• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

’پاکستان باکسنگ کے ڈوبتے ٹائٹینک کو بچانا چاہتا ہوں‘

سلیم چاند

پروفیسر انور چوہدری کےرخصت ہونےکے بعد پاکستان باکسنگ کو جیسے زنگ لگ گیا۔ان کے بعد جو بھی آیا، اسے نہ تو کھیل کی باریکیوں کا علم تھا اور نہ ہی وہ بین الاقوامی سطح پر اثر ورسوخ رکھتا تھا۔ کبھی دو فیڈریشن کا ڈراما رچایا گیا، تو کبھی چہرے تبدیل کئے گئے اور اب مخصوص چہرے ہی فیڈریشن میں نظر آتے ہیں۔ پاکستانی باکسرز نے آخری بار 2004ء کے ایتھنز اولمپکس میں حصہ لیا تھا، یعنی17سال سے باکسرز اولمپکس میں شرکت سے محروم ہیں۔ 

وہ کوالیفائنگ مقابلوں سے آگے ہی نہیں بڑھ پاتے ہیں،پاکستانی باکسرز کئی سالوں سے سائوتھ ایشین گیمز میں ایک بھی گولڈ میڈل جیتنے میں کام یاب نہیں ہو سکے ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر محمد صدیق پاکستان باکسنگ کے ڈوبتے ٹائٹینک کو بچانے کے لیے اپنی خدمات پیش کر دی اور باکسنگ کے فروغ کے لیے باقاعدہ طور پر ڈاکٹر صدیق پٹنی باکسنگ اکیڈمی کا اعلان کر دیا اور باکسنگ کےکھیل میں ایک ہلچل مچا دی۔ 

موجودہ عہدیداروں میں کھلبلی مچ گئی ۔ سندھ باکسنگ ایسوسی ایشن اور پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی ناقص کارکردگی نے باکسنگ کے کھیل کو ذاتی مفادات کے بھینٹ چڑھا دیا اور ان کی سوچ کی باکسنگ فنڈز سے شروع ہو کر ٹورز پر ختم ہو جاتی ہے، ان تمام رکاوٹوں کے باوجودسابق قومی کرکٹر ،سندھ باکسنگ ایسوسی ایشن کے صدر، کک باکسنگ کے سرپرست اعلیٰ ،وائی فو مارشل آرٹ پاکستان کے صدر اور ورلڈ کے نائب صدر فٹبال کے یوتھ ڈویلپمنٹ کے چیئرمین اینڈ مارکیٹنگ اور اسپانسر، نیٹ بال کے نائب صدر، اسپانسر اور ٹیم منیجر ڈاکٹر محمد صدیق پٹنی پاکستان باکسنگ کو عروج پر لے جانا چاہتے ہیں اور پاکستان باکسنگ کی ڈوبتی نیا کو بچانا چاہتے ہیں۔ 

ان کی پانچ اکیڈیمز سندھ ،بلوچستان اور دیگر شہروں میں موجود ہیں۔ ان کو کھیلوں کے حلقے میں ہر فن مولا کا خطاب دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خداداد صلاحیتوں سے بھی نوازا ہے۔ جو اپنی ہمت اور حوصلے سے ہر کام کو پورا کرکے اپنی منزل کو حاصل کرتے ہیں۔ کرکٹ ہو،باکسنگ ہو، یا کوئی اور کھیل، ہر کھیل میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ڈاکٹر محمد صدیق پٹنی نے بچپن ہی سے کھیلوں میں منزل حاصل کرنے کا شوق پورا کیا،کرکٹ میں ملکی سطح پر بڑا نام کمایا اور اب باکسنگ کے فروغ کے لیے ہر سطح پر بھرپور کام کر رہے ہیں، تاکہ پاکستان عالمی اور اولمپک سطح پر میڈل جیت سکے۔ صدیق پٹنی کا نام ان شخصیات میں بھی آتا ہے، جنہوں نے بے لوث خدمت کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ 

انہوں نے مختلف کھیلوں باکسنگ کے شعبوں میں مختلف مواقع پر پروفیسر انور چوہدری (مرحوم) کو اسپانسر شپ فراہم کرکے کھلاڑیوں اور ایسوس ایشن کو نیا حوصلہ بھی دیا تھا۔ محمد صدیق پٹنی نے عہدے نہ ہونے کے باوجود بھی باکسنگ کے کئی ٹورنامنٹ منعقد کرائے اور آج سندھ باکسنگ ایسوسی ایشن کے صدر کی نئی ذمے داری ملتے ہی انہوں نے محض چنددنوں میں لیاری میں تقریباً 40منٹ باکسنگ ٹورنامنٹ کا انعقاد کر کے نام نہاد فیڈریشن کو حیرت میں ڈال دیا۔ صدیق پٹنی کا کہنا ہے کہ یہ صرف اس وجہ ممکن ہو سکا کہ اس کی تمام تر فنڈنگ وہ خود کر رہے تھے۔ ڈاکٹر محمد صدیق پٹنی نے کئی دوروں میں منیجر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 

باکسنگ میں انہیں ’’لکی منیجر’’ کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی،وہ خود بھی نامور باکسنگ کلب ’’مسلم آزاد ‘‘ کے صدر بھی ہیں۔1997میں پروفیسر انور چوہدری (مرحوم) نے ڈاکٹر محمد صدیق پٹنی کو باکسنگ پروموشن کےلیے بلایا اور انہوں نے ڈاکٹر صدیق پٹنی کو پاکستان باکسنگ کے کھیل کے فروغ کے لیے پیش کش کی۔ 32برس کی عمر میں بہ حیثیت منیجر ٹیم کے ہمراہ ملائیشیا اور رومانیہ کا دورہ کیا اور 1997ء سے2003تک سندھ باکسنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور اسپانسر رہے۔اور اس دوران تھائی لینڈ ،ملائیشیا،فلپائن ، کوریا اور رومانیہ ورلڈ کپ میں حصہ لیا۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ حکومتی سپورٹ اور اسپانسرز کی مدد کے بغیر پاکستان میں کھیل پروموٹ نہیں ہو سکتے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید