• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں ماضی میں ہونے والے بڑے حادثات اور ان کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے خاتمے سے بھی متعلقہ اداروں نے کچھ نہیں سیکھا،گزشتہ کئی دہائیوں سے شہر میں ہونے والے دہشت گردی میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے گئے وہیں۔ صنعتی علاقوں میں موجود فیکٹریوں میں آگ لگنا کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہاں موجود اداروں نے آج تک نہ تو ان واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کی اور نہ ہی فیکٹری مالکان نے اپنے ملازمین کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے۔

غریب مزدور اور محنت کش اپنا خون جلا کر کم تنخواہوں اور بغیر مراعات کے ان فیکٹریوں میں اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں، لیکن ان کے حال کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ گھر سے رزقِ حلال کے لیے نکلنے والوں کی لاشیں گھر پہنچتی ہیں، لیکن حکومت اور متعلقہ ادارے دو چار روز بیانات اور دکھاوے کے ایکشن لےکر پھر اسی روش پر چل پڑتے ہیں۔ متعلقہ اداروں میں سیاسی بنیادوں پر ہونے والی بھرتیوں اور نااہل افراد کی تعیناتی نے ان اداروں کو سفید ہاتھی بنا دیا ہے۔ تازہ ترین افسوس ناک واقعہ کورنگی کے مہران ٹاؤن میں پیش آیا، جہاں فیکٹری میں آگ لگنے سے 16 مزدور اپنی زندگی کی بازی ہار گئے، جب کہ ایک مزدور کا والد اپنے جگر گوشے کی لاش دیکھ کر صدمے کے باعث یہ دنیا چھوڑ گیا۔

کورنگی کے مہران ٹاؤن میں واقع بریف کیس فیکٹری میں 27 اگست کی صبح خوف ناک آتشزدگی کے نتیجے میں تین سگے بھائیوں سمیت 16 مزدور جاں بحق ہوئے۔ صبح 10 بجے کے قریب فیکٹری کے ڈرموں میں رکھے کیمیکل میں آگ بھڑک اٹھی،جس کی اطلاع فائر بریگیڈ کے ایمرجنسی نمبروں پر دی گئی۔ تاہم فائر بریگیڈ کا حسبِ روایت تاخیر سے پہنچا ،جب تک آگ مکمل طور پر پھیل چکی تھی ، فائر بریگیڈ کے عملے نے تھوڑی دیر بعد ہی آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیتے ہوئے پورے شہر سے گاڑیاں طلب کر لیں۔ محکمہ فائر بریگیڈ کے مطابق فیکٹری میں سفری سامان کی مختلف اشیاء کی تیاری میں استعمال ہونے والا کیمیکل موجود تھا اور آگ کیمیکل کے ڈرم میں لگی اور آگ پھیلتی چلی گئی۔ 

آگ کی شدت سے عمارت کے کچھ حصے بھی گر گئے۔ فائر بریگیڈ کے مطابق امدادی کارروائی کے دوران 2 ریسکیو اہل کار زخمی ہوئے، جب کہ ایک اہل کار فیکٹری کی دوسری منزل سے گر کر زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق فیکٹری کی تمام کھڑکیاں لوہے کہ گِرل لگا کر بند کی گئی تھیں۔ کمروں میں کھڑکیوں کے ساتھ سامان رکھ دیا گیا تھا، تاکہ کوئی کھڑکی تک نہ آسکے، بہ ظاہر ان اقدامات کا مقصد فیکٹری میں چوری کا روکنا تھا، اس موقع پر موجود ایک مزدور نے بتایا کہ فیکٹری میں کھانا نہیں بنایا جارہا تھا اور نہ شارٹ سرکٹ ہوا، مگر فیکٹری میں موجود پرانے سامان میں کس طرح سے آگ لگی، یہ معلوم نہیں ہے،ایک اور مزدور نے بتایا کہ فیکٹری کے پیچھے کی کچھ کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں۔ آگ کے دوران ہم نے شور مچایا، مگر کسی نے نہیں سُنا، ہمیں نہیں معلوم کہ آگ پوری فیکٹری میں کیسے پھیلی۔ 

چیف فائر آفیسر مبین احمد کے مطابق فیکٹری کی چھت پر تالے کے لگے ہونے کے باعث مزدوروں کو چھت یا نیچے جانے میں مشکلات ہوئیں۔ فیکٹری میں داخلے کا راستہ صرف ایک ہی ہے ، فیکٹری کی چھت کے راستے پر بھی تالا لگا ہوا تھا، مزدوروں کو چھت یا نیچے جانے میں مشکلات ہوئی تھیں۔ پولیس حکام نے بھی تصدیق کی ہے متاثرہ فیکٹری کے مطابق اندر 25 کے قریب لوگ موجود تھے، جس وقت فیکٹری میں آگ لگی، ملازمین کی بڑی تعداد فیکٹری میں موجود تھی، جس میں گراؤنڈ فلور پر موجود ملازمین بچ نکلنے میں کام یاب ہوگئے، جب کہ پہلی اور دوسری منزل کے ملازمین ہنگامی اخراج نہ ہونے کے باعث فیکٹری سے باہر نکل نہ پائے اور تیزی سے عمارت میں بھرنے والے دھویں سے دم گھٹنے اور آگ سے جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔ 

آگ پر قابو پانے کے دوران کرین کی مدد سے فیکٹری کی پہلی اور دوسری منزل پر جان بچاتے ہوئے دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کا نکالا گیا، جنھیں بعد ازاں جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ آگ کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے جناح اسپتال میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ، فیکٹری میں آگ کی اطلاع پر وہاں پر ملازمت کرنے والے ملازمین کے اہل خانہ بھی موقع پر پہنچ گئے، جہاں کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ ملازمین کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی زندگی کے لیے دُعائیں مانگتے رہے ۔ اطلاعات کے مطابق آگ فیکٹری کی پہلی منزل پر لگی تھی اور وہاں پر موجود ملازمین جان بچانے کے لیے دوسری منزل پر بھاگے، جب کہ دوسری منزل پر موجود ملازمین جان بچانے کے لیے چھت پر گئے تو وہاں پر دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔ 

اس دوران فائر بریگیڈ کی جانب سے آگ بجھانے کے لیے پانی ڈالا گیا، تو وہ اتنا گرم ہوگیا تھا کہ اس میں پاؤں تک نہیں رکھا جا سکتا تھا اور ملازمین کی جان بچانے کے حوالے سے کی جانے والی چیخ و پکار فیکٹری کے باہر تک سنائی دے رہی تھی۔ واقعہ کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ فیکٹری میں‌ آتشزدگی کے بعد ریسکیو رضاکار میتیں‌ لے جانے کے لیے آپس میں‌ لڑتے رہے۔ ایک ادارے کی ریسکیو ٹیم نے فیکٹری سے ایک لاش نکال کر جیسے ہی نیچے اتاری تو دوسرے ادارے کے رضاکار اسے لے جانے کے لیے آپس میں الجھ پڑے۔ واقعہ کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رضاکار کس طرح جھلس کر جاں بحق ہونے والے ایک مزدور کی میت کے لیے کھینچا تانی کر رہے ہیں۔ اس کھینچا تانی کی وجہ سے لاش بھی نیچے گر گئی، لیکن اس کے باوجود دونوں اداروں کے رضاکار بے حسی کا مظاہرہ کرتے رہے۔

واقعے کا مقدمہ الزام نمبر 1182/21 زیر دفعہ 322/34 سرکار کی مدعیت میں تھانہ کورنگی صنعتی ایریا میں درج کیا گیا۔ مقدمہ قتل باسبب کی دفعہ لگائی گئی ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق فیکٹری میں ایمرجنسی صورت حال میں نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، فیکٹری میں جانے کا ایک ہی راستہ تھا،فیکٹری میں کوئی الارم سسٹم بھی موجود نہ تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق ہم نے چوکیدار سے تالا کھولنے کے لیے کہا۔عمارت ایسے بنائی گئی کہ ایمرجنسی میں کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔ مقدمہ میں فیکٹری مالک علی مہتا،بلڈنگ مالک فیصل، منیجرعمران زیدی، سپر وائزر ظفر ،ریحان اور چوکیدارسید زرین کو نامزد کیا گیا۔

پولیس نے فیکٹری میں آتشزدگی کی تحقیقات میں متعلقہ محکموں کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفتیش کار تاحال آگ لگنے اور پھیلنے کی وجوہ کا تعین نہیں کرسکے۔ پوسٹ مارٹم میں کہا گیا کہ دھوئیں کے باعث دم گھٹنے سے ہلاکتیں ہوئیں، دھوئیں میں ایسا کون سا کیمیکل یا گیس تھی کہ جس نے 16 افراد کی جان لے لی، اس بات کا بھی اب تک معلوم نہیں لگایا جا سکا ہے۔ حادثے کا شکار فیکٹری قانونی تھی یا غیر قانونی،فیکٹری کا بلڈنگ اسٹیکچر ایس بی سی اے سے منظور شدہ تھا یا نہیں، فیکٹری سوشل سیکیورٹی یا لیبر ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ تھی یا نہیں۔ 

اس حوالے سے متعلقہ محکموں سے سوالات کیے جائیں گے۔ تفتیش کاروں نے محکموں سے جواب طلبی کے لیے خطوط ارسال کردیے۔ شامل تفتیش محکموں میں کے ڈی اے، ایس بی سی اے ،ریونیو ڈیپارٹمنٹ ،سیسی ، لیبر اور فائر بریگیڈ کے محکمے شامل ہیں۔ پولیس نے فیکٹری مالک کی ٹریول ہسٹری جاننے کے لیے درخواست لکھ دی گئی۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ فیکٹری مالک علی مہتا کی ٹریول ہسٹری جاننے کے لیے ڈائریکٹر ایف آئی کو درخواست لکھی گئی ہے، جس سے یہ معلوم ہو گا کہ ملزم حالیہ دنوں میں بیرون ملک فرار ہوا ہے یا نہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ علی مہتا کی تلاش میں گزشتہ شب شرف آباد میں ان کی ممکنہ رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا۔ تاہم چھاپے میں علی مہتا گرفتار نہ ہوسکے ۔ حکام کے مطابق فیکٹری مالک علی مہتا نے اپنے تمام فون بند کر دیے ہیں۔ واضح رہے کہ تادم تحریر مقدمہ میں نامزد 6 ملزمان میں سے کسی ایک ملزم کو بھی تاحال پولیس گرفتار نہیں کر سکی ہے۔

شہر میں سینکڑوں بڑے حادثات کے بعد بھی آج تک حکومتی سطح پر کوئی ریکسیو سروس موجود نہیں ہے۔ فائر بریگیڈ اور اسنارکلز کی تعداد ڈھائی کروڑ کی آبادی کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ فیکڑیوں کے اندر فائر سیفٹی کے کوئی انتظامات نہیں ہیں اور جہاں ہیں، وہ بھی صرف رسمی طور پر کیے گئے ہیں۔ فائر فائٹرز کی تربیت اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ 

ایس بی سی اے، لیبر ڈیپارٹمنٹ سمیت تمام متعلقہ ادارے سیاست زدہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ میرٹ کے بہ جائے سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں اور نااہل افسران کی تعیناتیوں کا خمیازہ غریب شہری بھگت رہے ہیں، پولیس کی تفتیش بھی روایتی انداز سے چلتی ہے اور کچھ عرصے بعد ایک نیا حادثہ پرانے حادثے پر مٹی ڈال دیتا ہے اور پھر سے وہی بیانات،تسلیاں،چند روز میڈیا کی پھرتیاں اور پھر حکومت کی بے حسی شروع ہو جاتی ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید