• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نور قتل کیس، عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

اسلام آباد کی عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو   14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

عدالت کو  تفتیشی افسر نے بتایا کہ  ملزم ظاہر جعفر سے تفتیش مکمل ہو چکی ہے، جج شائستہ کنڈی نے استفسارکیا کہ ملزم ظاہر جعفر کہاں ہے؟

جج نے ملزم ظاہر جعفر سے استفسار کیا کہ عدالت کے سامنے کچھ کہنا چاہتے ہو؟ ظاہر نے جواب دیا کہ میرے وکیل بات کریں گے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی حد تک اب تک تفتیش مکمل ہو چکی ہے، جج نے سرکاری وکیل سے کہا کہ اب تک کچھ نہیں ہوتا، مکمل تفتیش مکمل ہی ہوتی ہے۔

جج شائستہ کنڈینے دوران سماعت یہ بھی کہا کہ پولیس والے تو بادشاہ لوگ ہیں وہ تو ضمنی چالان بھی لاتے رہتے ہیں۔

پولیس نے ملزم ظاہر جعفر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی، عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کو 16 اگست کو دوبارہ ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

واضح رہے کہ 20 جولائی کو تھانہ کوہسار کی حدود ایف سیون فور میں 27 سالہ لڑکی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔

نور مقدم کے قتل کامقدمہ والد کی مدعیت میں تھانہ کوہسار میں درج ہے، مقدمہ میں سابق پاکستانی سفیر شوکت علی نے بتایا کہ ان کی بیٹی نور مقدم جس کی عمر 27سال ہے اس کو ملزم ظاہر نے تیز دھار آلہ سے قتل کیا،پولیس کے مطابق مقتولہ کے جسم پر تشددکے نشانات پائے گئے جب کہ سر دھڑ سے الگ تھا۔

قومی خبریں سے مزید