• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پختونخوا میں کورونا ویکسین کے مقررہ اہداف حاصل نہیں کئے جاسکے

افغانستان سے امریکی اوردیگر غیرملکی افواج کے انخلا کا سلسلہ جس تیز ی کےساتھ جاری ہے اسی رفتار سے افغانستان میں ایک بار پھر اندرونی انتشاراور کشیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے، غیروں کے ہاتھو ں میں کھیلنے والےطالبان جنگجوئوں کی مسلسل ہٹ دھرمی اور پیش قدمی سے خیبرپختونخوا اور ملحقہ سابق قبائلی علاقوں میں بھی گہری تشویش پائی جاتی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر افغان تنازعے کے فریقین کے درمیان اسی طرح کشیدگی بڑھتی گئی اور مذاکرات کی بجائے بندوق اٹھائی جس کے امکانات زیادہ ہیں، تو اس آگ کے سرحد پار منتقل ہونے کے امکان کورد نہیں کیاجاسکتا، جبکہ اس کے اثرات سے خیبرپختونخوا اور ملحقہ سابقہ قبائلی اضلاع بھی محفوظ نہیں رہیں گے اور ایک مرتبہ پھر بڑی تعداد میں افغان باشندے ہجرت کرکے خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع کا رخ کرسکتے ہیں، جہاں پہلے ہی 12لاکھ سے زائد افغان مہاجرین موجود ہیں، اور مزید افغان مہاجرین کی آمد سے صوبے کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

افغان امن مذاکرات کے نتیجے میں افغانستان سے امریکی اور دیگر غیرملکی افواج کے انخلا کاسلسلہ جاری ہے جسے اس سال ستمبر میں مکمل ہونا ہے تاہم افغانستان کی بندلتی ہوئی سیاسی صورت حال کے پیش نظریہ انخلا ستمبر کے ڈیڈلائن سے قبل ہی مکمل ہوتا نظر آرہاہے، افغانستان میں ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کی فضاہے،اور طالبان کابل کے سو باقی تمام اضلاع پر قابض ہونےکے دعویدار ہیں تو افغان حکومت ان کے حملے پشپا کرنے کا دعوی کررہی ہے، دوسری طرف ،’’بلی تھیلے سے باہر آنے‘‘ کے مصداق امریکی حکام بھی طالبان کی فتوحات کے دعوے کررہے ہیں، اور گزشتہ روز ایک امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ طالبان نے افغانستان کے زیادہ تراضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔ 

اگر افغانستان میں جاری یہ کشیدگی میں یوں ہی بڑھتی گئی اور مسلہ مذاکرات کے زرئیے حل نہیں کیا جاتا ہے اور صورتحال خانہ جنگی کی طرف جاتی ہے تو اس کے اثرات سرحد پار بھی منتقل ہوسکتے ہیں، نہ صرف ہم اس آگ سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے بلکہ خیبرپختونخوا میں نئے مہاجرین کی آمد بھی ہوسکتی ہے،جہاں پہلے ہی بارہ لاکھ سے زائد افغان وہاں نئے افغان مہاجرین کی آمد سے اس بوجھ میں مذید اضافہ ہوسکتا ہے ، اگرچہ پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال اور افغانستان میں لگی آگ کو پاکستان منتقل ہونےسے روکنے کے پیش نظر پاک افغان سرحد کو مکمل طورپر محفوظ بنادیا گیا ہے تاہم پاکستانی حکام نے اس حوالے سے اپنی تیاریاں کررکھی ہیں۔ 

اس سلسلے میں پاک افغان سرحد کے قریب پاکستان کے سرحدی علاقوں میں مجوزہ کیمپوں کے قیام کے لئے ابتدائی طورپر جگہ کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، مگرا س کے قیام پر ابھی کام شروع نہیں کیا گیا ہے، فغانستان میں کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کےلئے ہمیں ابھی سے اپنی تیاریوں کی ضرورت ہے۔کیونکہ خیبرپختونخوا کے عوام پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی،بے روزگاری اور معاشی بد حالی کا شکارہے مذید معاشی بدحالی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ گزشتہ دنوں ضلع کوہستان کے علاقے داسو میں ایک دہشت گردی کاا یک افسوسناک واقعہ رونما ہو جس میں نامعلوم وہشت گردوں ایک بس کانشانہ بنایا جس میں داسو ڈیم کی تعمیر کے منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئرز سمیت 13افراد جان بحق ہوئے۔

اس افسوسناک واقعے کے بعد چین جو کہ ہمار ا یک انتہائی دیرینہ اور قابل اعتماد دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا نے بھی قدرے ناراضگی کا اظہارکیا ،جس کےبعداس اہم منصوبے پرکام بند کرنے کی اطلاعات موصول ہورہی تھی مگربعد میں چینی حکام نے اس کی تردید کرکے منصوبے پر کام جاری رکھنے کا اعلان کرکے ایسی تمام اطلاعات کو غلط ثابت کیا، ادھر خیبرپختونخوا میں محکمہ صحت اور سرکاری اداروں کی عدم دلچسپی کے باعث ابھی تک صوبے میں کورونا ویکسین کے مقررہ اہداف حاصل نہیں کئے جاسکے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں اب تک کورونا وبا کے ایک لاکھ 41 ہزار خیبرپختونخوا 4 کیسزسامنے آئے ہیں جبکہ اس وبا سے صوبے میں اب تک 405افراد جان بحق ہوچکے ہیں،و با پر قا بو پانے اور اسے کنٹرول کرنے کےلئے صوبائی حکومت نے صوبے میں یومیہ ایک لاکھ ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا تھا جس کے لئے موبائل ویکسین ٹیمیں بھی مقرر کی گئیں مگر اس کے باوجود مطلوبہ ہدف تاحال حاصل نہیں کیا جاسکا اور ویکسین کی یومیہ شرح 45ہزار سے زیادہ آگے نہیں جاسکا ،تاہم یہ خوش آئند ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کورونا کی چوتھی لہر کے پیش نظر یکم اگست سے اندرون ملک ہوائی سفر کے لیے کورونا سرٹیفیکٹ دکھانا لازمی قرار دے دیا ہے امید ہے کہ اس فیصلے کے بعد ملک میں کورونا ویکسین لگانے کی شرح میں جلد ازجلد خاطر خواہ اضافہ ہوگا ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید