• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

13جولائی 1931کو جب سری نگر سنٹرل جیل کے احاطے میں غاصب ڈوگرہ مہاراجہ سے بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں گرفتار نوجوان عبدالقدیر کے مقدمے کی سماعت کے لیے جمع ہونے والے ہجوم پر ڈوگرہ سامراج کی پولیس کی فائرنگ سے 22فر زندان اسلام نے جام شہادت نوش کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کا افتتاح کیا تھا، تو سید علی گیلانی اس وقت دو سال کے تھے۔گیلانی اور تحریک آزادی دونوں ساتھ ساتھ پلے بڑھے ہیں۔ لیکن سید گیلانی کو تحریک آزادی سے عمر میں دو سال بڑے ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

یہ گزشتہ صدی کے نصف اول کی بات ہے۔ 29ستمبر 1929کوزوری منس تحصیل بانڈی پورہ، نہر زینہ گیر کی کھدائی کرنے والے ایک مزدور سید پیر شاہ گیلانی کے گھاس پھوس کے جھونپڑے میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کانام سید علی گیلانی رکھا گیا۔ خدا جانے یہ محض اتفاق تھا یا پیر شاہ گیلانی کی بصیرت مستقبل کے پردوں میں جھانک رہی تھی کہ اس بچے کا نام کشمیر میں اولین تحریک اسلامی کے داعی و قائد سید علی ہمدانی ؒکے نام پر رکھا گیا۔اس بچے نے بڑے ہو کر سید علی ہمدانی ؒ کے نام کی لاج رکھی اور ان کا حقیقی جانشین بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

شاید قدرت کو یہی منظور تھا کہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ بڑا ہوکر اپنی درماندہ و تباہ حال قوم کو غلامی کے اندھیروں سے نکال کر آزادی کی منزل کی جانب رواں دواں کردے۔ سید علی گیلانی ابھی دو ہی برس کے تھے کہ،1931ء میں سری نگر سنٹرل جیل کے احاطے میں 22 فر زندان توحید نے اپنے خون سے تحریک آزادی کشمیر کے پہلے باب کی رسم افتتاح ادا کی۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک دور و نزدیک تک پھیل گئی۔ 

سید علی گیلانی نے شعور کی آنکھ کھولی تو آزادی کی تحریک جوبن پر تھی۔ ڈوگرہ استعمار کے خلاف بغاوت کے الاؤ ،ہر سو دھک رہے تھے۔ تکبیر کے نعرے تھے اور آزادی کے ترانے تھے۔علی گیلانی بھی اپنا ننھا ہاتھ بلند کر کے توتلی زبان میں نعرہ تکبیر بلند کرتا تھا۔ آزادی ان کو گھٹی میں پلائی گئی۔ بچپن اور لڑکپن کا دور انہوں نے اس تحریک میں ایک کارکن کی حیثیت سے شریک ہو کر گزارا۔

سید علی گیلانی نے ابتدائی تعلیم پرائمری ا سکول بوٹنگو، سوپور سے حاصل کی۔ اورمیٹرک گورنمنٹ ہائی ا سکول سوپور سے کیا۔ اس کے بعد آپ نے حصول تعلیم کے لیے لاہور کا سفر اختیار کیا اور اسلامیہ کالج لاہو ر سے ادیب عالم کا امتحان پاس کیا۔ ادیب فاضل اور منشی فاضل کی ڈگریاں کشمیر یونیورسٹی سری نگر سے حاصل کیں۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ ریاست کے محکمہ تعلیم سے بطور استاد وابستہ ہو گئے۔1947ءکا سال جہاں برصغیر پاک و ہند کے باشندوں کے لیے آزادی کا پیغام لایا اور ہندوستان اور پاکستا ن کے نام سے دو بڑی طاقتیں آزاد حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھریں وہاں یہ سال بد قسمت ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے لیے ایک نئی، تازہ دم اور سفاک تر غلامی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

آزادی کی منزل،جس کے لیے ایک عرصے سے اسلامیان وطن قربانیاں دیتے آئے تھے، اندھیروں میں گم ہو گئی تو نو عمر سید علی گیلانی پر اس سانحے کا بڑا گہرا اثر ہوا۔ہر چند شیخ عبداللہ اور اس کے قوم پرست مصاحبین قرآن اٹھا کر لوگوں کو یقین دلاتے رہے کہ ان کی گردن میں جو پھندا ڈالا گیا ہے وہ غلا می کا طوق نہیں بلکہ آزادی کا تمغہ ہے لیکن سید علی گیلانی، شیخ عبداللہ کی اس منطق کو قبول کرنے پر تیار نہ ہو سکے۔ وہ سوچتے رہے، کیا 1931ءکے شہیدوں نے قربانی اس لیے دی تھی کہ ڈوگر ہ استعمار کی جگہ برہنی سامراج کشمیر کو اپنی گرفت میں لے لے ؟کیا یہ ساری قربانیاں بھارتی فوجوں کی سنگینیوں کے سائے میں شیخ عبداللہ کو کشمیر کا حکمران بنانے کے لیے دی گئی تھی؟وہ سوچتے رہے اور کڑھتے رہے۔

بھولی بھالی قوم کے ساتھ شیخ عبداللہ اور اس کے حواریوں کا یہ دوسرا دھوکہ تھا۔ پہلا دھوکہ 1938ءمیں مسلم کانفرنس کا نیشنل کانفرنس میں انضمام تھا، جس کے نتیجہ میں آزادی کشمیر کی تحریک ، منزل کھو کر بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ گئی۔شیخ عبدا للہ اور ہر ی سنگھ کی ملی بھگت سے کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق دوسر ا فراڈ تھا، کھلی غداری تھی۔کیا کشمیر اب دوسرا اندلس بنے گا؟ کیا اب یہاں ا سپین کی تاریخ دہرائی جائے گی؟کیا بخارا اور سمر قند کی طرح یہاں سے بھی اسلامی تہذیب کو دیس سے نکال دیا جائے گا؟

مستقبل کے پر دوں میں چھپے ہوئے ان مہیب خطرات کی آہٹیں سید علی گیلانی کے اندر کی دنیا کو زیرو زبر کئے ہوئے تھیں۔ان خطرات کا مقابلہ کون کرے گا؟ لڑکپن اور جوانی پر کھڑے سید گیلانی کے لیے یہ اضطراب انگیز سوال چیلنج بن گیا۔وطن کے جن اصحاب اخلاص پر نگاہ رکتی تھی اور اس طوفان کے آگے بند باندھنے کی امید کی جا سکتی تھی، وہ ریاست سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے تھے۔ ان میں چودھری غلام عباس اور میر واعظ مولوی محمد یوسف شاہ جیسی قد آور سیاسی شخصیات بھی شامل تھیں۔

مایوس کن حالا ت میں سید علی گیلانی کی رسائی مولانا سید ابو الا مودودی ؒکے لٹریچر تک ہو ئی تو انہیں اندھیرے میں روشنی کی کرن نظر آگئی۔انہیں اپنے ہر سوال کا جواب مل گیا۔ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی اور نظام اسلامی کے احیاءکے لیے سید مودودیؒ نے اپنے افکار و کردار سے جہد مسلسل کا جو راستہ اختیار کیا تھا، سید علی گیلانی نے اسی راستے کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔

اسی دوران تحریک اسلامی جموں و کشمیر کے درویش صفت امیر جناب مولانا سعد الدین سے ان کی ملاقات ہوئی، تو وہ سید مودودیؒ کے لٹریچر کے بعد مولانا سعد الدین کے فیضان نظر کے قائل ہو گئے۔ یوں جنا ب سید علی گیلانی اس قافلہ عشاق میں شامل ہو گئے، جسے جماعت اسلامی کہا جاتا ہے۔جماعت اسلامی میں شمولیت کے ساتھ ہی سید علی گیلانی کو اپنے تمام سوالوں کا جواب مل گیا۔

وہ جماعت اسلامی کی انقلابی دعوت اور اسلامی نظام حیات کے قیام کے لیے دیوانہ وار سرگرم عمل ہو گئے۔ جماعت اسلامی جموں و کشمیر نے ریاست پر بھارتی تسلط کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس کے قائدین ہمیشہ اپنی گرمئی گفتار سے ریاست پر بھارتی قبضے کو توڑتے رہے۔

حق گوئی و بے باکی کے جرم میں جماعت اسلامی کے قائدین اور کارکنوں کو بارہا جیلوں میں دھکیلا جاتا رہا لیکن جماعت اسلامی آزمائش کی ہر بھٹی سے کندن بن کر نکلتی رہی۔ابتلا کی بھٹی سلگائی گئی تو سید علی گیلانی سب سے بڑھ کر تعزیر و تعذیب کے مستحق ٹھہرے کہ انہوں نے بھارتی استعمار کو زیادہ جرات اور زیادہ بلند آواز سے للکارا تھا۔ انہوں نے ہر بار یہ بات دو ٹوک انداز میں کہی: ”میں بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کو نہیں مانتا۔ میں بھارتی سامراج کا باغی ہوں اور اس بغاوت کے جرم میں مجھے پھانسی کے پھندے کو بھی چومنا پڑا تو میں اسے اپنی سعادت سمجھوں گا“۔

جناب سید علی گیلانی کی یہ جرأت اور بیباکی بھارتی حکمرانوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی چلی گئی۔28اگست 1962ءکو پہلی بار انہیں گرفتار کر کے پس دیوار زندان پہنچا دیا گیا۔ جہاں وہ ایک سال ایک ماہ تک مقید رہے۔ یہ دارو گیر کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا نقطہ آغازتھا۔ اس کے بعد تو جیل سید علی گیلانی کا مسکن، ہتھکڑی زیور اور زنجیر کی کھنکھناہٹ آزادی کا ترانہ بن گئی۔ اور ان کی سیاسی زندگی کا ہرتیسرا دن جیل میں گزرنے لگا۔ جیل میں ایک اور مرد، درویش جناب حکیم مولانا غلام نبی بھی موجود تھے جو بعد میں امیر جماعت اسلامی (مقبوضہ)جموں و کشمیر بھی رہے۔ 

ان کی قربت نے سید علی گیلانی کی علم کی پیاس بجھائی اور انہیں عمل کے اسلحے سے لیس کیا۔یہ عرصہ گیلانی صاحب کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا۔مولانا حکیم غلام نبی کے علم و تقوی نے آپ کی زندگی میں گہرے نقوش ثبت کئے۔اسی اسیری کے عرصے میں آپ کے والد گرامی کی وفات ہوئی، لیکن آپ کو والد ماجد کا آخری دیدار کرنے کی اجازت بھی نہ دی گئی۔وہ اپنے محبوب باپ کے جنازے کو کندھا بھی نہ دے سکے۔

جیل سے رہائی کے بعد جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے سیکرٹری جنرل بنا دیے گئے۔جیل کی سختیوں اور قید و بند کی صعوبتوں نے آپ میں بھارتی تسلط کے خلاف بغاوت کے جذبات کو اور بھی بھڑکا دیا تھا۔اب وہ پہلے سے زیاوہ بلند آہنگ میں آزادی کی صدا بلند کرنے لگے۔ وہ پوری یکسوئی سے ہندوستانی استعمار سے رائے شماری کرانے کا وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ عوام کو آپ نے حق خودارادیت کے حصول کے لیے تیار، بیدار اور ہوشیار کرنا شروع کیا۔ 1965ءمیں پاکستان کے مشہور زمانہ ”آپریشن جبرالٹر“سے کچھ ہی عرصہ پہلے7مئی1965ءکو سید علی گیلانی کو پھر گرفتار کر لیا گیا۔

باور کیا جاتا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کو اپنے خفیہ اداروں کے ذریعے اس آپریشن کی بھنک پڑچکی تھی۔ ان کے خیال میں پاکستانی حملے کی صورت میں سید علی گیلانی ہی پاکستانی کمانڈوز کو اندرون کشمیر ہر ممکن مدد فراہم کر سکتے تھے۔ لہٰذا”آپریشن جبرالٹر“کو ناکام بنانے کےلئے جناب گیلانی کی گرفتاری ضروری تھی۔”آپریشن جبرالٹر“کی ناکامی کی وجوہ میں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں رائے عامہ کو بیدار اور منظم کر کے مجاہدین کی پشت پر لا کر کھڑاکرنے والی قیادت میسر نہ تھی۔

سید علی گیلانی میدان میں موجود ہوتے تو اس کمی کو احسن انداز سے پورا کر سکتے تھے۔ لیکن آپریشن جبرالٹر کے ”شاہ دماغ“منصوبہ سازوں کو شاید صورت حال کے اس پہلوکی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔ سید علی گیلانی کی رہائی 1967ءمیں اس وقت عمل میں آئی جب آپریشن جبرالٹر کا طوفان تھم کر حالات بظاہر پر سکون ہو گئے تھے۔ رہائی کے فوراََبعد سری نگرمیں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں سید علی گیلانی نے ایک بار پھر اپنے عزم آزادی کا بیانگ دہل اظہار کر کے بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دیں۔

پریس کانفرنس میں آپ نے فرمایا: ”بھارت نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو اقوام متحدہ میں تسلیم کر رکھا ہے اور ہماری بھی کوشش یہی ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی انداز میں ہی حل کیا جائے۔خود بھارت کا مفاد بھی اسی میں ہے لیکن اگر بھارتی حکمرانوں نے مزید ٹال مٹول سے کام لیا تو کشمیری کسی دوسرے راستے کا انتخاب کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔“ جب شیخ عبد اللہ اور اس کے حواری بتدریج رائے شماری کے مطالبے سے پسپائی اختیار کرنے لگےتو شیخ نے 1973ءمیں اندرا گاندھی کے ساتھ گٹھ جوڑکر کے بھارئی قبضے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ یوں وزارت اعلیٰ کی کرسی کے عوض کشمیریوں کے حق آزادی کااےک بار پھر سودا کر کے ”شیر کشمیر“غدار چہرے کے ساتھ سامنے آگیا۔

اب شیخ عبد اللہ اور اس کے مصاحبین کے تیورہی بدل گئے تھے۔ جو کل تک رائے شماری کے لیے لڑنے مرنے کی قسمیں کھاتے تھے، اب کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کو”اٹل حقیقت “اور کشمیر کو بھارت کا ”اٹوٹ انگ“ ثابت کر انے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ اس موقع پر بھی سید علی گیلانی نے ہی قوم کے جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کیا۔ یہ صاحب طویل عرصہ جموں و کشمیر اسمبلی کے ممبر، جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر اورمقبوضہ ریاستی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہے۔ 1987 میں سید علی گیلانی کی قیادت میں مسلم متحدہ محاذ کے پلیٹ فارم سے بھارت کے خلاف اور آزادی کے لیے انتخابی معرکہ لڑا گیا جس میں بھارتی فوج اور انتظامیہ نے شدید دھاندلی کے ذریعے محاذ کی فتح کو شکست میں تبدیل کیا ۔ گیلانی ، سمیت صرف چار ممبران کامیاب ہو سکے۔ 

اس الیکشن میں موجودہ حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین بھی سرینگر سے مقبول ترین امیدوار تھے۔ یاسین ملک، جاوید میر اور دیگر نوجوان، سید صلاح الدین کے پولنگ ایجنٹ تھے۔ مسلح تحریک نے زور پکڑا تو سید علی گیلانی سمیت مسلم متحدہ محاذ کے ممبران اسمبلی نے انتخابی سیاست سے دستبردار ہو کر تحریک آزادی کو نئی جہت دی۔ سید علی گیلانی کی زندگی کا بڑا حصہ بھارتی جیلوں میں گزرا ۔ اس وقت بھی اکیانوے سال کی عمر میں گھر پر نظربند تھے اور باہر فوج کا پہرا تھا۔اسی نظر بندی نے دنیا کو خدا حافظ کہا۔ 

حقیقت یہ ہے کہ باقی ساری حریت قیادت تحریک کا پراڈکٹ ہے، جسے حالات یا مہربان طاقتوں نے تخلیق کیا ہے، جب کہ یہ تحریک خود سید علی گیلانی کا پراڈکٹ ہے۔ انہوں نے اسے اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔ وہ عظیم قائد 92 سال کی عمر میں اپنی مظلوم قوم کو داغ مفارقت دے کر اپنے رب کے حضور حاضر ہو چکا ہے۔

ہفت روزہ ،’’چٹان ‘‘(سری نگر ) میں شائع ہونے والے سید علی گیلانی کے ایک انٹرویو سے چند اقتباسات 

2020 ء میں شائع ہونے والے انٹرویو میں ،سید علی گیلانی نے کہا،طویل عرصے میں ہم نے دیکھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی بار بات چیت ہوئی۔ اسی طرح بھارت اور کشمیریوں کے بیچ میں بھی بات چیت کے کئی دور ہوئے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے اولاً اقوام متحدہ کی قراردادیں بنیاد ہیں یا سہ فریقی مذاکرات ہونے چاہئیں جن میں پاکستان بھی شریک ہو۔

حالات کافی بدل گئے ہیں اور اب تو امریکی صدر بھی کہہ رہے ہیں کہ بھارت اور کشمیریوں کو مذاکرات کرنے چاہئیں؟اس بارے میں سید علی گیلانی نے کہا،ہماری جدوجہد نہ تو امریکی صدر کے ارشادات کےمطابق ہے اور نہ کسی اور عالمی قوت کے اشاروں پر۔ یہ جدوجہد 1947 سے جاری ہے اور آج یہ کہاجارہا ہے کہ، عالمی قوتیں مثلا ًامریکا، برطانیہ، اقوام متحدہ اور جی ایٹ یا پی فائیو ممالک ہمارے کاز کی اس سطح پر حمایت نہیں کرتے جس سطح پر ان کو کرنا چاہئے تو اس لئے ہمیں اپنی جدوجہد سے ہاتھ اٹھانا چاہئے اور مایوس ہونا چاہئے اور بھارت کی قوت اور طاقت کے سامنے سرینڈر کرنا چاہئے۔ 

یہ حقیقت پسندانہ رویہ قرار نہیں دیا جاسکتا- یہ حق و صداقت پر مبنی جدوجہد ہے اور اس کو برقرار رکھنا چاہئے، چاہے امریکا ساتھ دے یا نہ دے۔یہ کہناکہ کوئی بھی مسئلہ بین الاقوامی برادری کی مداخلت یا تعاون کے بغیر حل نہیں کرسکتے؟یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ بین الاقوامی برادری کے سامنے اپنے مفادات ہیں، برطانیہ کے اپنے، پی فائیو یا جی ایٹ کے سامنے ان کے اپنے معاشی یا قومی مفادات ہیں اور وہ ہماری توقعات کےمطابق ہماری جدوجہد کی حمایت نہیں کرسکتے۔ لیکن پھر بھی میں یہ بتادوں کہ کوئی بھارت کے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا کہ جموں و کشمیر اس کاجزو لاینفک ہے۔سب کہتے ہیں کہ جموں و کشمیر متنازعہ ہے اور اس کو پر امن طریقے سے حل کیا جانا چاہئے۔

بنیادی بات تو لوگوں کی رائے ہے- اگر استصواب رائے میں لوگ بھارت کے حق میں فیصلہ دیں تو ہمیں کوئی عذر نہیں ہوگا- اگر بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تو تینوں فریقوں کے نمائندے مل کر کسی بھی فارمولے پر غور و خوض کرسکتے ہیں اور جو بھی فارمولا سامنے آئے گا اور جس پر اتفاق ہوجائے اس کو ہم تسلیم کریں گے۔

نیشنل کانفرنس ہمیشہ حریت کانفرنس اور بھارت کی مرکزی سرکار کے درمیان مذاکرات کی مخالفت کرتی آئی ہے؟ اس حوالے سے سید گیلانی نے کہا، نیشنل کانفرنس کا ہدف اور مقصد صرف اقتدار ہے۔ اس لئے وہ ہر وقت اندیشوں میں گھرے رہتے ہیں کہ کہیں ان کا اقتدار چھن نہ جائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر حریت کانفرنس اور بھارت میں مصالحت ہوجائے تو شاید ان کی حکومت نہ رہے۔ آپ ان کا یہ اندیشہ دور کردیں کہ حریت کانفرنس اقتدار کے لیے نہیں لڑ رہی اس لئے ان کو اپنے اقتدار کے حوالے سے پریشان نہیں رہنا چاہئے۔

ان کا اقتدار فوج کے سہارے سے ہے اور جب تک یہاں پر بھارت کا فوجی تسلط ہے ان کا اقتدار قائم رہے گا۔نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر میں ہندوستان کے آدرشوں کی ترجمان ہے۔ہم بار بار یہ واضح کرتے آئے ہیں کہ ایل او سی کو مستقل لائن قرار دینا مسئلے کا حل نہیں اور نہ اندرونی خود مختاری یا 53 کی پوزیشن۔ ان کو ہم کسی لگی لپٹی یا ابہام کے بغیر مسترد کرتے ہیں۔آئندہ کی حکمت عملی کے بارے میں علی گیلانی کا کہنا تھا کہ ،اس کا بنیادی نکتہ یہ رہنا چاہئے کہ لوگوں کے حوصلے بلند رہیں اور اگر خدا نخواستہ انکی کچھ غلط توقعات ہیں کہ ہم جہدوجہد کے اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں کہ سمجھوتہ کرکے کچھ مشکلات کو کم کریں، لیکن شہدا کی قربانیوں اور ہمارے مقصد کا احترام برقرار نہ رکھا جائے تو ان کی ان غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہئے۔

ایک نظر میں

آزادی کے نقیب، برصغیر کے منجھے ہوئے سیاست دان، شعلہ بیان مقرر ،سید علی گیلانی29ستمبر 1929ء کو زُوری منز تحصیل بانڈی پورہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پرائمری سکول بوٹنگوسوپور میں حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، 1949میں عملی زندگی میں قدم رکھا اور 12سال تک وادی کے مختلف اسکولوں میں خدمات انجام دیں،1953میں جماعت اسلامی کے رکن بن گئے۔

پہلی بار 28اگست 1962ء کو گرفتار ہوئے۔ مجموعی طور پر آپ نے زندگی کے 14سال سے زائد بھارتی سامراج کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں ریاست اور ریاست کے باہر مختلف جیلوں میں گزارے ، آپ 15سال تک اسمبلی کے ممبر رہے ۔ ریاستی اسمبلی کے لیے تین بار، 1972ء، 77ء اور 1987ء میں اسمبلی حقہ سوپور سے جماعت اسلامی کے مینڈیٹ پر منتخب ہو ئے ۔ 30اگست 1989ء کو اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔ 7اگست 2004ء کو تحریک حریت قائم کی، تب سے اس کے چیئرمین اور ساتھ ہی حریت کانفرنس کے چیئرمین رہے۔ 

آپ رابطہ عالم اسلامی کے ممبر بھی رہ چکے ہیں، تیس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں رودادقفس، قصہ درد، صدائے درد، مقتل سے واپسی، دیدوشنید اور فکر اقبال پر شاہکار کتاب، روح دین کا شناسااول و دوم، پیام آخریں، نوائے حریت، بھارت کے استعماری حربے ، عیدین،سفر محمود میں ذکر مظلوم،ملّت مظلوم، تو باقی نہیں،What should be done، پسِ چہ باید کرد، پیامِ آخرین،اقبال اپنے پیغام کی روشنی میں، ایک پہلو یہ بھی ہے کشمیرکی تصویر کا، ہجرت اورشہادت، تحریک حریت کے تین اہداف،معراج کا پیغام، نوجوانانِ ملت کے نام، دستور تحریکِ حریت اور ولّر کنارے اول دوم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ آپ مختلف جسمانی عوارض میں مبتلا رہے ۔ باطل قوت نے آپ کو راستے سے ہٹانے کیلئے ایک درجن سے زیادہ قاتلانہ حملے کیے مگر کامیابی نہ ہوئی۔

سیدگیلانی کی دہائیوں پر محیط انتھک جدوجہد ِآزادی کے اعتراف میں پاکستان کے 73 ویں یوم آزادی پر حکومت ِپاکستان کی جانب سے انہیں نشان ِپاکستان سے نوازا گیا ،جو ،14 اگست 2020 ء کو صدر ِمملکت ،ڈاکٹر عارف علوی نے دیا اور ایک حریت رہنما نے یہ اعزاز وصول کیا ۔