• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرنکولس پیٹرک کارٹر برطانوی افواج کے سربراہ ہیں، وہ نیروبی کینیا میں پیدا ہوئے بعد ازاں ان کے والدین برطانیہ آگئے۔ جنرل کارٹر جرمنی، بوسنیا، آئرلینڈ،قبرص اور افغانستان میں بھی تعینات رہے۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے کہا کہ اگرچہ برطانیہ بڑی تعداد میں اپنے فوجی افغانستان سے واپس بلا رہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم افغانستان میں جنگ ہار گئےہیں۔ انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب افغانستان میں مارے جانے والے ایک برطانوی فوجی کی ماں نے سوال اٹھایا کہ ’’اس تمام جنگ و جدل سے آخر ہمیں حاصل کیا ہوا‘‘؟ جنرل کارنر نے جواب دیتے ہوئے کہا گو کہ ہم نے افغان جنگ میں 457 برطانوی فوجیوں کی جانیں گنوائی ہیں لیکن ہم نے اس تمام عرصہ میں نائن الیون جیسے مزید حملوں کو روکنے کے لئے منصوبہ بندی کی ہے، ادھر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نےبھی کہا ہے کہ برطانیہ افغانستان میں مستقل رہنے کاکبھی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ جنرل کارٹر نے مزید کہا کہ ہم نے افغانستان میں ایک انتہائی چالاک دشمن سے جنگ لڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی شروعات میں نیٹو اتحاد کےپاس پچاس ممالک کی ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد فوج تھی صرف صوبہ ہلمند میں برطانیہ کے 9500 فوجی اور 137 اڈے تھے، اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ و برطانیہ دونوں ملکوں کی طرف سے افواج واپس بلانے کے فیصلہ سے وہاں تشدد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔

جنرل کارٹر کا یہ کہنا بے جا نہیں کہ اتحادی افواج کے افغانستان سے نکلنے کے بعد وہاں حالات خراب ہوں گے لیکن جنرل صاحب کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ’’ہم افغانستان میں ہارے نہیں‘‘ کیونکہ یہ تو صاف نظر آ رہا ہے کہ ابھی اتحادی افواج پوری طرح افغانستان سے نکلی بھی نہیں لیکن وہاں ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ معاملات افغان حکومت کے ہاتھ سے نکلتے دکھائی دیتے ہیں اور افغان طالبان نے گزشتہ دو مہینے میں بڑی تعداد میں مختلف علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے یوں لگتا ہے کہ آدھے سے زیادہ ملک پر حکومت کا کنٹرول نہیں رہا اور سرکاری افواج پسپا ہو رہی ہیں ۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ طالبان نے ضلعی انتظامیہ جس میں پولیس بھی شامل ہے اور سیکورٹی فورسز بھی، ان سب کو ان علاقوں سےبے دخل کردیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد جن طالبان پر الزام تھا کہ وہ اسامہ بن لادن سمیت القاعدہ کی قیادت کو پناہ دے رہے ہیںاور یہ سب امریکہ پر حملے کے ذمہ دار ہیںلیکن گزشتہ بیس سال کے دوران اتحادی افواج اپنی پوری قوت کے باوجود نہ تو طالبان کو ختم کر سکے نہ ان کی سوچ۔ بلکہ ’اتحادی‘ قطر سمیت دیگر ملکوں میں ان طالبان سے مذاکرات کرتے رہے اور اب تک صرف امریکہ کے چار ہزار سے زیادہ فوجی ہلاک اور 20 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے جبکہ 40 سے 50 ہزار سویلین جان گنوا چکے ہیںاور ’اتحادی‘ 824 بلین ڈالر اس جنگ میں جھونک چکے ہیں۔

اتحادی افواج کے بڑی تعداد میں انخلا سے افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہو رہا ہے لاکھوں افراد یہاں سے وہاں نقل مکانی کر رہے ہیں، ہزاروں لوگ ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان، ایران اور پاکستان پہنچ چکے ہیں، ان حالات میں روس کے لئے بھی کئی مسائل کھڑے ہو چکے ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ طالبان کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بعد روس غیر جانبدار نہیں رہے گابلکہ اس بات کے زیادہ مواقع نظر آ رہے ہیں کہ روس افغان حکومت کی بجائے طالبان کی حمایت کرے۔کیونکہ رواں ماہ کے شروع میں ماسکو کے دورہ پر جانےوالے طالبان وفد کے سربراہ شہاب الدین دلاور نے برملا کہا تھا کہ ’’اگر طالبان چاہیں تو دو ہفتوں میں افغانستان کا کنٹرول پوری طرح سنبھال لیںگے‘‘۔دوسری طرف امریکی صدر جوبائیڈن کہتے ہیں کہ انہیں تین لاکھ افغان فوج پر مکمل بھروسہ ہے کیونکہ طالبان کی کل تعداد 75 ہزار سے زیادہ نہیں۔ ادھریہ بات بھی کوئی قیاس آرائی نہیں ہے کہ افغانستان کے دگرگوں حالات سے پاکستان بھی انتہائی متاثر ہوگا کیونکہ افغان صدر اشرف غنی تو پہلے ہی پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کی حکومت چاہتا ہے وہ یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ پاکستان کا تمام میڈیا طالبان کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب ’دنیا‘ طالبان کےپانچ ہزار قیدی رہا کررہی تھی تو ہم نے واضح کیا تھا کہ طالبان دنیا کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

حالیہ افغان صورتحال میں بھارت کوبھی خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس نے افغانستان میں تین ارب ڈالر کی جوسرمایہ کاری کی ہے حالیہ پرتشدد واقعات سے یہ سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے، اسے یہ خدشہ بھی ہے کہ پاکستان کے خلاف اس کی اسٹرٹیجک سبقت ختم ہو جائے گی اور پاکستان کا افغانستان میں اثر ورسوخ بڑھ جائےگا۔ لیکن پاکستان کے لئے ایک بڑا چیلنج 2611 کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد محفوظ بنانابھی ہے کیونکہ افغانستان میں حالات عدم استحکام کا شکار ہونے سے ماضی کی طرح آج بھی پاکستان پر پناہ گزینوں کا شدید دبائو ہوگا، دوسرا خدشہ جو پاکستان کے لئے ہوگا وہ ’’تحریک طالبان پاکستان‘‘ کا ہے جو پاکستان میں ہونے والے مختلف فوجی آپریشنز کے دوران افغانستان چلے گئے تھے اور اب وہ پناہ گزینوں کے بھیس میں واپس آسکتے ہیں۔ تیزی سے بدلتی ہوئی افغانستان کی صورت حال جہاں بہت سے ہمسایہ ممالک کے لئے خطرناک ہو سکتی ہے وہاں یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ خطے کی مختلف طاقتیں اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتی ہیں۔ جنرل کارٹر کا یہ کہنا کہ ہمیں شکست نہیں ہوئی، یہ فقط اپنی عزت بچانے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ نوشتۂ دیوار سب کو دکھائی دے رہا ہے کہ کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور ہزاروں انسانی ہلاکتوں کے بعدبھی خطے کے حوالے سے طے کئے گئے مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکے بلکہ طالبان گزشتہ بیس سال میں مزید مضبوط ہوئے ہیں اور اب جب ’اتحادی‘ محفوظ راستہ لے کر افغانستان سے نکل رہے ہیں تو ’’ہم ہارے نہیں‘‘ کابیان؟

تازہ ترین