• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حسن نثار (13اگست2021) ’’انسان خسارے میں‘‘

جناب انسان فطری طور پر برائی کی طرف مائل ہوتا ہے، ہمیشہ آسان اور بغیر محنت والے راستےکا چناؤ کرتا ہے۔ برائی کی طرف جانے کے لئے محنت نہیں کرنی پڑتی البتہ برائی سے بچنے کے لئے محنت، کوشش اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔

(محمد یوسف، نوشہرہ )

انصار عباسی (12اگست2021) اسلام کو بدلنے کی سازش کا ثبوت

عباسی صاحب! ہمارے قائد نے اسلام کو ریاست کی شناخت کے طور پر فروغ دیا تھا مگر آج حکومتیں اسے طاقت کے حصول کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ اسی لئے ایک متحد قوت بننے کے بجائے ریاست اور اسلام کے درمیان تعلق ہمیشہ پیچیدہ رہا ہے۔

(عائشہ طارق۔ لاہور)

بلال الرشید(11اگست2021) طالبان کےحامی تیاری کریں

بلال صاحب! طالبان کے حامی یہ بھول رہے ہیں کہ یہ طالبان اور اُن کا نظام جلد ہی پاکستان میں آ پہنچیں گے اور وہ تمام لوگ جو ان کے حامی ہیں، اسلامی نظام کا وہ نفاذ دیکھیں گے جس کے پسِ پردہ استعماریت اور سامراجیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا۔

(زین رسول، چیچہ وطنی)

مظہر برلاس (10اگست2021) اسلحے کے زور پر

جناب، آپ کی تحریر حقیقت پر مبنی ہے مگر جب تک حکومت عوام کے تحفظ کے لئے کوئی اقدامات نہیں کرتی ہمیں اپنی حفاظت کے لئے خود ہی اقدامات کرنا ہوں گے جس کے لئے عوام کا اسلحہ رکھنا ضروری ہے۔

(ساجد بزدار، کوئٹہ)

محمد مہدی(12اگست2021) ریڈ لائن ضروری ہے

جناب آپ نے مسئلہ افغانستان کے مسائل اور ناکامیوں پر شاندار تجزیہ کیا ہے۔ اگر اس کی بھی وضاحت کر دیتے کہ طالبان کی کابل میں کامیابی کے وطنِ عزیز پر کیا سفارتی اثرات مرتب ہوں گے تو آئندہ کی صورت حال کو سمجھنا آسان ہو جاتا۔

(نور احمد، پشاور)

پیر محمد ضیاء الحق نقشبندی (13اگست2021) اِک زرداری سب پہ بھاری

جناب ضیاء الحق صاحب! کبھی اندرون سندھ پارٹی کارکنوں کی محفل سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ انہیں پاکستان اور اِس کے اداروں سے کتنی محبت ہے۔ حکومتی پیسے کو سیاسی مفاہمت کے نام پر جس طرح لٹایا جاتا ہے وہ مناسب کام نہیں۔

(طارق محمود، اسلام آباد)

ایوب ملک (12اگست2021) اقلیتیں سابق چیف جسٹس کا صائب فیصلہ

ملک صاحب، پاکستان میں اقلیتوں کو تحفظ اور ان کے حقوق دینے کے حوالے سے سابق چیف جسٹس کا فیصلہ بہت ضروری ہے۔ اس کو جلد از جلد پارلیمنٹ میں پیش کرکے قانون بنایا جائے تاکہ پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو حقوقِ انسانی کے تحت تحفظ فراہم کیا جا سکے اور وہ اپنی مذہبی رسومات آزادی سے انجام دے سکیں۔

(یاسر رانا، لاہور)