• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

مہنگائی: بجلی، گیس کے بلوں نے لوگوں کی جان نکال دی

سیاسی زعماسے لیکر کشمیری عوام، پاکستانی تجزیہ نگاروں اور سیاستدانوں تک، ہر کوئی آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج پر مختلف آراء دے رہا ہے۔ غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ نتائج مشکوک لگ رہے ہیں، تحریک انصاف کو اتنی سیٹیں ملنا حیران کن ہے، کچھ حلقے نتائج روکے جانے کی تحقیقات کروانے پر زور دے رہے ہیں کیونکہ اب تو دھند بھی نہیں تھی تو پھر تاخیر کیوں ہوئی؟ کچھ کا خیال ہے کہ ایک بار پھر 2018میں ہونے والے پاکستانی عام انتخابات کی یاد تازہ ہو گئی۔ ہارنے والی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں جن پارٹیوں نے چارجڈ کرائوڈ والے یادگار جلسے کئے وہ ہار گئیں، جنھوں نے اعلانِ طاقت کیا، وہ جیت گئے۔ 

خاص ہو یا عام ہر طرف سے ایک ہی آواز ابھر رہی ہے کہ تحریک انصاف جیتی نہیں بلکہ کشمیری عوام ہار گئے ہیں، اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس بار دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے، ماضی میں کبھی رائے عامہ ہموار کرنے کا سائنسی فارمولہ استعمال کرنا انتخابی مہم کا کلیدی حصہ قرار دیا جاتا تھا لیکن اس بار اس کا تکلف ہی نہیں کیا گیا، ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گلگت ہو یا بلوچستان یا پھر کشمیر اگر اسلام آباد نے ہی ہمیشہ حکومت بنانی ہے تو یہاں سارا انتخابی عمل وقت اور پیسے دونوں کا زیاں ہے، سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ حکومت اس لئے بھی کوئی کام نہیں کررہی ہے کیونکہ اسے پتہ چل چکا ہے کہ جب کارکردگی دکھائے بغیر ہی ووٹ مل جانے کی سہولت میسر ہے تو عوام کیلئے جان کھپانے کی بےوقوفی کیوں کی جائے؟ 

ترابی سمیت الیکٹ ایبلز کے سافٹ وئیر راتوں رات اپ ڈیٹ کرکے من مرضی کے نتائج لائے گئے، کشمیری رائے عامہ اور پاکستانی عوام دکھی دل سے کھلے عام اظہار کررہے ہیں کہ جس طرح سیاسی اخلاقیات، ووٹ کی حرمت کو رسوا کیا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ہیں، شفاف انتخابات کے آئینے کو خود وزیر داخلہ شیخ رشید نے پولنگ کا وقت ختم ہونے سے دو گھنٹے قبل یہ بیان دے کر کہ عمران خان آزاد کشمیر میں حکومت بنا رہا ہے، ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس حکومت کو اپوزیشن سے زیادہ اپنے وزراء کے بیانات سے بھی خطرہ ہے کیونکہ وہ ہر دوسرے روز حکومتی کارکر دگی کا کچہ چٹھہ خود ہی کھول کھول کر بیان کرنا شروع کردیتے ہیں۔ 

حکومتی حلقے مسلم لیگ ن کی شکست کو مریم نواز کی مزاحمتی سیاست کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں، مخالف لیگی سیاسی حلقے شہباز شریف کی مفاہمتی سیاست کے خلاف یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے تو شہباز شریف مفاہمتی سیاسی فارمولہ کے تحت نواز شریف کے پیر پکڑنے کے لئے بیرون ملک جانا چاہتے تھے جسے حکومت نے مبینہ طور پر انتظام کرکے انھیں ناکام کردیا، شہباز شریف کی مفاہمت کی سیاست کا یہی نتیجہ نکلنا تھا، مقتدر حلقوں نے حزبِ اختلاف کے خلاف تقسیم کرو اور کھیلو کی پالیسی پر مبنی کارڈز کھیلے اور ن لیگ کو مفاہمتی اسکول اور مزاحمتی اسکول میں تقسیم کردیا، عملی طور پر شہباز شریف کی جانب سے اچھا بچے بننے کی پالیسی کسی کام نہیں آئی ماسوائے اس کے کہ وہ اب قید سے نجات حاصل کر چکے ہیں۔ 

ایک طرف مقتدر حلقے اپوزیشن کی بےبسی پر مسکرا رہے ہیں تو دوسری جانب حکومتی نمائندے آزاد پلیٹ فارم پر حکومتی معاشی پالیسیوں کی ناکامی اور عوامی پریشانیوں میں مسلسل اضافے کا قطعاً دفاع نہیں کر پا رہے ہیں کیونکہ اس کا دفاع ممکن ہی نہیں، ن لیگ کو دیوار سے لگانے کا مقصد یہ بھی کہ نواز شریف کو مجبور کیا جائے وہ گھٹنے ٹیک دیں اور مجوزہ اقتدارکی روایتی مثلث کا حصہ بنیں اور صرف وہی کریں جو انھیں کہا جائے، یہ محض خام خیالی ہی ہوگی کہ کشمیر میں شکست کے بعد کسی جذبہ رندانہ سے مغلوب ہوکر شہباز شریف کسی کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا اعلان کریں گے یا پھر لانگ مارچ کریں گے، شہباز شریف، حمزہ شہباز شریف و ہمنوا اچھے بچے بن کر کام کرتے رہیں گے۔ 

آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج کے بعد کچھ تجزیہ نگاروں نے پراپیگنڈہ کرنا شروع کردیا ہے کہ دھاندلی کا شور ہر الیکشن میں مچایا جاتا ہے، انتخابات شفاف ہوئے ہیں، پہلی بار کشمیر میں تین بڑی سیاسی جماعتوں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی، پی ٹی آئی حکومت میڈیا پر اپنا اچھا تاثر قائم نہ کرپائی اس کے باوجود تحریک انصاف کامیاب رہی ہے جس میں کوئی غیرشفافیت نظر نہیں آتی ہے، دوسری جانب سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر انتخابات میں کامیابی عمران خان کی بائیس سالہ انتھک محنت کا نتیجہ ہے، سیاسی سفر میں عمران خان نے کوئی شارٹ کٹ نہیں لیا، عمران خان نے دو پارٹی سسٹم کو توڑ ڈالا جس پر سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ 

عوام کا کہنا ہے کہ کیکر پر انگور چڑھا چڑھا کر پاکستان کے ہر گچھے کو زخمایا جا چکا ہے، بہت ہو گئی بائیس سالہ جدو جہد پر مبنی نام نہاد ایمانداری کی کہانیاں، پہلے بتائو آٹا، چینی اور دوائیاں چوروں کا کیا ہوا؟ نوکریوں اور گھروں کا کیا بنا؟ عالمی مارکیٹ میں 74ڈالر فی بیرل قیمت ہو تو ا ایک لیٹر کی قمیت 73.53روپے بنتی ہے، ہمیں کونسا ریلیف دیا جارہا ہے؟ کونسا بوجھ ہے جو حکومت نے عوام پر منتقل نہیں کیا؟ فی لیٹر ٹیکس 43روپے وصول کرکے پٹرول کی قیمت کو بلند ترین سطح پر حکومتی نمائندے قوم پر احسان جتا رہے ہیں کہ شکر کرو ابھی اتنا مہنگا نہیں کیا جتنا اوگرا نے سفارش کی تھی، بجلی، پانی، گیس کے بلوں نے لوگوں کی جان نکال دی ہے۔

لوگ تبدیلی کا خواب دکھانے والوں سے سوال کر رہے ہیں کہ ہمارا پرانا پاکستان واپس کر دو مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔اب صرف روحیں قبض کرنی رہ گئی ہیں؟ آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کے مستقبل میں کیا اثرات مرتب ہوں گے یہ طے ہونا باقی ہے؟ ایک نئے منڈلاتے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے، انتخابات سے پہلے وزیراعظم پاکستان نے آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کروانے کا اعلان کیا تھا، اس بیان کو حزب اختلاف نے سرے سے ہی مسترد کردیا ہے، عوامی حلقے وزیراعظم کے اس بیان پر حیرانگی اور خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ جس طرح مقبوضہ کشمیر کو بھارت نے ضم کر لیا بالکل اسی طرز پر کہیں آزاد کشمیر میں جعلی ریفرنڈم کروا کر آزاد کشمیر کو بھی بھارت کی جھولی میں نہ ڈال دیا جائے اگر ایسا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائیگا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید