوم پرست تھا۔ میں قوم پرست ہوں‘‘

موت کی مانگ بڑھ گئی اتنی

زندگی منہ چھپائے پھرتی ہے

فیس بک کھولتے خوف آتا ہے کہ معاً کسی بہت ہی قریبی دوست کی تصویر نظر آئے گی اور ساتھ ہی یہ دل دہلادینے والی تحریر کہ اب وہ دنیا میں نہیں رہے۔ عمر کے آخری حصّے میں ایک عالمگیر وبا کے تھپیڑے بھی لگتے دیکھ لئے۔ عزیز و اقارب میں حلقۂ احباب میں سے کتنی ہستیاں یکے بعد دیگرے جاتی رہی ہیں۔ یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی۔ انسان خشک پتوں کی طرح جھڑ رہے ہیں۔ کووڈ 19 نے ویسے ہی تنہائی مسلط کر رکھی ہے۔ پھر ایسے لوگ اٹھ رہے ہیں جن سے محفلیں سجتی تھیں۔ جو شہر کی شاموں کی جان ہوتے تھے۔ کتنی کہانیاں ادھوری رہ رہی ہیں۔ میں اور میرے ہم عصر اکیلے ہوتے جارہے ہیں۔ آپ جب تک زندہ ہیں تو آپ کو نہ جانے کتنے جنازوں کو کندھا دینا ہوتا ہے۔ آخری آرام گاہوں پر مٹی ڈالنی ہوتی ہے۔ دعائے مغفرت کے لئے ہاتھ اٹھانے ہوتے ہیں۔

پرانے بادہ کش تیزی سے اٹھ رہے ہیں۔انتہائی با خبر، مستعد، میانہ رو عارف نظامی رخصت ہوگئے۔

خاموش ہوگیا ہے چمن بولتا ہوا

مسعود اشعر بلند قامت، نرم گو، افسانوں میں حقائق لکھنے والے بھی چلے گئے۔

اس ہفتے بہت ہی انہماک سے تسلسل سے حبیب جالب کے افکار واذکار کے لئے ہر سال امن ایوارڈ کی محفل سجانے والے ان کے بھائی سعید پرویز بھی اچانک دنیا سے منہ موڑ گئے۔ بہت دھیمے لہجے میں بولتے تھے۔ میں انہیں کہتا تھا کہ آپ اتنے بزرگ نہیں ہیں جتنی پیرانہ سالی طاری کر رکھی ہے۔ حقیقی معنوں میں ’ون مین آرمی‘۔ 2007 سے پاکستان کی انتہائی عظیم ہستیوں کو امن ایوارڈ دینے کا قابل تحسین سلسلہ جاری رکھے ہوئے۔ گیان چندانی، عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر ادیب رضوی، رتھ فائو، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، جمّی انجینئر، عاصمہ جہانگیراور اسی قدو قامت کی شخصیات۔ اپنے بھائی حبیب جالب کی کلیات بھی شائع کیں۔ ان کی پنجابی شاعری’’ رات کلہنی‘‘، اپنی والدہ ماجدہ کی یاد میں ’’اماں‘‘، والد صاحب کے بارے میں ضخیم سوانح ’’گھر کی گواہی‘‘۔ حبیب جالب پر جب بھی کسی کو تحقیق کرنا ہوگی تو سعید پرویز کی مرتبہ کتب سب سے مصدقہ حوالہ بنیں گی۔ کسی صلے کی تمنّا، نہ کوئی گلہ۔ وہ اکیلے ہی شہر میں گھومتے، اپنی کتاب اہلِ ذوق تک پہنچاتے نظر آتے تھے۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ ان کے صاحبزادے ڈاکٹر ذیشان یقیناً ان کی روشن کردہ مشعل لے کر آگے بڑھیں گے۔ حبیب جالب کے عقیدت مند اور سعید پرویز کے احباب ڈاکٹر ذیشان کی طاقت بنیں گے۔حبیب جالب کے اشعار اب صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دوسرے ملکوں بالخصوص بھارت میں احتجاج کے دوران ولولۂ تازہ پیدا کرتے ہیں۔ انڈیا میں بھی حبیب جالب کی شاعری پر بڑی تحقیق ہورہی ہے۔

اسی ہفتے ممتاز علی بھٹو بھی راہیٔ ملک عدم ہوگئے۔ پاکستان اور بالخصوص سندھ کی سیاست کا ایک بھرپور عہد ان کے ساتھ رخصت ہوگیا۔ ایک صحافی کی حیثیت سے ہمیں ان کا طنطنہ، غلغلہ، دیکھنا بھی نصیب ہوا۔ پھر ان کی خاموشی اور گمنامی بھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں۔ ایوب خان کے خلاف تحریک میں پیش پیش۔ پھر شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پہلی نشری تقریر میں ان کو Talented Cousin کہہ کر یاد کیا۔ پھر انہیں انتہا پسند سندھی کہا گیا۔ سندھی لسانی بل کی منظوری اور لسانی فسادات ان کا حوالہ بن گئے۔ وہ یقیناً ایک اچھے سخت گیر منتظم تھے۔ سندھ کے گورنر رہے یا وزیر اعلیٰ۔ انہوں نے اپنے اختیارات بھرپور انداز میںاستعمال کیے پہلے ان کے اور میر رسول بخش تالپور کے درمیان گورنری اور وزارتِ اعلیٰ کی رسہ کشی رہتی تھی۔ پھر ان کا تضاد غلام مصطفیٰ جتوئی سے رہا۔ وفاق کی حامی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے رشتہ ختم کرکے وہ ایک دَور میں کنفیڈریشن کے علمبردار رہے۔ پھر سندھی بلوچی پشتون فرنٹ کے قائد رہے جس طرح ہم نے اور بہت سے لوگوں کو ضائع کیاان کی صلاحیتوں اور توانائیوں سے بھی پورا فائدہ نہیں اٹھایا۔

ممتاز بھٹو صاحبِ مطالعہ تھے۔ ان کی لائبریری ان کے گائوں میں بھی اور کراچی کے مختلف گھروں میں بھی کافی وسیع تھی۔ بین الاقوامی امور اور تاریخ ان کے پسندیدہ موضوع تھے۔ ان سے 1973-1972 میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ’اخبار جہاں‘ کے لئے انٹرویو کیے۔ پھر 1975 میں وفاقی وزیر مواصلات ممتاز بھٹو سے۔ اب میں انہیں پڑھ رہا ہوں تو ان کا پاکستان اور سندھ سے درد محسوس ہورہا ہے۔ 1987میں ان سے انٹرویو زیادہ خیال انگیز ہے کہ انہیں بھٹو صاحب نے سندھ کی وزارتِ اعلیٰ سے کیوں ہٹایا؟ خاص وجہ یہ بتارہے ہیں کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس نے ان کے خلاف رپورٹیں بھیجنا شروع کی تھیں کہ سندھی قوم پرست ہے۔ اپنے عہدے کو اس کے لئے استعمال کررہا ہے۔ اس سلسلے میں انہیں دو مرتبہ اسلام آباد بلایا گیا۔ دونوں مرتبہ طویل میٹنگیں ہوئیں جن میں فوجی بھی تھےاور بیورو کریٹ بھی ۔ دوسرے ملکوں میں ہمارے سفیر بھی۔ افغانستان میں پاکستان کے سفیر ایم ایچ اصفہانی نے کہا کہ انہوں نے افغانستان میں سنا ہے کہ سندھ کا وزیر اعلیٰ سندھو دیش کی حمایت کررہا ہے۔ جئے سندھ کی مدد کررہا ہے۔ ممتاز صاحب نے ان سب کو جواب دیا کہ پہلے سندھ کے اندرونی علاقوں کو نظر انداز کیا گیا میں وہاں خاص طور پر ترقیاتی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہوں۔ میں نے انتہائی محبت کے ساتھ سندھ کے لوگوں کی خدمت کی ہے۔ میراضمیر مطمئن ہے۔ ان باتوں کی وجہ سے اگر مجھ پر قوم پرستی کا الزام لگایا جاسکتا ہے تو میں قوم پرست تھا۔ قوم پرست ہوں۔ اندرونی خواہش یہ تھی کہ چھوٹی قوموں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اگلے روز کراچی ایئرپورٹ پراترا تو معلوم ہوا کہ غلام مصطفیٰ جتوئی نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ میں دوسرے دن ہی کراچی سے چلا گیا اور جنگل میں گھرے ایک ریسٹ ہائوس میں جا کر ٹھہر گیا۔

اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور بہت سے احباب کی مفارقت سے بھی اس عرصے میں آنکھیںنم ہوئی ہیں۔ نصیر ترابی، طارق عزیز، دوست محمد فیضی، جاوید حسن علی، رشید امجد، آصف فرخی، انوار احمد زئی، آئی اے رحمٰن، عبدالحمید چھاپرا، جاذب قریشی اور ابھی حال ہی میں احتشام ارشد نظامی کے بڑے بھائی سید قیام نظامی جو خود ایک بڑے مورخ تھے اور بہت سی ایسی محبوب ہستیاں جو اپنے اپنے علاقے میں علم و فضل کا مینار تھیں۔ اللہ ان سب کی مغفرت فرمائے۔

تازہ ترین