• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

50 ہزار موٹر سائیکل سوار طالبان، ٹینکوں، جنگی طیاروں اور جدید دفاعی ساز و سامان سے لیس 3لاکھ سے زائد تربیت یافتہ افغان فورسز سے کس طرح جیت گئے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہم سب کے ذہنوں میں گردش کررہا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد دنیا میں ایک نیا ورلڈ آرڈر تشکیل پانے جارہا ہے جس کے اہم پلیئرز میں چین، روس، ایران اور پاکستان ہیں جبکہ مخالف گروپ میں امریکہ، بھارت اور اس کے نیٹو اتحادی ہیں اور یورپی یونین بھی اس کے ساتھ ہے۔ گزشتہ 20برس میں افغان گیم تھیوری کا جائزہ لیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ 2001ء میں نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا جس سے ہماری معیشت کو 252 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70ہزار سے زائد شہریوں کی قربانیاں دینی پڑیں۔ اس دوران بھارت نے افغانستان میں ڈیمز اور انفرااسٹرکچر منصوبوں میں 3ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی اور کابل میں اپنا سفارتخانہ اور ہرات، قندھار، جلال آباد، مزار شریف وغیرہ میں اپنے قونصلیٹ قائم کئے جن کا اصل مقصد افغانستان سے سرحد پار بلوچستان میں شرپسندی، پاکستان کے دیگر شہروں اور سی پیک منصوبوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنانا تھا۔ اس دوران بھارت نے امریکہ سے تعلقات بہتر بناکر اپنی معیشت کو مضبوط بنایا جبکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اہم اتحادی ہونے کے باوجود کوئی فائدہ اٹھانے کی بجائے معاشی نقصانات اٹھائے اور ’’ڈو مور‘‘ کا منتر سننے میں آتا رہا۔

پاکستان اور افغانستان کا ٹرانزٹ ٹریڈ جو 2017-19ءمیں 2ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، 2021ء میں کم ہوکر 983ملین ڈالر رہ گیا جس کا فائدہ ایران کو ہوا جس کی افغانستان سے تجارت بڑھ کر 2ارب ڈالر ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ بھارت اور متحدہ عرب امارات نے بھی افغانستان سے اپنی تجارت میں اضافہ کیا ہے۔ اس دوران افواج پاکستان نے ’’آپریشن ضربِ عضب‘‘ اور ’’آپریشن رد الفساد‘‘ کے ذریعے ملک میں امن و امان قائم کیا جو پوری دنیا کیلئے ایک مثال ہے جس کے بعد پاکستان نے غیر جانبدار رہتے ہوئے ایک ذمہ دار پڑوسی ملک کا کردار ادا کیا۔ 20برس میں 2.2کھرب ڈالر اور ہزاروں فوجیوں کی اموات کے بعد امریکہ پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ طالبان کو شکست نہیں دے سکتا اور صدر جوبائیڈن کے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے کے مطابق امریکی اور نیٹو افواج، افغان فوج کو ذمہ داریاں سپرد کرکے اندازے سے پہلے افغانستان سے نکل گئیں۔

افغانستان کی 3لاکھ فوج میں صرف ایک لاکھ 85ہزار فوجی اور باقی ایک لاکھ 15ہزار پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل تھے جنہیں اپریل میں امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد سے تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئیں جس کے باعث ان کا مورال متاثر ہواتھا اور لوگ اشرف غنی حکومت سے بھی مایوس تھے۔ افغان فوج کے سربراہ کو چند روز پہلے ہی تبدیل کر دیا گیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ شمالی افغانستان میں جنگی ہیلی کاپٹروں، طیاروں اور دیگر اسلحہ اور سازوسامان سے لیس 50ہزار افغان فوج نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے۔ ہرات کے گورنر طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے جا پہنچے جبکہ مزار شریف سے دوستم اور کمانڈر عطا تاجکستان فرار ہوگئے اور افغانستان کے 34صوبوں میں ایک ایک کرکے فوج نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ صدر اشرف غنی ملک کو انتہائی نازک حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے اور طالبان بغیر کسی مزاحمت کے 20سال بعد دنیا کی طاقتور افواج کو شکست دے کر دوبارہ اقتدار میں آگئے۔ طالبان ماضی کے مقابلے میں اس بار محتاط اور ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے قتل و غارت، خونریزی سے گریز اور نئی حکومت میں تمام جماعتوں کو شامل کرنے کا عندیہ دیا ہے اور افغان اقدار اورشریعت کا تحفظ کرتے ہوئے مکمل مذہبی آزادی، آزاد میڈیااور خواتین کے حقوق کی یقین دہانی کرائی ہے۔ طالبان ترجمان نے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے غیر ملکیوں اور سفارتکاروں کے تحفظ کی ذمہ داری لی ہے اور کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں کی جائے گی۔ اب دنیا کی نظریں طالبان پر لگی ہیں کہ وہ کابل میں نمائندہ حکومت بناسکیں گے یا نہیں۔

موجودہ صورتحال میں ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں ہونے والی جنگ چین اور امریکہ کے درمیان ہوگی جو افغانستان میں لڑی جائے گی جس میں پاکستان، چین کا حلیف ہوگا جو امریکہ کو کسی صورت قبول نہیں ہوگا جس کی وجہ سے امریکہ، پاکستان پر ہر طرح کا معاشی دبائو ڈالے گا۔ اس وقت پاکستان پر دو تلواریں لٹک رہی ہیں۔ ایک FATF جس میں پاکستان 27میں سے 26شرائط پر عملدرآمد کرکے اب بھی ’’گرے لسٹ‘‘ میں شامل ہے جبکہ دوسری تلوار یورپی یونین ممالک کی پاکستان کو دی جانے والی ڈیوٹی فری مراعات جی ایس پی پلس اسکیم کو واپس لینے کیلئے یورپی پارلیمنٹ میں جمع کرائی گئی قرارداد ہے جس کے پیچھے بھارتی لابی ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جن سے پاکستان قرضے لینے پر مجبور ہے، امریکہ اور یورپ کے زیر اثر ہیں۔

امریکہ افغانستان میں اپنی شرمناک شکست اور امریکیوں کی تنقید سے بچنے کیلئے پاکستان پر معاشی پابندیاں لگاکر اسے’’قربانی کا بکرا‘‘ بناسکتا ہے جس کا پاکستان متحمل نہیں ہوسکتا۔ 1996-2000ء میںجب طالبان نے افغانستان میں حکومت بنائی تھی تو پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا لیکن اس بار ہمیں طالبان کی نئی حکومت ’’اسلامی امارات افغانستان‘‘ کو تسلیم کرتے وقت زمینی حقائق اور عالمی ردعمل کو سامنے رکھنا ہوگا اور دوست ممالک چین اور ترکی سے مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔

تازہ ترین