• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کیلئے پی ٹی آئی مشکلات کا شکار

بری (نمائندہ جنگ) آزاد کشمیر کے25جولائی کے انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کرنے والی پی ٹی آئی آئندہ حکومت بننے کے لیے وزارت عظمیٰ، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر سمیت وزارتوں کے معاملے پر شدید مشکلات کا شکار ہے۔ آزاد کشمیر کا آئندہ وزیراعظم کون ہوگا؟ اس کے لیے عمران خان، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، تنویر الیاس، خواجہ فاروق، اظہر صادق، انصر ابدالی سمیت کئی ممبران اسمبلی کے انٹرویوز کرچکے ہیں۔ بھمبھر سے سابق اسپیکر چوہدری انورالحق، عباس پور سے عبدالقیوم نیازی کے ناموں پر بھی غور ہورہا ہے۔ ’’روزنامہ جنگ‘‘ کو باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو صدارت کی پیشکش کی جارہی ہے جس کو وہ قبول کرنے کو تیار نہیں جس پر وزارت عظمیٰ کے امیدوار کا نام فائنل کرنے میں’’ ڈیڈ لاک‘‘ پیدا ہوگیا ہے۔ بیرسٹر سلطان گروپ تنویر الیاس کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم نہیں دیکھنا چاہتا۔ مقتدر حلقوں نے بیرسٹر سلطان محمود اور تنویر الیاس پر واضح کردیا ہے، ان کی آپس کی چپقلش سے کسی تیسرے کو فائدہ ہوسکتا ہے اور وزیراعظم کا قرعہ کسی نئے چہرے کے نام پر نکل سکتا ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو آزادی کشمیر کا صدر بننے کی صورت میں میرپور سے ان کی خالی ہونے والی نشست پر ان کے بیٹے کو الیکشن جتواکر تگڑی وزارت کی آفر کی گئی ہے جسے تاحال بیرسٹر سلطان محمود نے ماننے سے انکار کردیا ہے اور پارٹی کی مرکزی قیادت پر واضح کیا کہ صدر ریاست کا عہدہ قبول کرنے کی صورت میں وہ آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیاست سے آئوٹ ہوجائیں گے جسے وہ کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔ پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے ایک ذمہ دار نے نمائندہ ’’روزنامہ جنگ‘‘ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو وزیراعظم نہ بنانے کی صورت میں پارٹی کا ایک مضبوط گروپ جس میں13سے15ممبران شامل ہیں، پارٹی فیصلے سے بغاوت کردے گا۔ اوورسیز کشمیری کمیونٹی کی اکثریت بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کوجو پارٹی صدر بھی ہیں، آزاد کشمیر کا آئندہ وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود نے مشکل وقت میں پارٹی کو منظم اور متحد کرتے ہوئے انتخابات میں شاندار کامیابی دلوائی، وزارت عظمیٰ کی کرسی پر ان کا سب سے زیادہ حق ہے۔ وزارت عظمیٰ کا تاج کس کے سر سجائے گا، آئندہ24گھنٹوں تک نام سامنے آجائے گا۔
یورپ سے سے مزید