’’کفر کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوئے خدا خدا کر کے‘‘۔ بالآخر 2600 کلو میٹر طویل افغانی سرحدوں کے چاروں جانب سے کابل کی طرف پیش قدمی کرتے طالبان مفرور صدر اشرف غنی کے صدارتی محل میں بغیر گولی چلائے داخل ہو گئے۔ کمال یہ ہوا کہ اس سے قبل ہی طالبانی اسٹرٹیجی کے مطابق کابل حکومت کی بازیابی کا پرامن عمل گزشتہ ماہ سے ہی شروع ہو چکا تھا۔ ایک طرف دنیا کے عالمی میڈیا سے قابض حکومتی و سفارتی ذرائع سے چھ ماہ، تین، دو اور ایک ماہ میں کابل پر طالبان کے قبضے کی پیش گوئیاں ہو رہی تھیں۔ بڑے بڑے تجزیہ نگار افغانستان میں ایک اور طویل یقینی خانہ جنگی کو لازمی قرار دے رہے تھے۔ دلیل اُن کی یہ تھی کہ بھارت نے ’’سفارتی عملے‘‘ کے ارکان کو واپس بلانے کے لئے جو سی 130طیارے بھیجے وہ خانہ جنگی میں استعمال ہونے والے مخصوص اسلحہ اور گولہ بارود سے بھرے ہوئے تھے۔ دو روز قبل تک خبریں آ رہی تھیں کہ 3ہزار، پھر 6ہزار امریکی فوجی مزید آ رہے ہیں۔ برطانوی افواج کے دستے بھی دوبارہ جلد کابل پہنچنے کی خبریں آئیں۔
دوسری جانب ان ہی خبروں کے فوراً بعد بڑی بریکنگ نیوز طالبان کے صحت عامہ اور تعلیمی اداروں کی نظامت کا چارج سنبھالنے کی خبریں آ گئیں۔ ہر صوبے سے سرکاری محکموں کے سربراہوں کے طالبان منتظمین کو چارج دینے، مقامی کمانڈروں کے خودطالبان رہنمائوں کے ساتھ ملاقاتیں کر کے ناصرف ہتھیار ڈالنے بلکہ ان کی کمان میں آ جانے کے پیغام بھی ملنے لگے، کئی مقامات پر ایساہو گیا۔ واخان کاریڈور جیسے عسکری اہمیت کے حساس علاقے میں فقط چار طالبانی نمائندوں نے جا کر واخان ویلی کا انتظام سنبھال لیا اور وادی کے لوگ ایسے ساتھ ملے کہ آ ملے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک یا جیسے دیوار برلن گرنے کے بعد اطراف کے عشروں سے بچھڑے جرمن شدت جذبات سے ملے تھے۔افغانستان پر قبضے کے 20سالہ بینی فشریز وار لارڈز کے سرحدوں سے باہرفرار، اندرون ملک کسی محفوظ مقام اور کابل تک پہنچنے کی داستانیں تو اتنی بنیں کہ میڈیا میں 10فیصد بھی نہ سما سکیں۔اِس دوران کتنے ہی ناکام بھگوڑے طالبان کے ہتھے چڑھے۔ وہ کرپشن اور حکام کی بےتحاشہ بدمست اور مسلسل آسودگی کا ذریعہ بن جانے والے محکمے بھی سنبھالنے میں لگےرہے ، عوامی خدمات کے محدود سے نظام کو سمجھتے رہے اور اپنے خلاف پروپیگنڈہ سے بے نیاز جلد انتظام و انصرام کی منصوبہ بندی کرنے کے ساتھ ٹیکس کولیکشن اور آبادیوں بستیوں کی حفاظت کے قابل ہو گئے۔ گویا خلا پُر کرنے کے لئے اشرف غنی کی اختتام پذیر کرپٹ ترین حکومت کے متوازی طالبانی عبوری حکومت کی تشکیل کا پرامن عمل شروع ہو چکا تھا، جبکہ مسلط کابل حکومت بغیر کسی تشدد اور اسلحے کے، تیزی سے تحلیل ہو رہی تھی۔ بھارتی دہشت گردی کے ٹرینر اور سرکاری نظام پر شدت سے اثرانداز ہونے والے افسران اور ٹیکنکل اسٹاف کی بوکھلاہٹ دیکھنے سے تعلقات رکھتی تھی۔ اتنی کہ قندھار کے قونصلیٹ میں پاکستان میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے لئے موجود 3ارب روپے کی پاکستانی کرنسی بھی نہیں سنبھالی گئی۔ ہرات کے میڈیا لارڈ اسماعیل خاں کا ہتھیار ڈال کر طالبان کی کمان میں آنے اور شمالی افغانستان کے خودساختہ سفاک مارشل رشید دوستم کی کابل آنیا ںجانیاں اور پھر چند روز قبل تک پنجابی فلموں والی بڑھکوں کے بعد پراسرار فرار پر تو یقیناً کتابیں لکھی جائیں گی۔اُس کے پُر تعیش محل میں طالبان نے جو تلاوت قرآن کی، اُس نے ناظرین پر رقت طاری کردی۔
امر واقعہ یہ ہے کہ کابل کا سقوط ہوا ہے نہ اِس پر طالبان کا قبضہ، اس کے بالکل برعکس انہوں نے مکمل اصلاحی ارادوں سے 20سال قبل مشتعل امریکی ’’غیظ و غضب‘‘ اور کارپٹ بمباری کے زورپر چھینی ہوئی اپنی ہی حکومت کو بازیاب کرایا ہے۔ اسی لئے کابل کے پاور کوریڈور میں جب پیش قدمی کرتا طالبان کا پرامن لیکن پرجوش لشکر داخل ہونے کو تھا تو کمانڈر نے اسے یکدم روک دیا اور اپنے اس ساتھی کو سب سے پہلے صدارتی محل میں داخل کیا جس نے امریکی جیل گوانتاناموبے میں بے گناہی کی آٹھ سالہ انتہائی کڑی سزا پنجرے نما سیل میں بھگتی تھی۔
طالبان کی اپنی ہی حکومت کی اِس پرامن بازیابی، کرپشن اور حکمرانی کی عوام دشمن مجرمانہ عیاشیوں میں ڈوبی اشرف غنی حکومت کے مکمل پرامن خاتمے اور 3لاکھ امریکی، بھارتی ٹرینڈ افواج کے طالبان کے خلاف مزاحمت سے مکمل گریز پر دنیا حیران اور نیٹو دنیا اور دِلّی کی محصور کشمیریوں پر ’’بہادری‘‘ کے ’’جوہر‘‘ دکھانے کی ماہر فوج کے فرار اور سرنڈر کے سینکڑوں واقعات پر جو ماتم وہاں کا میڈیا، عوامی حلقے اور جنگ مخالف Activists کر رہے ہیں، وہ محفوظ انخلا سے فرار کرانے والی حکومتوں کے لئے عذاب بنتا جا رہا ہے۔ اِس پر ٹریلین آف ڈالرز کے جنگی اخراجات اور افغان حکومتوں اور وار لارڈز کو عیاشیاں کرانے کے حساب کتاب کا عوامی پریشرالگ ہے۔
طالبانی پرتشدد یلغار کے نتیجے میں کابل پر طالبانیوں کا قبضہ اور عارضی حکومت کی تشکیل کی صورت میں پاکستان نے تو پیشگی اپنی پالیسی کا واضح اعلان کر دیا تھا کہ ’’تشدد کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کو پاکستان تسلیم نہیں کرے گا‘‘ اب بڑا سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ اب کوئی تشدد نہیں ہوا اور جبکہ طالبان ایک گولی چلائے بغیر صدارتی محل میں داخل ہو گئے اور وہاں سے بڑا معقول سفارتی و سیاسی ابلاغ کر رہے ہیں۔ ’’ہزاروں پر مشتمل سفارتی عملہ‘‘ اپنی مرضی سے ہی کابل چھوڑ رہا ہے۔ ہر صوبے سے ہتھیار ڈالنے، محکمے طالبان کے حوالے کرنے، کمانڈروں اور فوجیوں کے ساتھ ملنے کی خبریں آ رہی ہیں تو ایک مکمل وسیع البنیاد قابل قبول حکومت کی تشکیل تک 4کروڑ نفوس کی شدید ڈسٹربڈ ریاست کو طالبانی حکومت کے ذریعے ہی چلانے کے سوا کوئی چارہ ہے؟ ہے تو کیا؟ یہ ناگزیر نہیں ہو گیا؟ پاکستان اور اس کے ہمنوا گریٹ گیم کے غیر علانیہ اتحادیوں کو اِن سوالوں کا جواب جلد سے جلد اپنے اپنے عوام، افغانوں اور دنیا خصوصاً خطے پر واضح کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)