• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت نے5 بین الاقوامی صحافیوں کو پاکستان جانےکی اجازت سے انکار کیا، شاہ محمود قریشی

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی صحافیوں کا آزاد کشمیر اسمبلی کا دورہ طے شدہ تھا، بھارت نے 5 بین الاقوامی صحافیوں کو پاکستان جانے کی اجازت سے انکار کیا ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر پر منعقد سیمینار میں شرکت کی، تقریب کے دوران کشمیر فیکٹ بک کا دوسرا ایڈیشن لانچ کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کے دوران شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت کا انکار آمرانہ حکومت کے آزادیٔ اظہار، آزادیٔ صحافت کے لیے جگہ تنگ کرنے کا اشارہ ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، وزارت خارجہ نے مسئلہ عالمی سطح پر بھرپور طور پراجاگر کیا، عالمی اداروں کو مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی جارحیت کا نوٹس لینا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی حمایت جاری رکھے گی، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت نے نشے میں دہت ہو کر کشمیر میں یہ اقدام لیے، بھارت کو اپنا یک طرفہ اقدام واپس لینا ہوگا، پاکستان کی کوششیں رائیگاں نہیں گئیں ہیں۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ  بھارت نے 5 اگست 2019ء کو بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہٹلر جیسا جابرانہ قدم اٹھایا، اقدام کے ذریعے بھارت نے ریاستی دہشتگردی کے جاری سونامی کی رفتار میں اضافہ کر دیا، دنیا کی ”سب سے بڑی جمہوریت“ نے ظلم وجبر کے ہر ہتھکنڈے کا بہیمانہ استعمال کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ وہی ادارہ ہے جس کی مستقل نشست کے لیے بھارت حرص و تمنا رکھتا ہے، کشمیری عوام دنیا کے سب سے بڑے حراستی مرکز میں مصائب کا سامنا کر رہے ہیں، کشمیریوں کے رابطوں کو مسددو کر دیا گیا ہے، انہیں معمول کی یا ہنگامی طبی سہولیات تک رسائی ممکن نہیں۔

وزیر خارجہ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ یہ وہ سلوک ہے جو بدترین مجرموں کے ساتھ بھی روا نہیں رکھا جاتا، حد تو یہ ہے کورونا وبا میں بھی کشمیریوں کو زرہ برابر رعایت نہیں دی جارہی، کورونا وبا میں کشمیریوں کے لیے صورتحال مزید ابتر ہوگئی، بھارت کشمیریوں کو یکسر مٹا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نوجوان کشمیریوں کواس طرح لاپتہ کیا جا رہا ہے ان کا کوئی سراغ نہ پا سکے،  ڈومیسائل کے نئے قاعدے متعارف کرائے جا رہے ہیں، جبری قوانین کا کشمیریوں پر اطلاق کیا جا رہا ہے، بھارت دنیا اور خاص کر پاکستان سے چاہتا ہے کہ اس صورتحال کو جوں کا توں مان لیا جائے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اگست 2019ء کے بعد سے تین بار تنازع کشمیر زیر بحث آیا، وزیراعظم عمران خان کے واضح وژن کی روشنی میں ہم پورے عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید