• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کو روکنے کے لیے پوری دنیا میں کام ہورہا ہے، کیونکہ اگر ایک خاص حد سے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو خاص طور پر انسان کو اس کے دور رس اور بھیانک نتائج کو بھگتنا پڑے گا۔ زہریلی گیسوں کے اخراج میں38فی صد حصہ تعمیراتی صنعت کا ہے، جو کہ دیگر شعبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ ایسے میں تعمیراتی صنعت میں زہریلی گیسوں کے اخراج کو روکنے یا کم کرنے کے لیے کام ہورہا ہے۔

سبز تعمیرات ایسی ہی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ ایک نظریہ ہے اور اس تعمیراتی نظریے میں ماحول موافق تعمیر، معقول شہری منصوبہ بندی کے ایک عنصر کے طور پر شامل ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک پائیدار (Sustainable)اور توانائی کے کم خرچ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کا طریقہ تعمیرات ہے، جو ساز و سامان کے کم سے کم ضیاع اوراستعمال کوبھی یقینی بناتا ہے۔ ان عملی اقدامات سے پرے سبز تعمیرات کا نظریہ ایک فلسفے کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں فنِ تعمیر اور فطرت ایک دوسرے سے مربوط معلوم ہوتے ہیں اور ان میں ایک طرح کی ہم آہنگی نظر آتی ہے۔

امریکی گرین بلڈنگ کونسل (USGBC) کے مطابق، ’سبز‘ یا ’پائیدار‘ عمارت کے طریقوں میں ماحولیاتی، اقتصادی،طبی اور سماجی فوائد ہیں۔

آنے والے کل کی تعمیرات

ایک اندازے کے مطابق امریکا میں پیداکی جانے والی تقریباً 42فیصد بجلی عمارتوں میں استعمال ہوتی ہے، مجموعی توانائی کی کھپت میں عمارتوں کا حصہ تقریباً39فیصد ہے جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں حصہ 38 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ استعمال شدہ 40فیصد خام مال، 30فیصد فضلہ کی پیداوار اور 14فیصد پینے کے پانی کی کھپت امریکا کی رہائشی اور تجارتی عمارتوں کی مرہونِ منت ہے۔ اس تمام صورتحال کے پیش نظر، انسان کی سہولت اور زندگی کے معیار کو بہتر سے بہتر کرنے کے لیے سبز عمارتوں یا پائیدار فنِ تعمیر کا مقصد کھپت اور فضلے کو کم کرنا ہے۔

ماحولیاتی فوائد

سبز فنِ تعمیر کے ماحولیاتی فوائد اہم ہیں۔ سبز عمارتیں ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے، ان کے تحفظ، ہوا اور پانی کی کیفیت کو بہتر بنانے، ٹھوس فضلہ کو کم کرنے اور قدرتی وسائل کو تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یو ایس جی بی سی کے مطابق، روایتی طور پر تعمیر شدہ تجارتی عمارت کے مقابلے میں سبز عمارتیں 26 فی صد کم توانائی استعمال کرتی ہیں، اس کی قیمت تقریباً13فی صد کم ہوتی ہے، 27فیصد زیادہ پیشہ ورانہ طور پر اطمینان بخش ہوتی ہیں اور 33فی صد کم گرین ہاؤس گیسز کا اخراج کرتی ہیں۔

امریکا کی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کا کہنا ہے کہ تعمیراتی ماحول، قدرتی ماحول پر دیرپا اثرات مرتب کرتا ہے اور یہ کہ سبز فن تعمیر اور سبز عمارت قدرتی وسائل کی کھپت کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس بات کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ امریکا میں مجموعی طورپر پانی کی کھپت26ارب گیلن یومیہ ہے، جس میں سے تقریباً 7ارب گیلن یا 30 فیصد بیرونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ زمین کی تزئین۔ ماحول دوست عمارتیں اکثر بیرونی مقاصد کے لیے برساتی پانی کے استعمال کو بہتر بناکر پانی کی بچت کی حکمت عملی کو شامل کرتی ہیں، تاکہ زیرِ زمین پانی حاصل کرنے کے لیے کنویں نہ کھودنے پڑیں۔

اقتصادی فوائد

پائیدار عمارت سے بہت سارے فوائد اُٹھائے جاتے ہیں، بشمول آپریٹنگ اخراجات میں کمی، اعلیٰ پیشہ ورانہ اطمینان اور پیداوار میں اضافہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ ایک سروے کے مطابق، ایک روایتی عمارت کے مقابلے میں سبز عمارت جلد فروخت ہوجاتی ہے۔ پائیدار عمارتوں کے کم آپریٹنگ اخراجات کی وجہ سے روایتی عمارتوں کے مقابلے میں انھیں بحال اور قابلِ استعمال حالت میں برقرار رکھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

سبز عمارتوں میں عام طور پر درجہ حرارت کو بہتر طور پر کنٹرول رکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور ان میں وینٹی لیشن کو بہتر بنایا جاتا ہے۔ عام الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ سبز یا پائیدار عمارتیں ایسی صحت مند ہوتی ہیں جو مصنوعی توانائی کے استعمال سے پیدا ہونے والی روشنی کے مقابلے میں قدرتی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرتی ہیں، جس کے باعث ان عمارتوں کو تعمیر کرنے والے اور انھیں رہائشی یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے لوگ خود کو سماجی طور پر زیادہ ذمہ دار اور بہتر محسوس کرتے ہیں۔

معاشرتی فوائد

یو ایس جی بی سی کے مطابق، ماحول دوست عمارات کا صحت اور معاشرتی فوائد میں کردار بھی ثابت شدہ ہے۔ یہ کم توانائی خرچ کرنے سے لے کر کم فاضل مادے پیدا کرنے اور انسان کی جیب سے لے کر صحت تک ہر شعبے میں انسان دوست اور معاون ثابت ہوتی ہیں۔ سبز تعمیرات سے عمارتوں اور ارد گرد کا درجہ حرارت قابلِ برداشت حد میں رہتا ہے، ہوا کا معیار اچھا ہوتا ہے اور ان کا ڈھانچہ ماحولیات اور زمین پر کم بوجھ بنتا ہے۔ لارنس برکلی نیشنل لیبارٹری کے محقق، ولیم جی فاسس کا کہنا ہے کہ سبز عمارتیں صحت مند عمارتیں ہوتی ہیں اور یہ الرجی اور دمہ کی بیماری میں مبتلا مریضوں کے لیے فطری علاج کا کام کرتی ہیں۔