بلاشبہ دوحہ امن مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے پر افغانستان میں نیٹو کے قابض دور کے صدر اشرف غنی اور نائب صدر امر اللہ صالح کے اچانک فرار نے تمام تر اندازوں و تجزیوں کے برعکس کابل میں یکدم مکمل حکومتی خلا پیدا کیا۔ یہ ہر جانب تیز تر پیش قدمی سے ملک گیر کنٹرول حاصل کرنے والے طالبان کے لئے اتنی ہی تیزی سے پورا کرنا بڑا چیلنج بن گیا۔ اتنا ہی بڑا جتنی آسان کابل کی فتح ہوئی۔ انسانی زندگی کا مشکل ترین کام انسانی رویّے میں مطلوب تبدیلی لانا ہے۔ فرد سے لے کر معاشرے ریاست و حکومت اور سیاسی قوتوں تک۔ بڑی طاقتوں کی جارحیت اور قبضے کے خلاف اپنی سرزمین پر تاریخ ساز مزاحمت کا بےمثال ریکارڈ افغانوں نے قائم کیا ہی ہے، جو اب عالمی تاریخِ حریت کا سنہری باب بن گیا ہے لیکن طالبان نے کابل پر کنٹرول سنبھالتے ہی ’’عام معافی کا اعلان‘‘ کرکے جامد انسانی رویّے پر دانش کے غلبے کی عظیم مثال قائم کرکے رجعت پسند بےلچک سماجی نفسیات کی سائنسی حقیقت سے متعلق تھیوریز کو غلط ثابت کردیا ہے۔ اس سے طالبان، جن کے بارے عالمی زاویہ نگاہ (PERCEPTION) ان کے سابقہ دور کے رجعت پسندانہ حکومتی اقدامات کے حوالے سے مکمل شدت پسند، سخت بنیاد پرست، بےلچک اور اجڈ کا بن کر عالمی رائے عامہ تک میں تبدیل ہو چکا تھا، اتنے بلند درجے پر تبدیل ہو جانا معجزاتی ہے۔ یہ دنیا بھر کے معاشرتی نفسیات، عمرانیات، پیس اینڈ سیکورٹی اور انٹرنیشنل افیئرز کے اسکالرز کے لئے اتنی بڑی اور دلچسپ ترین کیس اسٹڈی بنی اور بن رہی ہے کہ اس پر سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں کتابیں، ریسرچ رپورٹس، پروجیکٹس، برین اسٹارمنگ سیشن، سیمینار اور دیگر علمی و تحقیقی سرگرمیاں دنیا بھر کی یونیورسٹیوں، تھنک ٹینکس اور تحقیقی مراکز میں ہوں گی۔ سوال یہ ہی ہوں گے کہ طالبان کی بےمثال قوت کا راز کیا ہے؟ مخالفین کی برسوں پر محیط جارحانہ کارروائیوں کے باوجود ان میں ’’عام معافی کے اعلان‘‘ تک کی سطح پر لے جانے والے رویّے کی حیران کن تبدیلی کا سورس کیا ہے؟ طالبان کی جاری دانش کی بنیاد کیا اور کہاں ہے؟ اور پھر یہ بھی کہ مختلف النوع بھاری بھرکم مخالفین اپنی تمام تر ہیبت ہی نہیں اس کے ہولناک عملی مظاہرے کے بعد بھی دنیا بھر میں زیر بحث ہزیمت اور شکست کیسے ہو گئی؟ امریکی انتخاب میں قیادت کی تبدیلی، دوحہ مذاکرات کو جاری رکھنے اور مزاحمتی افغانستان سے جان چھڑانے کی توثیق نے ثابت کیا کہ ٹرمپ کے بعد جوبائیڈن بھی اسی پیج پر ہیں۔
انخلا کے دوران ’’عام معافی‘‘ جیسی حیرت انگیزلچک کے ساتھ طالبان نے معاہدے اور وعدوں کے مطابق محفوظ انخلا کے تمام تقاضے بھی پورے کئے۔ اس کا اعتراف امریکہ میں بالائی سطح پر ہوا۔ یہ بھی کہ واشنگٹن نے ایئر پورٹ پر خود کش حملے کے فوراً بعد ہی اس میں طالبان اور داعش کے اشتراک کی کوئی شہادت نہ ہونے کی بھی تصدیق کی اور داعش پر ہی واضح شبے کا اظہار کیا۔ قابض افواج کے معاون افغان طبقے کو بھی مطمئن رکھنے اور ان کے فطری خوف کو دور کرنے کے لئے کنٹرول سنبھالتے ہی فقط اعلان نہیں کئے بلکہ دفاتر میں کام جاری رکھنے کا گرین سگنل اور بعض صورتوں میں فی الحال گھر بٹھا کر تنخواہیں دینے کا اعلان کیا اور بہت کچھ مثبت۔ انخلا کے عمل کو یقینی محفوظ بنانے کے لئے ایئر پورٹ کی حفاظت کا فیصلہ خود نیٹو کا اپنا تھا۔ برسوں سے جملہ اقسام کے مقامی افغان معاونین افواج کے ساتھ ہی ملک سے فرار ہونے یا نکلنے کےلئے شدید مضطرب ہو گئے۔ دوران انخلا ہزار ہا کی تعداد میں پرواز کے لئے تیار جہازوں تک پہنچ گئے تو یہ قبضے کو موثر بنانے سے محروم رہی قابض فوج کی ایئرپورٹ مینجمنٹ سے بھی محرومی ثابت ہوئی۔ اگر اشرف غنی اور کمانڈروں کے ساتھ پوری فوج اور سیکورٹی ادارے بھی مفلوج ہوگئے تو پھر طالبان کویہ حساس ذمہ داری نبھانے کی درخواست کردی جاتی۔ وہ مسلسل آزمائش پر پورے تو اترتے رہے اور ساکھ دکھانے اور دھاک بٹھانے کےلئے وہ محفوظ انخلا کو تو یقیناً بناتے، لیکن امریکی انتظامیہ اور افغانستان کی نیٹو کمان کی جیسے مت ہی ماری گئی ہے۔ تشویش یہ ہے کہ ان کے پھسلتے اور گرتے پڑتے ڈیزاسٹر کرنے کا تشویشناک عمل طالبان کے ثابت شدہ تبدیل رویّے اور وعدوں کی پاسداری کے باوجود جاری ہے۔
اس سارے پس منظر میں واشنگٹن کےپوسٹ اٹیک (ایئرپورٹ پر خود کش حملہ) کے فوری اقدامات، سفارتی سیاسی ابلاغ اور اعلیٰ سطح کے بیانیوں سے واضح ہو رہا ہے کہ اپنی ہی غلطیوں پر امریکہ کے پھسلنے کا عمل جاری ہے۔ یہ تشویشناک ہے، اس کا نتیجہ افغانستان میں بحالی کا عمل پھر مضطرب ہوتا معلوم دے رہا ہے۔ اس حوالے سے جو ڈیزاسٹر کئے جائیں گے، اس کے لئے کوئی دلیل تو قطعی نہیں ہاں تجربات نے اتنا مکمل واضح کردیا ہے کہ ان تشویشناک غلطیوں کو کور دینے کے لئے ابلاغی محاذ کو سرگرم کرکے جواز بنایا جائے گا۔ دوسری جانب ’’پُرامن افغانستان‘‘ کا کیمپ اس محاذ پر کمزور معلوم دیتا ہے یہ کام طالبان یاسب سے متاثر ہمسائے پاکستان کا تو ہے نہیں، اس میں اب مقابلے کی ابلاغی جنگ کی تیاری لازم ہوگئی ہے جو اس افغانستان کو یقینی پرامن بنانے کا لازمہ ہے۔ اسلام آباد متوجہ ہو اور دوست ملکوں کو بھی کرے۔