افغانستان سے امریکی افواج کے تیز تر جاری انخلاء کے دوران 26اگست کو کابل ایئر پورٹ پر جو دو ہلاکت خیز خود کش حملے ہوئے، ان میں 13امریکی فوجیوں سمیت اب تک 170افراد کے ہلاک ہونے کی خبریں آئی ہیں۔ اِسخونچکاں حادثے پر امریکی ردِ عمل اور مختلف النوع اطرافی خبروں پر مشتمل عالمی میڈیا کی فالو اپ نیوز کی تعداد تو درجنوں میں ہے۔ ان میں اہم ترین ’’داعش‘‘ کا خود کش حملوں کی ذمے داری قبول کرنا ہے جبکہ امریکی متعلقہ ذرائع اور میڈیا کے شک کا رخ بھی اسی دہشت گرد تنظیم کی طرف ہی ہے۔ فطری انسانی جذبات کے حوالے سے دھماکے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی خوں آشامی پوری عالمی برادری کے لئے غم ناک ہے۔ ایک طرف تو حملہ آور نے یہ ہلاکت خیز خود کش حملہ دو عشروں سے افغان سرزمین پر ہونے والی لاحاصل جنگ و جدل کی دلدل میں ڈیزاسٹر سیاسی و حکومتی فیصلوں سے اذیت ناک افغان انتشار میں جکڑے بیوی بچوں، والدین اور وطن سے بچھڑے امریکی فوجیوں پر کیا ہے۔ وہ بھی عین اس وقت جب وہ اس اذیت ناک جدائی سے رہائی پاکر آئندہ دو چار پانچ دن میں اپنے پیاروں سے بغلگیر ہونے کے لئے چند لمحوں میں محو پرواز ہونے کے لئے بالکل تیار تھے لیکن افغان امن کا حملہ آور دشمن انخلا کو روکنے کے لئے سرگرم ہے۔ اس پر صدر جوبائیڈن اور امریکی قوم گہرے غم میں ڈوب گئی ۔ دوسری جانب یہ حملہ دو عشروں سے اپنے وطن کو آزاد کرانے کی انتہائی سخت لیکن مثالی جدوجہد میں عظیم کامیابی پر ہوا ہے جس کے کٹھن سفر میں طالبان سمیت سینکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افغان مظلوم شہری شہید اور معذور ہوئے اور ہزاروں، برسوں تک سخت ترین قید و بند میں بھی رہے۔
اس پس منظر میں طالبان اور اُن کی تاریخ ساز فتح پھر واضح طور پر حملہ آور کا ہدف معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے کہ جب وہ فتح مبین کے ثمر سمیٹ اور سنبھال رہے ہیں اور حکومت سازی کی شکل میں اپنی بےمثال عسکری، سیاسی اور سفارتی کامیابیوں کے بعد پُرامن اور مستحکم افغانستان کے لئے مصروفِ عمل ہیں، دشمن کا ارادہ مکمل بےنقاب ہے کہ انہیں یہ نہ کرنے دیا جائے اور پھر سے جنگ و جدل میں اُلجھا دیا جائے ۔ باوجود اس کے کہ وہ عام معافی کا اعلان کر چکے اور ان کی تبدیلی بھی واضح ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ پُرامن افغانستان کے دشمن کی یہ آخری ناکام کوشش ہے؟ کہ وہ اس پر پھر ملک گیرسول وار مسلط کر دے یا یا دشمن کے ہدف(طالبان) کی فیصلہ سازی سے طالبان کے دشمن کے مکمل نامراد ہونے کی راہ نکلتی ہے۔ خدشات و خطرات تو بہت ہیں، کابل ایئرپورٹ حملوں کے بعد پورے افغانستان ہی نہیں خطے اور امریکہ میں بھی تشویش کا درجہ پھر بہت بلند ہو گیا ہے۔
قطع نظر اس کے کہ افغانستان پر 40سالہ جارحیت، خانہ جنگی، کرپٹ اور عوام دشمن حکومتوں کے راج کا ذمے دار کون ہے؟ اور دودھ کا دھلا کون؟ اب بےچین، انتشار اور جنگ زدہ افغانستان طالبان کے نہیں بلکہ تمام فریقوں کے لئے وبالِ جان بن جائے گا۔ وہ فریق جو افغان مسئلے کے ساتھ کسی بھی اعتبار سے اور جس حد تک منسلک رہے اور ہیں۔ اضطراب حصہ بقدر جثہ ہوگا۔ ہم پاکستانیوں کو دعا اور اپنی سی سیاسی سفارتی کوشش تو یہ ہی کرنی چاہئے کہ امریکی انتظامیہ، نیٹو اور خود طالبان کوئی غلط فیصلہ نہ کر لیں، بےپناہ مشتعل یا انتہائی مایوس ہو کر۔ اس حوالے سے پاکستان کے فیصلہ ساز ناصرف یہ کہ اپنی انفرادی صلاحیتوں کو مکمل بروئے کار لائیں بلکہ دوستوں کے اشتراک، امریکہ، نیٹو اور کامن فرینڈز کے ’’پُرامن و مستحکم افغانستان‘‘ کے لئے سفارتی کوشش اور باہمی مذاکرات کی کوئی راہ نکالی جائے۔ بلیم گیم اور مہلک شک و شبہ سے بچا جائے۔اِس مرتبہ پاکستان اپنی مرضی سے یہ کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ اسلام آباد پر کوئی کچھ مسلط نہیں کر سکتا بلکہ بڑے بڑے کرداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پاکستان سے تعاون لینا ناگزیر ہو گیا ہے۔
سانحہ کابل ایئر پورٹ کے حوالے سے امریکہ نے ہنگامی اور تشویشناک صورت حال میں پاکستان سے تعاون کی جو درخواست کی اور پاکستان نے اسے فوری تسلیم کرکے جو ہنگامی انتظامات کئے ہیں وہ دونوں ملکوں میں افغان مسئلے کی پیچیدگیوں کو طوالت سے پیدا ہونے والے باہمی اعتماد میں ہوئی کمی اور شک و شبہات کو دور کرنے میں معاون ہوں گے لیکن پاکستان کے شہروں کراچی، اسلام آباد، ملتان اور فیصل آباد میں امریکی فوجیوں یا شہریوںاور دوسرے غیر ملکیوں کی آمد اور ہوٹلز میں قیام کو محفوظ بنانا پاکستان کے لئے بڑا انتظامی چیلنج ہے۔ خصوصاً داسو کے چینی انجینئروں پر ہلاکت خیز خود کش حملے، جوہر ٹائون کے بم دھماکے اور گوادر میں چینی ماہرین پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں یہ سہولت اور مہمان نوازی ریاستِ پاکستان کے لئے چیلنج ہی نہیں ایک بڑا انتباہ بھی ہے۔ اس حوالے سے سارا انحصار صوبائی حکومتوں کے سیکورٹی انتظامات پر ہی نہیں خود وفاقی حکومت اور ہمارے سیکورٹی اداروں کو مکمل الرٹ رہنا ہوگا۔ تاہم امریکی اور انخلا کے لئے دوسرے غیر ملکیوں اور خود پاکستان کی اس حساس باہمی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے جس تیزی سے انتظامات کئے ہیں اُس کی تفصیلات ہمارے اپنے عوام اور دنیا کے سامنے قومی میڈیا سے آئی ہیں، یہ قابلِ تحسین ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)