• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
نواسہ رسولﷺ، سیدنا حسین ابنِ علیؓ
کربلائے معلّٰی میںروضۂ امام حسینؓ کا اندرونی حصّہ

یہ ایک تاریخ ساز حقیقت ہے کہ انسانی تاریخ کی دو قربانیاں پوری تاریخ میں منفرد مقام اور نہایت عظمت و اہمیت کی حامل ہیں۔ ایک امام الانبیاء، سیّدالمرسلین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ، احمدِ مجتبیٰ ﷺ کے جدِاعلیٰ حضرت ابراہیمؑ و اسمٰعیلؑ کی قربانی اور دوسری نواسۂ رسولؐ، جگرِ گوشۂ علیؓ و بتولؓ شہیدِ کربلا حضرت امام حسینؓ کی قربانی۔ دونوں قربانیوں کا پس منظر غیبی اشارہ اور ایک خواب تھا، دونوں نے رضائے الٰہی میں سرتسلیمِ خم کیا اور یوں خواب کی تعبیر میں ایک عظیم قربانی وجود میں آئی۔

نواسہ رسولﷺ، سیدنا حسین ابنِ علیؓ
کربلائے معلّٰی میں حضرت عبّاس علم دارؓ کے روضے
کا بیرونی منظر

روایت کے مطابق جب سیّدنا حسین ابنِ علیؓ اپنے جاں نثاروں کے ساتھ کربلا کی جانب روانہ ہوئے اور روکنے والوں نے آپ کو روکنا چاہا، تو آپ نے تمام باتوں کے جواب میں ایک ہی بات فرمائی،’’میں نے (اپنے نانا) رسول اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے، آپؐ نے تاکید کے ساتھ مجھے ایک کام کا حکم دیا ہے، اب بہرحال میں یہ کام کروں گا، خواہ مجھے نقصان ہو یا فائدہ۔‘‘ پوچھنے والے نے پوچھا کہ وہ خواب کیا ہے؟ آپؓ نے فرمایا ’’ابھی تک کسی کو نہیں بتایا، نہ بتائوں گا،یہاں تک کہ اپنے پروردگارِ عزّوجل سے جاملوں گا۔‘‘(ابنِ جریر طبری 5/388، ابن کثیر/البدایہ والنہایہ 8/168، بحوالہ امام حسینؓ اور واقعۂ کربلا، ص 70)-

امام حسینؓ اور واقعۂ کربلا کے مؤلف کیا خوب لکھتے ہیں، ’’ابراہیمؑ کے خواب کی تعبیر دس ذی الحجہ کو پوری ہوئی اور سیّدنا حسینؓ کا خواب دس محرم 61ھ کو تعبیر آشنا ہوا۔ دونوں خوابوں کی تعبیر قربانی تھی، دس ذی الحجہ کو منیٰ میں یہ خواب اپنے ظاہر میں رونما ہوا اور دس محرم کو سرزمینِ کربلا پر اپنی باطنی حقیقت کے ساتھ جلوہ گر ہوا، یوں باپ نے جس طرزِ قربانی کا آغاز کیا تھا، تسلیم و رضا اور صبر و وفا کے پیکر، فرزند نے پوری تابانیوں کے ساتھ اس عظیم سنّت کو مکمل کیا۔

نواسہ رسولﷺ، سیدنا حسین ابنِ علیؓ
دخترِ حسینؓ بی بی سکینہؓ کے روضے کے اندر کا منظر

حضرت اسماعیلؑ سے جس سنّت کی ابتدا ہوئی تھی، سیّدنا حسینؓ پر اس کی انتہا ہوئی۔‘‘سیّدنا ابراہیمؑ و اسماعیلؑ اور حضرت حسینؓ کی قربانیوں میں یہی جذبۂ عشق و محبت کارفرما تھا۔ اسی لیے یہ قربانیاں آج تک زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گی۔ محسنِ انسانیت، ختمی مرتبت، سرورِ کائنات، حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے! ’’سلطانِ جائر (ظالم و جابر بادشاہ اور ان اوصاف کے حامل حاکمِ وقت) کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنا سب سے بڑا جہاد ہے۔‘‘ (نسائی، ترمذی)-

مستند تاریخی روایات کے مطابق رجب 60ھ/680ء میں یزید نے اسلامی اقدار اور دینِ مبین کی روح کے منافی ظلم و جبر اور استبداد پر مبنی اپنی حکومت کا اعلان کیا، بالجبر عام مسلمانوں کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا گیا، مدینۂ منورہ میں ایک مختصر حکم نامہ ارسال کیا گیا، جس میں تحریر تھا، ’’حسینؓ، عبداللہ بن عمرؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا جائے، اس معاملے میں پوری سختی سے کام لیا جائے، یہاں تک کہ یہ بیعت کرلیں۔‘‘(ابنِ اثیر/ الکامل فی التاریخ3/263)-

نواسہ رسولﷺ، سیدنا حسین ابنِ علیؓ
روضۂ حضرت عباس علمدارؓ کی اندرونی عکس بندی

بعدازاں، نواسۂ رسولؐ، جگرِ گوشۂ علیؓ و بتولؓ، سرکارِ دوجہاںؐ کے نورِ نظر، جوانانِ جنّت کے رہبر، شہیدِ کربلا، سیّدنا حسینؓ ابنِ علیؓ ہاشمی و مطلبی نے، جن کی ذاتِ گرامی اسلامی تاریخ میں حق و صداقت، جرأت و شجاعت، عزم و استقلال، ایمان و عمل، ایثار و قربانی، تسلیم و رضا، اطاعتِ ربّانی، عشق و وفا اور صبرو رضا کا بنیادی حوالہ ہے، اپنے جدِّ اعلیٰ حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ اور اپنے نانا امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اتباع میں سلطانِ جائر، حاکمِ وقت یزید کے خلاف جرأتِ اظہار اور عَلمِ جہاد بلند کرتے ہوئے اسوۂ پیمبری پر عمل کیا، اُمّتِ مسلمہ کو حق و صداقت اور دین پر مر مٹنے کا درس دیا، خلقِ خدا پر اپنے ظالمانہ قوانین کی پیروی کا حکم دینے اور محرماتِ الٰہی کو توڑنے والی حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ببانگِ دہل فرمایا ’’لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے ظالم، محرماتِ الٰہی کو حلال کرنے والے، اللہ کے عہد کو توڑنے والے، اللہ کے بندوں پر گناہ اور ظلم و زیادتی کے ساتھ حکومت کرنے والے بادشاہ کو دیکھا اور قولاًو عملاً اسے بدلنے کی کوشش نہ کی، تو اللہ تعالیٰ کو یہ حق ہے کہ اس شخص کو اس ظالم بادشاہ کی جگہ دوزخ میں داخل کردے، آگاہ ہوجائو، ان لوگوں نے شیطان کی حکومت قبول کرلی ہے اور رحمٰن کی اطاعت چھوڑ دی ہے، ملک میں فساد پھیلایا اور حدوداللہ کو معطل کردیا ہے، یہ مالِ غنیمت سے اپنا حصّہ زیادہ لیتے ہیں، انہوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کردیا ہے اور حلال کردہ چیزوں کو حرام کردیا ہے، اس لیے مجھے اس کے بدلنے کا حق ہے۔‘‘ (ابنِ اثیر/الکامل فی التاریخ 4/40)

نواسہ رسولﷺ، سیدنا حسین ابنِ علیؓ
دریائے فرات کی ایک تصویر، شہدائے کربلاؓ اسی کے کنارے خیمہ زن ہوئے تھے

یہی وہ سب سے بڑا جہاد اور دینی فریضہ تھا، جس کی ادائی کے لیے نواسۂ رسولؐ، سیّدنا حسینؓ ابنِ علیؓ فرمانِ نبویؐ اور اسوۂ پیمبریؐ کی پیروی میں وقت کے سلطانِ جائر یزید کے خلاف ریگ زارِ کرب و بلا میں 72 نفوسِ قدسیہ کے ساتھ وارد ہوئے اور میدانِ کربلا میں حق و صداقت اور جرأت و شجاعت کی وہ بے مثال تاریخ رقم کی، جس پر انسانیت ہمیشہ فخر کرتی رہے گی، حق کے متوالے اور ظالم و جابر قوتوں کے خلاف صف آراء مردانِ حُر اور شہہ سوارانِ حق اس راستے پر ہمیشہ چلتے رہیں گے۔شہدائے کربلاؓ کے قافلہ سالار امام حسینؓ اور ان کے رفقاء حق و صداقت اور جرأت و شجاعت کا علَم بلند کیے اپنے رب کی رضا، اعلیٰ انسانی اقدار کی بقا، دینِ مبین کی سربلندی اور شریعتِ مصطفیٰ ؐ کے تحفّظ کے لیے ریگ زارِ کرب و بلا میں جرأت و استقامت کی بے مثال تاریخ رقم کرکے یہ پیغام دے گئے کہ ’’ہم خاک ہوگئے، لیکن ہماری تربت کی خُوش بُو سے ہمیں پہچانا جاسکتا ہے کہ اس خاک سے بھی مردانگی پُھوٹ رہی ہے۔ ‘‘

نواسہ رسولﷺ، سیدنا حسین ابنِ علیؓ
دمشق میں واقع روضۂ حضرت بی بی زینبؓ

کربلا کے مقام پر پیش آنے والے تاریخ ساز معرکے کے دوران ایک شب، شہدائے کربلا کے قافلہ سالار ،سیّدنا حسین ابنِ علیؓ نے اپنے رفقاء اورجاں نثاروں کو جمع کیا اورخطبہ ارشاد فرمایا، ’’میں اپنے ربِّ ذوالجلال، خدائے واحد کی حمد و ثناء بیان کرتا ہوں، رنج و راحت ہر حال میں اس کا شکر گزار ہوں ۔الٰہی، تیرا شکر کہ تُونے ہمارے گھرانے کو نبوّت سے مشرّف و سرفراز کیا۔قرآن کا فہم عطا کیا، دین میں سمجھ بخشی اور ہمیں دیکھنے، سننے اورعبرت پکڑنے کی قوتوں سے سرفراز فرمایا۔ امابعد…لوگو! میں نہیں جانتا آج روئے زمین پر میرے ساتھیوں سے افضل اور بہتر لوگ موجود ہیں یا میرے اہلِ بیتؓ سے زیادہ ہم درد و غم گسار کسی کے ساتھ ہیں۔اے لوگو! تم سب کو اللہ میری جانب سے جزائے خیردے،میں سمجھتا ہوں کہ کل میرا اور اُن کا فیصلہ ہوجائے گا۔ غوروفکر کے بعد میری رائے یہ ہے کہ تم سب خاموشی کے ساتھ نکل جاؤ،رات کا وقت ہے، تاریکی میں اِدھر اُدھر نکل جاؤ۔ میں خوشی سے تمہیں رخصت کرتا ہوں۔ میری جانب سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ یہ لوگ صرف میرے طلب گار ہیں۔میری جان پاکر تم سے غافل ہوجائیں گے۔‘‘ یہ سُن کر آپ کے اہلِ بیتؓ بہت رنجیدہ اور بے چین ہوئے۔حضرت عباس بن علیؓ گویا ہوئے،’’یہ کیوں ؟کیا اس لیے کہ ہم آپ کے بعد زندہ رہیں، اللہ ہمیں وہ دن نہ دکھائے۔‘‘

حضرت حسینؓ نے مسلم بن عقیلؓ کے رشتے داروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، ’’اے اولادِ عقیل، مسلم کا قتل کافی ہے،تم چلے جاؤ،میں نے تمہیں اجازت دی۔‘‘آپ کا یہ فرمان سن کر وہ کہنے لگے،’’لوگ کیا کہیں گے؟ یہی کہ تم اپنے شیخ، سرداراورعم زادوں کو چھوڑکر بھاگ آئے۔ ہم نے ان کے ساتھ نہ کوئی تیر پھینکا، نہ نیزہ چلایا، نہ تلوار گھمائی۔ نہیں ،واللہ !یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ہم تو آپ پر اپنی جان و مال،آل اولاد سب کچھ قربان کردیں گے۔آپ کے شانہ بشانہ لڑیں گے،جو آپ پر گزرے گی، وہی ہم پر گزرے گی۔آپ کے بعد اللہ ہمیں زندہ نہ رکھے۔ ‘‘

بعدازاں، آپ کے دیگر رفقاءوجاں نثار کھڑے ہوئے ۔مسلم بن عوسجہ اسدی نے کہا،’’کیا ہم آپ کو چھوڑدیں گے؟حالاں کہ اب تک آپ کا حق ادا نہیں کرسکے ہیں، واللہ! نہیں ہرگز نہیں،میں اپنا سینہ ان دشمنوں کے نیزے میں توڑدوں گا۔ جب تک قبضے میں ہاتھ رہے گا،تلوار چلاتا رہوں گا،نہتّا ہوجاؤں گا، تو پتھر پھینکوں گا،یہاں تک کہ موت میرا خاتمہ کردے۔‘‘ سعد بن عبداللہ الجعفی نے کہا، ’’واللہ! ہم آپ کا ساتھ (مدد و نصرت) اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے۔جب تک خدا جان نہ لے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کا حق محفوظ رکھا۔واللہ!اگر مجھے معلوم ہو کہ میں قتل ہوجاؤں گا، جلایا جاؤں گا،آگ میں بھونا جاؤں گا،پھر میری خاک ہوا میں اڑادی جائے گی اور ایک مرتبہ نہیں،ستّرمرتبہ مجھ سے یہی سلوک کیا جائے۔ پھر بھی میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔یہاں تک کہ آپ کی حمایت میں فنا ہوجاؤں۔‘‘

زہیر بن قین نے کہا،’’بخدا !اگر میں ایک ہزار مرتبہ بھی آرے سے چیرا جاؤں، تو بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔خوشا نصیب، اگر میرے قتل سے آپ کی اور آپ کے اہلِ بیتؓ کے ان نو نہالوں کی جانیں بچ جائیں۔‘‘(تاریخِ طبری315/3) ۔کربلا کے قافلہ سالار حسینؓ ابنِ علیؓ اور دیگر شہدائے کربلاؓ نے راہِ حق میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جرأتِ اظہار کا حوصلہ اور باطل کے خلاف احتجاج اور جہاد کا سلیقہ اور ولولہ عطا کیا۔

سیّدنا حسینؓ ابن علیؓ کی صدائے حق نے مظلوم انسانیت کو ظالمانہ نظام کے خاتمے اور ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ اور حق نوائی کا بے مثال درس دیا۔ آپؓ نے اپنے کردار و عمل سے ثابت کردیا کہ حق کی آواز بلند کرنا، انسانی اقدار کا تحفّظ اور دین کی سربلندی اسوۂ پیمبری اور شیوۂ شبّیری ہے۔ شہدائے کربلاؓ نے راہِ حق میں تسلیم و رضا، صبر و وفا، اطاعتِ ربانی اور ایثار و قربانی کا لازوال درس دیا۔ نواسۂ رسولؐ، سیّدنا حسینؓ ابنِ علیؓ کی یہی وہ بے مثال قربانی اور کعبۃ اللہ کی عظمت و حرمت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینے کا عظیم جذبہ اور داستانِ حرم ہے، جس کے متعلق شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا؎غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم.....نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسماعیلؑ۔علامہ محمد اقبال آپ کے حضور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا خوب کہتے ہیں؎

موسیٰؑ و فرعون و شبیرؓ و یزید.....ایں دو قوت از حیات آید پدید .....زندہ حق از قوتِ شبّیری است.....باطل آخر داغِ حسرت میری است.....تا قیامت قطع استبداد کرد.....موجِ خونِ اُو چمن ایجاد کرد.....بہرِ حق در خاک و خوں غلطیدہ است.....پس بنائے لا الٰہ گردیدہ است.....نقشِ الّا اللہ بر صحرا نوشت.....سطرِ عنوانِ نجاتِ مانوشت.....موسیٰؑ اور فرعون، حسینؓ اور یزید۔

حق اور باطل کی یہ دو قوتیں زندگی سے رونما ہوتی رہتی ہیں، مگر حق ہمیشہ قوتِ حسینی ہی سے زندہ ہے اور باطل آخرکار داغِ حسرت لے کر مرجاتا ہے۔ اس نے قیامت تک کے لیے جبر و استبداد کو فنا کردیا۔ اس کے خون کی ایک موج نے گلستاں پیدا کردیے۔ وہ صرف قیام و استحکامِ حق کے لیے شہید ہوا ہے اور اس لیے اس کی ہستی توحید کی بنیاد ہوگئی۔ اس نے سینۂ صحرا پر توحید کا نقش ثبت کیا اور گویا ہماری بخشش اور نجات کی سطر لکھ دی۔

کسی نے کیا خُوب کہا ہے کہ ’’شہیدانِ حق کی دنیا میں نواسۂ رسول سیّدنا حسینؓ ابن علیؓکا مقام بہت ہی بلند ہے۔کسی نے حق کی خاطر خود زہر کا پیالہ پی لیا، کوئی قید و بند کی سختیاں زندگی بھر جھیلتا رہا، کوئی تنہا پھانسی پر لٹک گیا، مگر حسینؓ کا معاملہ ان سب سے مختلف ہے، آپؓ نے اپنے گھرانے کا ایک ایک فرد اپنی آنکھوں کے سامنے کٹوا دیا، اپنے جگر گوشوں کے لاشے خاک و خون میں تڑپتے ہوئے دیکھے، پیاسی اور بلکتی ہوئی بچیّوں کی صدائیں ان کے سامعہ سے ٹکرا رہی تھیں، مگر وہ صبرو ضبط کا پیکر، وہ ثبات اور استقلال کا ہمالیہ، وہ جرأت و استقامت کا کوہِ گراں، وہ حق و صداقت کا علَم بردار، وہ عزت و ناموس کا سراپا، دشمن اور اس کے باطل عزائم کے سامنے گردن جھکانے پر آمادہ نہ ہوا۔ وہ دشمنوں کے جمِ غفیر میں تنہا رہ گیا، مگر اس کے صبر و وقار کا دامنِ پیکر بے داغ رہا۔ وہ دشمنوں کی صفوں پر ٹوٹ پڑا اور بے جگری سے لڑتا ہوا شہید ہوا۔ اس نے حق کے لیے جینے اور حق کے لیے مرنے کی عظیم تاریخ رقم کی۔ ’’فی مقعدِ صدقٍ عندَ ملیکٍ مُقتدر‘‘ بلاشبہ، بادشاہِ ذی اقتدار کے دربار میں آپ بلند مقام پر فائز ہوئے۔

سنڈے میگزین سے مزید