• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہرین فلکیات نظام شمسی میں اب تک متعدد چیزیں دریافت کرچکے ہیں ۔حال ہی میں سائنسدانوں نے سیارہ مشتری کے خوب صورت چاند جینی میڈ پر آبی بخارات دریافت کیے ہیں ۔پانی کے بخارات اس وقت وجود پاتے ہیں جب چاند کی سطح سے برفیلے ذرّات ٹھوس سے گیس میں بدل جاتے ہیں۔ یہ تحقیق ہبل خلائی دوربین کی بدولت ممکن ہوئی ہے ،جس سے حاصل شدہ غیرمعمولی ڈیٹا اب بھی سائنسدانوں کے زیرِمطالعہ ہے۔ 

جینی میڈ نہ صرف سیارہ مشتری بلکہ نظامِ شمسی کا بھی سب سے بڑا چاند ہے۔ اس سے قبل ماہرین نے بتا یا تھا کہ اس پر زمین کے تمام سمندروں سے زائد پانی موجود ہے۔ لیکن درجہ ٔحرارت اتنا سرد ہے کہ پانی منجمد ہوچکا ہے۔ لیکن جینی میڈ کا سمندر لگ بھگ 100 میل گہرائی میں موجود ہے جو قشرِ جینی میڈ کے نیچے پایا جاتا ہے۔

ماہرینِ فلکیات گزشتہ بیس برس سے ہبل کی تحقیق کو دیکھتے ہوئے جینی میڈ پر پانی کے بخارات کی تلاش میں ہیں۔ 1998 میں ہبل خلائی دوربین نے عکسی طیف نگاروں کی بدولت جینی میڈ کی اولین تصاویرلی تھیں۔1998 ء سے 2010 ء تک ہبل کا ڈیٹا بھی پڑھا گیا ،جس میں زیادہ تر تصاویر شامل تھیں۔

ماہرین نے انکشاف کیاہے کہ جینی میڈ کا درجہ ٔ حرارت بدلتا رہتا ہے اور دن کے اوقات میں خطِ استوا پر اتنی گرمی ضرور ہوتی ہے کہ منجمد برف کا کچھ حصہ پگھل کر بھاپ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔2022 میں ایک جدید ترین خلائی جہاز اسی مقصد کے لیے روانہ کیا جائے گا۔ یورپی خلائی ایجنسی کا یہ جہاز ’’جوس‘ ‘کے نام سے مشہور ہے اور 2029 میں مشتری اور اس کے چاندوں تک پہنچے گا،پھر اس بارے میں مزیدمعلومات حاصل کی جاسکیں گی۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید