• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

بلدیاتی ادارے فعال ہونے سے ن لیگ کو فائدہ ہوگا؟

پہلی بار آزاد کشمیرالیکشن کی حدت ان شہروں میں بھی محسوس کی گئی، جہاں آزاد کشمیراسمبلی کی نشستوں پر انتخابات ہورہے تھے ،ان میں ملتان بھی شامل ہے اور یہاں سب نے دیکھا کہ ایک طرف شاہ محمود قریشی ، ملک عامرڈوگر ،تو دوسری طرف سید یوسف رضا گیلانی اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم چلاتے رہے۔

ہر اس کشمیری ووٹر کے پاس گئے ،جو ملتان میں مقیم ہے اور جس نے آزاد کشمیر اسمبلی کے لئے اپنا ووٹ کاسٹ کرناتھا ،مسلم لیگ ن کی طرف سے سابق گورنر ملک رفیق رجوانہ اور آصف رفیق رجوانہ انتخابی مہم چلاتے رہے ، ایل اے 34 جموں کے ملتان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد صرف 87ہے ،اس حلقہ میں کوئی مقامی امیدوار نہ ہونے کی وجہ سے کسی نے دلچسپی نہیں لی اور صرف8ووٹ ہی کاسٹ ہوئے،تاہم ایل اے 42 کشمیر ویلی کے 15 سو کے قریب ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے پورازور لگایا، حتی کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اسلام آباد سے اپنے جاننے والے کشمیری ووٹرز کو فون پر ووٹ دینے کی اپیل کرتے رہے۔

اس حلقہ سے دو امیدوار تحریک انصاف کے عاصم شریف بٹ اور پیپلزپارٹی کے حفیظ بٹ کا تعلق ملتان سے ہے ،اس لئے انہوں نے مقامی قیادت کو اپنے ساتھ ملا کر اپنی انتخابی مہم چلائی اور یہ الیکشن تحریک انصاف کے عاصم شریف بٹ جیت گئے ،یہ انتخاب اس بات کا اشارہ ہیں کہ 2023ء میں ہونے والےپاکستان کے عام انتخابات کس فضا میں ہوں گے ، آزاد کشمیر کے انتخابات میں جس طرح کی انتخابی مہم چلائی گئی اور کشمیر کے مسئلہ پر اس مہم کا فوکس رکھنے کی بجائے اسے ذاتی کردار کشی اور ایک دوسرے کو غدار کہنے کی روش اختیار کی گئی ،اس نے اس ساری فضا کو پراگندہ کیا ،تحریک انصاف یہ الزام دیتی ہے کہ مریم نواز نے ایسی زبان استعمال کی ،جس سے ماحول میں تناؤ اور کشیدگی نے جنم لیا۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور جیسے وزراء کو کشمیر کے انتخاب کی مہم سونپ کر حکومت نے ایک ایسی صورتحال کو جنم دیا ،جس میں نہ صرف عوام میں اشتعال پیدا ہوا ،بلکہ نوبت یہاں تک آگئی کہ علی امین گنڈا پور کو جان بچانے کے لئے فائرنگ کرنا پڑی ،ادھر پیپلزپارٹی بھی علی امین گنڈا پور سے اس لئے نالاں رہی کہ انہوں نے اپنی تقریر میں ذوالفقار علی بھٹو کو غدار کہا ،جبکہ مریم نواز کا مسلسل یہ موقف رہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کا سودا کردیا ہے اور وہ کشمیر کے لئے کچھ کرنے کی بجائے انہیں بھارت کے ہاتھ بیچنے کے لئے بے تاب ہیں۔ 

ان باتوں کا جواب شاہ محمود قریشی نے ملتان میں دیا اور انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے جتنی انتخابی مہم چلائی ہے ،اس کی وجہ سے کشمیریوں کے موقف کو نقصان پہنچا ہے ،وہ بھارت کی زبان بولتی رہی ہیں اور انہوں نے ایک ایسے وزیراعظم پر کہ جسے دنیا کشمیر کا سفیر مانتی ہے ،بے بنیاد الزامات لگائے ،خیر آزاد کشمیر انتخابات کا باب بند ہوگیا ،حسب معمول انتخابی نتائج پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں ۔لاہورہائی کورٹ کے ایک ہفتہ کے اندر بلدیاتی ادارے بحال کرنے کے احکامات کی وجہ سے حکومتی حلقوںمیں ایک ہلچل سے مچی ہوئی ہے ، بلدیاتی عہدے دار اپنے متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنرسے مل کر اپنے عہدوں کا چارج سنبھالنے کے لئے تیار ہیں۔

اس حوالے سے ضلعی افسروں کے ساتھ ان کے اجلاس بھی ہوچکے ہیں اور یہ معاملات بھی طے ہو رہے ہیں کہ کون سے اثاثے اور اختیارات بلدیاتی اداروں کو منتقل کئے جائیں ،اگرایسا ہوجاتا ہے ،تو یہ حکومت کے لئے ایک بہت بڑا درد سر ہوگا ،کیونکہ پنجاب میں بلدیاتی عہدے داروں کی اکثریت کا تعلق ن لیگ سے ہے ،مثلاً ملتان میں بھی شہر کے مئیر اور ضلع کونسل کے چئیرمین کا تعلق ن لیگ سے ہے ،بلدیاتی اداروں کے فعال ہونے سے مسلم لیگ ن کو بہت زیادہ سیاسی فائدہ پہنچے گا اور ان کی باقیماندہ مدت اور نئے بلدیاتی انتخابات تک ایک ایسی فضا بن جائے گی ،جو مسلم لیگ ن کے حق میں ایک بڑی پیشرفت ثابت ہوگی ،اس لئے حکومت پنجاب کی یہ کوشش رہی ہے کہ کس طرح بلدیاتی اداروں کو بحال نہ کیا جائے ،حالانکہ سپریم کورٹ کئی ماہ پہلے بلدیاتی اداروں کی بحالی کا حکم دے چکی ہے ،مگر حکومت نے اس حکم پر عملدرآمد نہیں کیا۔ 

جس کے بعد بلدیاتی عہدے داروں نے ان احکامات پر عملدرآمد کرانے کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ،جہاں حکومت اپنا موقف پیش کرنے میں ناکام رہی اور عدالت نے یہ حکم جاری کیا کہ ایک ہفتہ کے اندر بلدیاتی ادارے بحال کردیئے جائیں ،دیکھنا یہ ہے کہ حکومت لولے ،لنگڑے بلدیاتی ادارے فعال کرتی ہے ،یا انہیں وہ تمام اختیارات دیئے جاتے ہیں ،جو آئینی طور پر ان کا حق ہے ،اس وقت ہر ضلع میں بیوروکریسی اختیارات پر قابض ہے اور بلدیاتی اداروں کے تمام منصوبے کمشنراور ڈپٹی کمشنرز کی منظوری سے پایہ تکمیل تک پہنچ رہے ہیں، ایسے میں بلدیاتی اداروں کی بحالی سے ایک انتظامی بحران بھی پیدا ہوسکتا ہے ،اگر حکومت نے خوش دلی سے بلدیاتی اداروں کی بحالی کا فیصلہ قبول نہ کیا ،تو شہرشہر احتجاج بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید