• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

6 سالہ معاویہ خان کراچی کا رہائشی اور ہیپی پیلس اسکول نارتھ ناظم آباد کیمپس 2 میں دوسری جماعت کا طالب علم ہے۔ پڑھائی کے علاوہ اسے مارشل آرٹس سے دل چسپی ہے۔ وہ اپنا شوق پورا کرنے کے لیےایک کراٹے سینٹر میں تربیت حاصل کررہا ہے اور اس نے دوسرے مرحلے میں پہنچ کر’’ یلو بیلٹ ‘‘حاصل کی ہے۔ اسے پاکستانی فوج سے بہت انسیت ہے اور وہ خود بھی فوجی بننا چاہتا ہے۔ اس نے اپنے کمرے میں فوجی جوانوں کی تصویریں لگائی ہوئی ہیں۔ اس کے دادا کراچی پولیس میں تھے جب کہ دو چچا، عدنان خان اور نعمان خان فوجی افسر ہیں ، جو سوات اور کوئٹہ میں خدمات انجام دے رہےہیں۔ 

معاویہ نے ہم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’ میں جب اپنے چچاؤںسے ملنے جاتا ہوں تو چھاؤنی کے علاقے میں ٹھہرتا ہوں۔ وہاں فوجی جوانوں کو مشقیں کرتے دیکھتا ہوں، اس وقت میرے دل میں فوجی بننے کی آرزو بڑھ جاتی ہے‘‘۔ معاویہ کاشوق کو دیکھتے ہوئے اس کے ابو نے اسے فوجی وردی، کھلونا پستول اورنقلی رائفلیں لاکر دی ہیں۔ 

وہ وردی پہن کر اور رائفل لے کر فوجیوں کے انداز میں چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے والد کا کہنا ہے کہ جب معاویہ بڑا ہوجائے گا تو وہ اسے ملٹری اسکول میں داخل کرائیں گے تاکہ وہاں تربیت حاصل کرکے بڑا فوجی افسر بنے۔ ابھی وہ بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے عزائم دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ ننھا مجاہد بڑا ہوکر اپنے چچاؤں کی طرح فوجی افسر بن کر ملک و قوم کے محافظ کا کردار ادا کرے گا۔