• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی کے باسی اِن دنوں تقریبا دو دہائی پُرانے خوف میں پھر سے مبتلا ہوگئے ہیں۔ یہ خوف ایک مال بردار بحری جہاز کے کراچی کے ساحل پرپھنس جانے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس واقعے نے میں جولائی 2003میں تیل بردار بحری جہاز تسمان اسپرٹ کے سمندر میں دھنسنے اور پھر ٹُوٹ جانے سے پیدا ہونے والے حالات کی یاد تازہ کردی ہے۔ اس حادثے کے نتیجے میں ساحل کے ارد گرد رہایش پزیر افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔تاہم اس کے اثرات باقی شہر پر بھی مرتب ہوئے تھے۔ مذکورہ جہاز سے بہنے والے تیل کی آلودگی کی وجہ سے صورت حال اتنی خراب ہوگئی تھی کہ ساحل کے قریب رہنے والے بہت سے خاندانوں کوعارضی طورپر نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔

اُس کے بعد سے اب تک جہازرانی اور ماحول کے ضمن میں کئی ایسے واقعات رُونما ہوچکے ہیں جن کے بارے میں حقایق سے عوام اب تک لا علم ہیں۔ پھر یہ کہ ان تمام واقعات کے دوران متعلقہ سرکاری اداروں کا کردار اور ان کے بیانات عجیب وغریب اور متضاد تھے۔ مثال کے طور پر تسمان اسپرٹ کے واقعے میں متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ جہاز میں سے تیل نکالنے میں تاخیر اس لیے ہوئی تھی کہ جہاز کے مالک نے تیل منتقل کرنے کے لیے تاخیر سے جہاز منگوایا تھا اور جب وہ آیا تو پتا چلاکہ وہ اتنا بڑا تھا کہ وہ تسمان کے قریب نہیں جاسکتا تھا۔

اسی طرح سالویج آپریشن کے لیے غلط جہاز کا انتخاب کیا گیا تھا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بہ حیثیت میزبان ملک جب ہمارے ادارے اس آپریشن کی نگرانی کررہے تھے تو انہوں نےجہاز کی مالک کمپنی کے ہر قدم پرنظر کیوں نہیں رکھی تھی۔کیا وہ اس بارے میں معلومات حاصل نہیں کرسکتے تھے کہ مذکورہ کمپنی نے کون سا جہاز یاسالویج ویزل منگوایا ہے اور وہ اس کام کے لیے موزوں بھی ہے یا نہیں؟

شکوک و شبہات اور سوالات

اب ہینگ ٹونگ نامی جہاز کا مسئلہ درپیش ہے۔اس معاملے میں تو متعلقہ حکام کے کئی اقدامات اور موقف ابتدا ہی سے متنازع ہوگئے تھے۔ اور بعض سوالات کے جواب تو ذرایع ابلاغ کے نمائندوں اور سینیٹ کے اراکین تک کو نہیں مل سکے ہیں۔ مثلا پہلے کہا گیا کہ جہاز کے کپتان نے کراچی پورٹ ٹرسٹ سے مدد مانگی ہی نہیں تھی۔ پھر جب جہاز کے کپتان کا موقف آیا کہ مدد مانگی گئی تھی اوربندرگاہ پر برتھ دینے کی درخواست بھی کی گئی تھی اور اس کا ثبوت بھی موجود ہے تو حکام نے خاموشی اختیار کرلی۔

پھر کہا گیا کہ جہاز سے تیل نکالنا ہماری ذمے داری نہیں ،لیکن بعد میں کے پی ٹی یہ کام کرنے لگا۔ جب بیرونِ ملک سے ٹگز آگئے تو کئی یوم تک ان کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس پر جہاز کے کپتان نے بھی سوال اٹھایا کہ ایسا کیوں کیا جارہا ہے تو جواب میں خاموشی تھی۔ پھر پتا چلاکہ وہ ٹگز کام شروع کرنے سے پہلے ہی خراب ہوگئے ہیں۔ پہلے کہا گیا کہ جہاز سے تیل رِسنے کا خطرہ نہیں، لیکن بعد میں کہا گیا کہ جہاز کو نکالنے کے عمل کے دوران وہ ٹوٹ بھی سکتاہے۔ پھر جہاز کے گردریت کی دیوار تعمیر ہونے لگی اور بُومز بھی بچھادیے گئے۔ اس طرح کے کئی اور نکات نے بھی عوام میں حکام کی ساکھ خراب کی ہے۔

پے در پے واقعات

تسمان اسپرٹ کے واقعے کے بعد جون 2004 میں کراچی میں ایک لانچ ڈوبنے کے بعد کلفٹن کے ساحل کو تین روز کے لیے بند کر دیا گیاتھا۔ لانچ پر موجود بھوسا اور تیل سمندر میں بہہ گیا تھا اور سمندری ہواوں کے رخ کی وجہ سے کلفٹن کے ساحل پربھی آگیا تھا۔ اُنّیس جون کو کراچی سے گھانا جانے والی لانچ الگرہد کے انجن میں بیس جون کو اس وقت خرابی پیدا ہو گئی تھی جب وہ کراچی سے تقریبا تیس ناٹیکل میل کے فاصلے پر تھی۔ 

یہ اطلاع ملتے ہی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نےاس علاقے میں موجود تمام جہازوں کواس سے مطلع کردیا تھا۔چناں چہ وہاں موجود ایک جہاز، ایم ٹی ایتھینا نےاِکّیس جون کی رات کومذکورہ لانچ پر موجود تمام گیارہ افراد کو بچا لیاتھا ۔ تاہم لانچ پر موجود بھوسے کا ذخیرہ اور تیل بہہ گیا تھا۔ اس موقعے پر یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ اس حادثے کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی کیا متعلقہ حکام اس کا اندازہ لگاکر پہلے سے حفاظتی اقدامات نہیں اٹھا سکتے تھے؟ اگر وہ ایسا کرلیتے تو ہمارا ماحول اس ماحولیاتی تباہی سے بچ جاتا۔

اکتوبر 2018 میں سندھ اور بلوچستان کے ساحل پر خام تیل پھیلنے کا پُر اسرار واقعہ پیش آیا تھا جس کے بارے میں آج تک حقایق قوم کے سامنے نہیں آسکے ہیں۔ یہ تیل بلوچستان کے ساحلی علاقے گڈانی کے قریب سےچرنا جزیرے اور مبارک ولیج سے سینڈز پٹ تک پھیلا ہوا تھا ۔یہ بیس کلومیٹر کا علاقہ بنتا ہے، لیکن اس کا دباؤ مبارک ولیج پر زیادہ تھا۔ اُس وقت کئی طرح کی آرا تھیں، مثلا اتنے بڑے پیمانے پر تیل کسی بحری جہاز، آئل ریفائنری، آئل ٹرمینل سے آسکتا ہے یا پھر کسی حادثے کا نتیجہ ہوسکتا ہے ۔ پھر تحقیق ہوتی رہی لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ حتمی طورپر یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ وہ تیل یا ٹار کہا ںسےآیا تھا۔ قوم کو یہ بات آج تک نہیں بتائی گئی ہے۔

حالاں کہ ماہرین کا کہنا تھا کہ تیل کہاں سے آیاہے،یہ معلوم کرنے کے لیے فنگر پرنٹنگ کا سائنسی طریقہ کار موجود ہے جس سے نہایت آسانی سے علم ہو جاتا ہے کہ تیل کہاں سے آیا ہے ۔ اگرچہ یہ ایک طویل عمل ہوتا ہے، لیکن تحقیق کاروں کو بہت حد تک حقیقت کے نزدیک پہنچا دیتا ہے ۔ماہرین کے مطابق سمندر میں بہنے وال اتیل اگر بیچ سمندر میں ہو تو اسے نسبتاً جلدی اور بہتر طریقے سے اکٹھا کر کے پانی سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اگروہ ساحل پر آجائے تویہ کام بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ مذکورہ واقعے میں تیل یا ٹار بہہ کر ساحلی پٹی تک آ گیا تھا۔

سرکاری رپورٹس کے مطابق آلودہ مواد، جس کی مقدار کا اندازہ چھ تاسات میٹرک ٹن لگایا گیا تھا،ٹارپر مشتمل تھا (جو خام تیل کے مقابلے میں پھر بھی رد عمل دکھاتاہے)۔ یاد رہے کہ یہ مقدار تسمان اسپرٹ کے حادثے کے نتیجے میں پھیلنے والے تیل کے چھٹے حصے کے مساوی تھی۔ مزید یہ کہ یہ تیل کھلے سمندر میں پھیلا ہوا ہے تھا۔ اُس وقت اندازہ لگایا گیا تھا کہ تیل کی آلودگی کی وجہ سے ساحلی کناروں پر موجود دیہات میں رہنے والے تقریباً پچّیس ہزار افراد کی زندگیاں متاثر ہوں گی جہاں پہلے ہی ماحولیاتی نظام یا ایکو سسٹم بہت غیر مستحکم ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ جب مچھلی پکڑنے کا سیزن شروع ہوگا تو سمندر میں بہنے والا تیل غربت میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔ لہذا جو بھی اس رساو کا ذمے دار ہے اسے قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے اور متاثرہ چھوٹے ماہی گیروں کو معاوضہ دلوانا چاہیے۔ لیکن معاوضہ تو دُور کی بات ہے، آج تک اس واقعے کے ذمے داروں تک کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔ اس وقت ماحولیات کے ماہرین نے خبر دار کیا تھا کہ کنارے پر موجود کھلی جگہوں اور دراڑوں میں گہرائی تک یہ تیل یا ٹاربیٹھ جائے گا اور اگلے جولائی تک صاف نہیں ہوگا، لہٰذا خدشہ ہے کہ اس سیزن میں ایک بھی مچھلی پکڑی نہیں جاسکے گی۔

یکم نومبر 2016کوگڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں مزدور ایک متروک آئل ٹینکر کو توڑنےمیں مصروف تھے کہ وہاں زبردست دھماکا ہوگیا تھا جس میں چودہ افراد ہلاک اور پینتیس سے زاید زخمی ہوگئے تھے۔ دھماکے کے بعد وہاں آگ بھی لگ گئی تھی۔ پھر تحقیقات کرانے کا وعدہ ہوااور اس کی رپورٹ منظرِ عام پر لانے کی یقین دہانی کرائی گئی، لیکن عوام آج تک اس رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں۔

ہمار آئین کہتا ہے کہ ملک کے ہر باسی کی زندگی کی حفاظت ریاست کی ذمّے داری ہے۔لیکن فروری 2020میں کراچی کی بندرگاہ کے ساتھ واقعےعلا قے ، کیماڑی، میں چند میں جو کچھ ہوا اُس نے واضح کردیا کہ ہم ہنگامی حالات کے لیے کتنے تیّار ہیں ،ہمارا نظام کیسے چل رہا ہے اور ہمیں کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ وہاں پہلے عجیب قسم کی بُو پھیلنے کی شکایت سامنے آئی تھی۔اس کے بعد لوگوں کو سانی لینے میں مشکل پیش آنے لگی تھی جس کی وجہ سے چودہ افراد جاں بہ حق اور سیکڑوں متاثر ہوئے تھے۔

وزیرِ اعلی سمیت متعدد اعلی شخصیات نے وہاں کے دورےکیے،بیانات دیے، متعدد اداروں نے جانچ پڑتال کی ،لیکن حتمی طور پر عوام کوآج تک یہ پتا نہیں چل سکا ہےکہ اس صورتِ حال کی اصل وجہ کیا تھی۔ ایسے میں بعض افراد کا یہ سوال بہ جا ہے کہ آخر ہم کیسی جوہری ریاست ہیں جس کے پاس ایسی سہولتیں نہیں ہیں کہ آٹھ دس روز گزرجانے کے باوجود ہم کیماڑی میں رونما ہونے والی صورتِ حال کا درست سبب تلاش کرسکیں۔ حالاں کہ اِن دِنوں ہمارے ارد گردجو صورتِ حال ہے کیا وہ اس بات کی متقاضی نہیں ہے کہ ہم اس بارے میں بہت سنجیدگی سے اور ہنگامی بنیادوں پر کچھ کریں؟

اس واقعے نے عام آدمی کو بھی یہ بتا دیا تھا کہ ہمارے پاس ایسی صورتِ حال کا کھوج لگانے کے لیے کوئی ٹیم اورخاص لیباریٹری تک نہیں ہے۔ دوسری جانب متعلقہ حکّام کے مربوط انداز میں کام کرنے کا کوئی نظام بھی نہیں ہے۔حالاں کہ جدید دور میں حیاتیاتی خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔

اس وقت سامنے آنے والے حقایق کو مد نظر رکھتے ہوئے ماہرین کا خیال تھا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ کیماڑی میں پیش آنے والی صورتِ حال کی ذمّے دار سویا ڈسٹ ہے۔ دوسری جانب بعض ایسی غیرمصدّقہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ لیباریٹری ٹیسٹ کیے بغیر سویا بین منگوانے والی کمپنی کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا تھا۔

ان اطلاعات کے مطابق سویا بین سے لدا جہاز جب برتھ پر آیا تو اس کی ڈسچارچنگ مناسب طریقے سے نہیں ہوئی۔ امریکا سے منگوائے گئے اس سویا بین کو مناسب طریقے سے فیومی گیٹFumigate نہیں کیا گیا تھا اور پاکستان میں وزارت غذائی تحفظ و تحقیق کے شعبے، پلانٹ پروٹیکشن نے جہاز کوچیک کیا اورنہ لیباریٹری ٹیسٹ کیے تھے۔

اب سے تقریبا دو ماہ قبل صوبہ بلوچستان میں تحفظ ماحول کےادارے نے گڈانی میں ایک ایسامشتبہ بحری جہاز توڑنے پر پابندی عاید کر دی تھی جس میں خطرناک مواد، مرکری (پارہ) ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔یہ سب اُس وقت ہوا جب ذرایع ابلاغ نے اس بارے میں خبریں دیں۔ پھر صوبائی محکمہ ماحولیات کی جانب سے جہاز میں موجودہ مشتبہ سلج (خام تیل) کے نمونے حاصل کرکے کراچی میں واقع نجی لیبارٹری کو بھیجے گئے تھے جس کا نتیجہ زیادہ سے زیادہ اڑتالیس گھنٹوں میں آنا تھا،لیکن وہ پراسرار طور پر تاخیر کا شکار ہوگیا تھا۔

اسی دوران جب اندرون اور بیرون ملک سے سوشل میڈیا پر کافی شور ہوا اور بیرونی ذرایع ابلاغ نے بھی اس بارے میں خبریں دیں تو پاکستان کی وفاقی حکومت نے گڈانی میں موجود مشتبہ بحری جہاز میں مرکری کی موجودگی کی تحقیقات شروع کر دیں اور سلج یعنی (خام تیل) کا نجی لیباریٹری سے ٹیسٹ کرانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اُس وقت بتایا گیا تھاکہ وفاقی وزرات کاماحولیاتی تبدیلی ڈویژن، وزیراعلیٰ کی تحقیقاتی ٹیم اور محکمہ ماحولیات کی ٹیمیں اس پر معاملے پر کام کر رہی ہیں۔

پھر خبر آئی کہ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نےاس مشتبہ جہازکے لنگر انداز ہونے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں قایم کردہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ کس نے اس جہاز کو لنگر انداز ہونے کی اجازت دی اور یہ کہ محکمہ ماحولیات اور بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اس گودی کوبیس روز بعد کیوں سیل کیا۔ کہا گیا تھاکہ یہ تحقیقاتی کمیٹی اڑتالیس گھنٹوں میں اپنی رپورٹ سفارشات کے ساتھ جمع کرائے گی۔ مگر تاحال یہ رپورٹ عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی ہے۔

اس معاملے کی دل چسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ جہاز کے پاکستان پہنچنے سے قبل بین الاقوامی سکیورٹی کے نگراں ادارے، انٹرپول نے حکومت پاکستان کو خط تحریر کر کے متنبہ کیا تھا کہ مرکری سے آلودہ خام تیل لے کر ایک بحری جہاز پاکستان کی طرف آ رہا ہے جسے گڈانی میں توڑا جائے گا۔ لیکن حیرت انگیز طورپر اس خط کے باوجود یہ جہاز بہت آسانی سے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ تک پہنچنے میں کام یاب ہوگیا اور اسے توڑنے کا عمل بھی شروع کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب شپ بریکنگ پلیٹ فارم نامی تنظیم کا کہنا تھا کہ اس جہاز نے سرحد پارخطرناک مواد لے کر سفر کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

انٹرپول کے خط کے مطابق انٹرپول کو معلوم ہواتھا کہ تیل بردار بحری جہاز ایف ایس اورینٹ ممکنہ طور پر گڈانی کی طرف رواں دواںہے، یہ انٹرپول کی زیر نگرانی رہا ہے اور اسے اطلاع ہے کہ اس میں مرکری سے آلودہ پندرہ سو ٹن تیل موجود ہے جسے جہاز کے مالک ٹھکانے لگانا چاہتے ہیں۔ انٹرپول کے مطابق مئی 2020 میں اس بحری جہاز کو بنگلا دیش میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا جہاں اس جہاز کو توڑا جانا تھا۔ 

نومبر 2020میں یہ ممبئی کےقریب لنگر انداز ہوا اورچودہ اپریل کووہاں سے روانہ ہوا۔ اس کا رُخ گڈانی کی طرف تھا۔اس خط کی بنیاد پر حکومت پاکستان کی وزرات دفاع نے پاکستان نیول ہیڈ کوارٹر، میری ٹائم افیئرز، وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کوبائیس اپریل کو اس بارے میں آگاہ کردیا تھا۔ اس کے بعد سات مئی کو دوبارہ خط لکھ کر کارروائی کی ہدایت کی گئی تھی۔

شپ بریکنگ پلیٹ فارم کے مطابق یہ بحری جہاز 1983 میں بنایا گیا تھا جو 229 میٹر طویل تھا۔ یہ مختلف ناموں کے ساتھ مختلف کمپنیز کے زیر استعمال رہا۔ اسے آخری مرتبہ انڈونیشیا میں دیکھا گیا تھا اور 2018 میں اسے ناکارہ قرار دیا گیا تھا۔ اسے بنگلا دیش میں شپ بریکرز کو فروخت کیا گیا۔ اس میں ہزار ٹن سلوپ آئل ، پانچ سو ٹن آئل واٹر اورساٹھ ٹن سلج تھا۔ اس فی کلو سلج میں چار سو ملی گرام مرکری تھا جو معمول سے کہیں زیادہ ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بھی مطمئن نہیں

پاکستان کے ایوانِ بالا ،سینیٹ، کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کا اجلاس اُنتیس جولائی کو کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت منعقد ہواتھا جس میں سینیٹر نزہت صادق نے کراچی میں ساحلِ سمندر پر پھنسے والے بحری جہاز کا معاملہ اٹھایا۔ اس موقعے پر چیئر پرسن نے سوال کیا کہ اب تک متعلقہ حکام کی جانب سے کیا کارروائی عمل میں لائی گئی ہے؟ تاہم سیکریٹری برائے بحری امور کی جانب سے تسلی بخش جوابات نہ دیے جانے پر کمیٹی کے اراکین نے احتجاج او رواک آئوٹ کیاتھا۔ سیکریٹری بحری امورکا کہنا تھا کہ جہاز کو بچانا اور نکالنا مالکان اورانشورنس کمپنی کی ذمّے داری ہے۔

یہ مال بردارجہاز شنگھائی سے استنبول جارہا تھا اور کراچی ہاربر میں مکمل طور پر داخل نہیں ہواتھا۔جہاز عملے کی تبدیلی کے لیے پاکستان کی حدود میں لنگر انداز ہوا تھا۔ جہاز کم پانی والے علاقے کی طرف جانے لگا تو اُس وقت کے پی ٹی کو صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔ لیکن اس وقت تک جہاز کم پانی والے علاقے میں پھنس چکا تھا۔ ہمیں جہاز میں موجود تیل سمندر میں پھیلنے کا خدشہ ہے جو سمندری ماحول کو نقصان پہنچا سکتاہے۔ جہاز پانامامیں رجسٹرڈ ہے۔ یہ جہازسترہ جولائی کو پاکستان کے ساحل پر آیا تھا۔جس روز پی ایس ایم اے کو اطلاع موصول ہوئی وہ عید کا پہلا روز تھااور تمام آپریشنل سرگرمیاں بند تھیں۔

اس بات پر چیئرپرسن نے وزارت سمندری امور کے حکام سے استفسار کیاتھا کہ کیا مذہبی تہواروں پر بندرگاہوں کی بندش عالمی عمل ہے؟ جس پر سیکریٹری جواب دینے میں ناکام رہے تھے۔مذکورہ سیکریٹری مذہبی تہواروں کے دوران بندرگاہوں کے اوقات کارپربھی کمیٹی کے اراکین کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے تھے جس پرکمیٹی کے اراکین نے ناراضی کا اظہار کیا اور احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔ بعد میں چیئر پرسن نے کمیٹی کااجلاس ملتوی کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ ہی بات ستّائیس جولائی کو سی ویو کے ساحل پر پھنسے جہازکے حوالے سے ذرایع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی، محمود مولوی نےبھی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بندرگاہ عید کے تہواروں پر بند ہوتی ہے۔

بلیو اکانومی،برآمدات کے فروغ کی خواہش اورہمار طرزِعمل

ہمارےوزیرِ اعظم اوروزراتواترکےساتھ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ملک کی اقتصادی حالت بہتر کرنے کے لیے برآمدات بڑھانا بہت ضروری ہے۔کچھ عرصہ قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کراچی میں منعقد ہ انٹر نیشنل میری ٹائم کانفرنس میں کہا تھا کہ حکومت بلیو اکانومی کو فروغ دینے کے لیے اقدامات اٹھارہی ہے۔ پاکستان کے نیول چیف ایڈمرل امجد نیازی نے اس سلسلے میں کہا تھا کہ پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کو حکومت کی جانب سے بلیو اکانومی کو فروغ دینے کےضمن میں اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔

ملک کے اعلیٰ سول اور فوجی عہدے داروں کی جانب سے بلیو اکانومی کو فروغ دینے کے اعلانات کے علاوہ گزشتہ برس وزارت بحری امور نے 2020 کوبلیو اکانومی کا سال منانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم کووڈکی وبا کی وجہ سے اس کا سرکاری سطح پر اجرا نہیں ہو سکا تھا۔ ایک جانب یہ اعلانات اور اقدامات ہیں اور دوسری جانب کسی تہوار کے موقعے پرملک کی سب سے مصروف بندر گاہ پر تمام آپریشنل سرگرمیاں بند ہونا بہت اچنبھے کی بات ہے۔دنیا میں شاید ہی کہیں ایسا ہو تا ہوکہ کراچی کی طرح کی کسی مصروف بندرگاہ پر کسی تہوار کی وجہ سے تمام آپریشنل سرگرمیاں بندکردی جاتی ہوں۔

دنیا بھر میں پانی سے جڑی معیشت کو بلیو اکانومی کہا جاتا ہے۔ انسان نےجب سے معاشی سرگرمیوں کا آغاز کیا، تب سے پانی کے ذریعے تجارت کا کلیدی کردار رہاہے۔ آج دنیا کی نوّےفی صد تجارت پانی کے ذریعے ہی ہوتی ہے اور اس میں دریا اور سمندر دونوں شامل ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بلیو اکانومی کا تصوّر بہت وسیع ہے جس میں ماہی گیری اور شکار کی جانے والی سمندری حیات کی پراسیسنگ، ان کی تجارت اور برآمدات شامل ہیں۔ اس میں جہاز رانی کا شعبہ اور شپ بریکنگ انڈسٹری بھی شامل ہے۔ بلیو اکانومی تمر کا بھی احاطہ کرتی ہے۔اسی طرح ساحلی علاقے اور اس کی سیاحت کا شعبہ بھی اس میں شامل ہے۔ اس میں آف شور آئل ڈرلنگ اور سمندر کی تہہ سے تیل نکالنا بھی شامل ہے۔ میرین بایو ٹیکنالوجی بھی اس کا حصّہ ہے۔

پاکستان میں بلیو اکانومی کی ترقی کا مقابلہ اگر خطے کے دیگر ممالک سے کیا جائے، جن میں خاص طور پر بنگلا دیش اوربھارت شامل ہیں، تو پاکستان ان دونوں ممالک سے بلیو اکانومی اور اس سے ملنے والے مالی فواید سمیٹنے میں بہت پیچھے نظر آتاہے۔ بلیو اکانومی اور بحری امور کے ماہرین کا پاکستان میں اس سلسلے میں ترقی نہ ہونے کے بارے میں کہنا ہے کہ اس سے متعلق آگاہی نہ ہونا اور مطلوبہ بنیادی ڈھانچے کی عدم دست یابی کے ساتھ حکومتوں کی عدم توجہ اور اس کے لیے درکارضروری بھاری سرمایہ کاری نہ ہونا بڑی وجوہات ہیں۔چناں چہ پاکستان میں بلیو اکانومی کی صورت حال زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔

جس طرح کسی ملک کی معیشت کا اندازہ اس کے جی این پی، یعنی گراس نیشنل پروڈکٹ سے لگایا جاتاہے کہ اس کی مجموعی مالیت کتنی ہے،اسی طرح بلیو اکانومی کا حجم معلوم کرنےکےلیے گراس میرین پروڈکٹ ،یعنی جی ایم پی کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ دنیا میں بلیو اکانومی کی جی این پی پچّیس سو ارب ڈالرز ہے، ہماری صرف ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالرزکے قریب ہے اور یہ دنیاکے مقابلے میں بلیو اکانومی کے صرف چند شعبوں تک محدود ہے۔ان میں فشریز، شپنگ،شپ بریکنگ انڈسٹری، تمر اور نہ ہونے کے برابر ساحلی پٹی پر سیاحت شامل ہے ۔ یہاں اس کے بہت سے شعبے سرے سے موجود ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے اسے فروغ نہیں مل سکا ہے۔

ماضی کے حقایق

جولائی 2003میں یونان کے بحری جہاز تسمان اسپرٹ سے تینتیس تا چالیس ہزار ٹن تیل کا رساؤ ہوا تھا جس کے بعداکتوبر2018میں سندھ اور بلوچستان کے ساحل پر خام تیل پھیلنے کا پُر اسرار واقعہ اس ضمن میں دوسرا بڑا واقعہ تھا۔اگر چہ متعلقہ حکام دعوے بہت کرتے ہیں لیکن جہازرانی اور ماحولیاتی امور کے ماہرین کے مطابق اگرچہ دنیا کا اسّی فیصد تیل خلیج سے ہوتا ہوا پاکستان کے خصوصی اقتصادی علاقے سے بحری جہازوں کے ذریعے گزرتا ہے، مگر پاکستان کے گہرے سمندر یا ساحلوں پر کسی بھی حادثے کی صورت میں تیل کی آلودگی سے تحفظ کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں ہے۔ 2003 میں بھی دعوے بہت ہوئے تھے ،لیکن اس وقت جو ماحولیاتی تباہی ہوئی تھی اسے دنیا نے دیکھا تھا اور ماہرین کے مطابق اس کے اثرات آج تک ہمارے سمندری ماحولیاتی نظام پر موجود ہیں۔

اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے ستّائیس اکتوبر 2015کو پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی آڈیٹوریم میں چھتّیسویں ویں سمندری مشق باراکوڈ اسے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی نیول چیف آپریشن، ریئر ایڈ مرل کلیم شوکت نے کہاتھا کہ تجارتی بحری جہاز، تسمان اسپرٹ سے تیل کے رساوٴ سے سمندر اور ساحل کو نقصان پہنچا تھا۔ تسمان اسپرٹ کے واقعے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے مضبوط نہیں تھے۔ اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کے لیے سمندر میں ہر سال مشقوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

تسمان اسپرٹ کے واقعے کے بعد گولڈن گیٹ نامی تیل بردار جہاز کو بھی اسی قسم کا حادثہ پیش آیا تھا، لیکن پھر بھی متعلقہ ادارے نہ صرف کسی قسم کی احتیاطی تدابیر کرنے میں ناکام رہے تھے بلکہ اس جہاز کو نقصان سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات اٹھانےمیں بھی تاخیر سے کام لیا گیا تھا۔