امریکی اور اس کے نیٹو ممالک کی افواج کے افغانستان سے تیز تر انخلا اور کابل پرطالبان کے حیرت انگیز پرامن اور مکمل کنٹرول نے دنیا خصوصاً ایشیا کو پرامن بنانے کا ایک اوربڑا تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔ جدید تاریخ کی یہ حقیقت جتنی تلخ ہے اتنی ہی سبق آموز بھی کہ 1989ء میں قابض سوویت افواج کا افغانستان سے انخلا مکمل ہوتے ہی کمیونسٹ ایمپائر کی تحلیل نے امریکہ اور نیٹو کو دنیا کو پرامن اور مستحکم بنانے اوردیرینہ تنازعات کے پرامن سیاسی حل کا ایک بڑا سنہری موقع فراہم کیاتھا۔ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد عالمی سیاست کا یہ ہی وہ مرحلہ تھاجب عالمی ادارے کا مقدم چارٹر اپنی روح کے مطابق دنیا میں نافذ العمل ہو جاتا، عالمی اور علاقائی اضطراب و بے چینی، عدم استحکام، غربت وجہالت، تعصب اور بالادستی کے پرخطر خناس کے ذرائع امن و آشتی ،خوشحالی و استحکام اور مطلوب آزادی و خود اختیاری کے ذرائع میں تبدیل ہوکر عالمی سطح پر احترام آدمیت کو ممکن بنا دیتے۔ انسانیت کا تقاضا تو یہ ہی تھا ۔ اگر یہ ہو جاتا تو دنیا میں آج قابل قبول سیاسی و اقتصادی (اور بہت حد تک ثقافتی بھی) غلبہ ان ہی طاقتوں اور کرداروں کا ہونا تھا جنہوں نے ’’افغانستان پر جارحیت اور قبضے‘‘ کے حوالے سے مقبوضہ افغانستان میں دس سالہ جہاد و جنگ کی۔ یہ افغانوں اور پاکستانیوں کا جہاد تھا جو وہ عالمی خصوصاً نیٹو اوراسلامی ممالک کی بھرپور عملی معاونت سے پہلے سوویت قبضے کےخلاف شروع کر چکے تھے جبکہ نیٹو کے لئے یہ ایک بڑی ثمر آور جنگ تھی،اس مشترکہ عالمی جدوجہد سے صرف قابض اور جارح افواج کا ناگزیر انخلا ہی ممکن نہیں ہوا تھا، ظالمانہ اور غاصبانہ سوویت ایمپائر اتنی نحیف ہوگئی تھی کہ اس کا عزت مندانہ قیام ممکن ہی نہیں رہا تھا، تاہم افغانستان پر حملہ آور اور قابض ہو کر کریملن کے فیصلہ سازوں نے خارجی امور کے محال اہداف حاصل کرنے کی ہوس میں جتنا بڑا ڈیزاسٹر کیا تھا، افغانستان سے افواج کا انخلا مکمل کرتے ہی اتنی ہی حقیقت پسندی سے اپنی تمام محبوس ریاستوں کو آئینی آپشن کا فائدہ اٹھا کر درجن بھر ریاستوں اور مکمل جکڑے مشرقی یورپ کو آزاد ہونے کا موقع دے کر اس کا ایسا ازالہ کیا کہ دنیا حیرت زدہ رہ گئی۔ جیسے آج افغانستان میں نیٹو اور بھارت کی شکست اور طالبان کی اسی درجے کی پرامن فتح، پھر عالمی امن کا سنہری موقع فراہم کر رہی ہے۔جنگوں کی تاریخ کا یہ پہلا معرکہ ہے جس میں اتنی بڑی عسکری نوعیت کی کامیابی پرامن ہوئی ہے۔لیکن اس کی طاقت ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کی حقیقت پسندی اور دوحہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی نیٹو و بھارتی ٹرینڈ جدید ترین اسلحے سے لیس ساڑھے تین لاکھ افغان فوج کے مقابل، افغانستان میں طالبان کی بڑی سیاسی حقیقت کو حقیقی سیاسی اپروچ سے تسلیم کرنا خطے اور عالمی امن کی جانب بڑا قدم تھا۔ اس کےبرعکس بش اور اوبامہ کے 4 ادوارمیں امریکہ پر اسلحے اور سرمائے سے افغانستان کو قابو رکھنے، مرضی کے مطابق اسے تبدیل کر دینے کی سوچ 20 سال میں طالبان سے لڑتے لڑتے شکست سے دو چار ہوگئی۔ شکست بھی ایسی کہ جسے امریکی جرنل منتخب نمائندے اور بڑے بڑے تجزیہ نگار شرمناک قرار دے رہے ہیں۔
افغانستان کو ختم کرنے کی بجائے لاحاصل خاک چھاننے کا جو سبق بڑی دبدبے والی سوویت ایمپائر نے 10 سال میں پڑھا اور سمجھا، وہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے 20 سال میں پڑھا۔ ستم انہوں نے یہ بھی کیا کہ ثابت شدہ ریاستی دہشت گردی کے سب سے بڑے عالمی کردار بھارت کو مقبوضہ افغانستان سے فرنٹ لائن پارٹنر پاکستان کے خلاف مسلسل دہشت گردی کی ’’آزادی‘‘ دیئے رکھی۔ جدید تاریخ کی دنیا کو بہت دکھی کر دینے والی ناقابل ازالہ حقیقت اب یہ ہے کہ 10 سالہ افغان جہاد و جنگ کے نتیجے میں جب سوویت ایمپائر ریزہ ریزہ ہوئی تو امریکہ اس کے نیٹو اتحادیوں پر بڑی بھاری ذمے داری عائد ہوگئی تھی کہ وہ 40سالہ سرد جنگ کے آخری 10 سالہ عالمی معرکہ میں سوویت ایمپائر کے انہدام، افغانستان سنٹرل ایشیائی اور مشرقی یورپ کی آزادی جیسے عظیم نتائج کے ساتھ جیت گئی تھی تو وہ ذمہ دارانہ اور فاتح عالمی طاقت کے طور پر دنیا کے امن کے لئے چیلنج بن جانے والے عالمی اور علاقائی تنازعات کو فوراً ایڈریس کرتی، اسرائیل و بھارت جیسے قابضین کو مشرق وسطیٰ میں فلسطین اور جنوبی ایشیا کے کشمیر جیسے سلگتے تنازعات کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرانے میں کردار ادا کرتی۔ دنیا سے غربت ختم کرتی، حق خود ارادیت اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا اثر و رسوخ اور قابل قبول بن جانے والی طاقت کااستعمال کرتی لیکن اتنے بڑے موقع گنوا کر وہ دنیا کو کالونی کی سطح پر زیر اثر لانے کے دھندوں میں لگ گئی۔ حالانکہ سوویت ایمپائر تو تحلیل ہوئی ہی تھی، چین عالمی اقتصادی طاقت تھا نہ پاکستان ایٹمی طاقت بنا تھا لیکن امریکہ نے بھارت کو ’’فطری پارٹنر‘‘ قرار دے کر اور کیمپ ڈیوڈ جیسے معاہدے کر کے اسرائیل کی من مانی کو ہلہ شیری دے کر اُسے مڈل ایسٹ پالیسی بنالیا۔
اب ایک اور موقع ملا ہے کہ آسودگی میں غرق افغان کھڑی حکومت اور کھوکھلی افغان فوج اور طالبان کے تازہ ذہنی اورانتقامی رویے سے گریز اور عام معافی کے اعلان سے اگر افغانستان امکانی خوفناک سول وار سے محفوظ ہوگیا ہے تو پھر ’’پنج شیر ویلی‘‘ کی مزاحمت جیسی شر انگیزی سے گریز کرکے افغانستان، اس خطے، اپنے عوام اور استحکام کو بھی کوئی ترجیح دے کر دنیا میں امن و سکون ہونے دیا جائے، ہاں اِس عمل میں شریک ہونا چاہے تو یہ عالمی معاشرے کی خوش قسمتی ہوگی کہ جنگوں اور قبضوں کے شائق حکمران بھی طالبان کی طرح بدل جائیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)