• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بڑھتے عالمی درجہ حرارت کے پیشِ نظر ماحول دوست تعمیرات

سیارہ زمین کو عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کی صورت میں اپنی بقا کو قائم رکھنے کے لیے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ اضافہ زمین پر بسنے والی تمام حیات خصوصاً انسان کے لیے ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ پُرخطر بنتا جارہا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حال اور مستقبل میں گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے تعمیرات خصوصاً گھروں کی تعمیر میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں، کیوں کہ بہرحال ہم اپنا سب سے زیادہ وقت گھر پر ہی گزارتے ہیں۔ گھروں کی طرزِ تعمیر پر ہم تفصیلی بحث تو کریں گے لیکن آغاز میں ہی یہ بات کہہ دینا بہتر ہوگا کہ غالباً مغرب کے سرد ملکوں کا طرزِ تعمیر اور گھروں کے ڈیزائن پاکستان جیسے گرم خطے کے ملک کے لیے موافق نہیں ہیں۔

گھروں کی تعمیر اس طرح کرنی چاہیے کہ ان میں اسٹائل اور ڈیزائن پر بھی سمجھوتہ نہ ہو اور ماحولیاتی اثرات کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے۔ کائنات کا ایک ’ماحولیاتی نظام‘ ہے، جس میں اگر توازن کو برقرار رکھنے کے اقدامات نہ لیے گئے تو اس کے انتہائی بھیانک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انسان کی صارفیت سے محبت اور بے ہنگم تعمیرات نے درختوں اور جنگلات کو کاٹ کر اس توازن کو بُری طرح بگاڑ دیا ہے، جس کے باعث درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم گھروں کی تعمیر اور ڈیزائن میں بنیادی باتوں کا خیال رکھیں۔ اس کے علاوہ، آپ اپنے پہلے سے تعمیر شدہ مکان کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟ آئیے چند بنیادی اور مفید باتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

روشنی ناگزیر ہے

بے ہنگم تعمیرات کے نتیجے میں اس فن کی بنیادی اور لازمی خصوصیات کو بھی بھلا دیا گیا ہے۔ گھر کی تعمیر میں اس بنیادی بات کو ہرگز نظرانداز نہ کریں کہ گھر میں قدرتی روشنی وافر مقدار میں اور دن کے زیادہ تر اوقات میں آتی رہے۔ اکثر لوگ گھر کے تعمیری رقبہ اور کمروں کے سائز کو بڑا رکھنے کے لیے گھر کے بنیادی ڈیزائن اور ماحولیات کو نظرانداز کردیتے ہیں، جس کے منفی اثرات بعد میں سامنے آتے ہیں۔ چاہے آپ گھر کی تعمیر کروا رہے ہوں یا تعمیر شدہ گھر خرید رہے ہوں، آپ آنے والا ایک طویل عرصہ اس گھر میں گزارنے جارہے ہوتے ہیں، ایسے میں گھر میں اس خصوصیت کو ہرگز نظرانداز نہ کریں، کیوں کہ گھر میں قدرتی روشنی کا نہ ہونا یا اس کی کمی آپ کی زندگی، موڈ اور صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

تازہ ہوا کی گزرگاہ

پانی، روشنی اور ہوا زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے ہیں۔ گھر کے لیے ہم نے قدرتی روشنی کی اہمیت پر تو بات کرلی، اب بات کچھ ہوا کی کرلیتے ہیں، جو کہ آپ کے گھر کے لیے اتنی ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے جتنی کہ قدرتی روشنی۔ گھر میں ہوا کی آمدورفت کے انتظام سے آپ کو کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ پہلی اور بنیادی بات تو یہ ہے کہ ہوا کے آنے سےگھر میں حبس نہیں ہوتا اور گھر کا درجہ حرارت نسبتاً ٹھنڈا رہتا ہے۔

اس کے علاوہ، گھر اور اس کے مکینوں کو تروتازہ اور صحت مند رکھنے کے لیے گھر میں تازہ ہوا کی آمدورفت انتہائی مفید ہے۔ تاہم، اس بات کا خیال رکھیں کہ ہوا گھر کے ہر کونے تک پہنچے، اس کے لیے آپ گھرمیں ایسے پینلز کا استعمال کرسکتے ہیں، جن سے ٹکرا کر ہوا کا رُخ گھر کے مختلف کونوں تک پھیل جائے، جہاں بصورت دیگر ہوا نہ پہنچ رہی ہو۔

گھر کے ڈیزائن میں کھڑکیاں شامل کریں

اپنے گھر کے ڈیزائن میں کھڑکیوں کو شامل کریں۔ اگر گھر کے کسی کمرے میں باغیچے اور صحن کے ذریعے روشنی اور ہوا لانا مشکل ہوتو ایسے کمرے میں کھڑکی لگانے پر غور کریں۔ ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لیں کہ کمرے میں کس جانب کھڑکی رکھی جائے کہ زیادہ سے زیادہ روشنی اور ہوا کمرے میں داخل ہو۔ ایسی کھڑکی عموماً دو یاتین تہوں والی ہونی چاہیے۔ سب سے بیرونی تہہ باریک جالی والی ہو، جس سے ہوا کا گزر ہوجائے، تاہم باہر سے مچھر اور کیڑےوغیرہ اندر داخل نہ ہونے پائیں۔ یہ تہہ فکسڈ ہونی چاہیے۔ درمیانی تہہ فولڈنگ ہو، جو کُھل اور بند ہوسکے۔ تیسری تہہ لکڑی کی ہوسکتی ہے، جسے اس وقت استعمال کیا جائے، جب روشنی اور ہوا، دونوں کی کمرے میں ضرورت نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے پردے کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔

گھر کو ہرا بھرا رکھیں

گھر میں جتنا زیادہ ممکن ہو، سبزے کو جگہ دیں۔ سبزے کے لیے باغیچہ تو ہوتا ہی ہے، تاہم اس کے علاوہ بھی سبزے کو گھر میں شامل کریں جیسے کہ دورِ جدید میں دیواروں اور چھتوں پر باغبانی کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔ اس طریقے سے گھروں کو ٹھنڈا رکھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ گھر کی چھت پر آپ سبزیاں بھی اُگاسکتے ہیں، اس طرح آپ کو صحت مند اور خالص غذا بھی حاصل ہوگی۔

گھر کیلئے ضروری سامان

گھر میں فرنیچر، آرائشی اشیا اور عام استعمال کے سامان کا ہونا فطری امر ہے، تاہم ان چیزوں کا ذہانت مندانہ استعمال بھی ایک آرٹ ہے۔ اپنے گھر کو ان چیزوں سے ضرورت سے زیادہ نہ بھردیں، بلکہ کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے یہ اچھی طرح سوچ لیں کہ اس کی گھر میں واقعی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ زیادہ سامان سے بھرا ہوا گھر روشنی کی آمدورفت کے لیے آئیڈیل نہیں ہوتا اور بعض اوقات ہم غلط منصوبہ بندی کے باعث فرنیچر، الماریاں اور دیگر آرائشی اشیا ایسے گوشوں اور مقامات پر سجا دیتے ہیں، جہاں سے ہوا اور روشنی کا گُزر ہوتا ہے۔ گھر کے ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے آرائشی سامان اور اشیا کے معاملے میں ’کم سے کم پر گزارا کرنا‘ کا تصور اختیار کریں۔

مزید برآں، گھر میں بجلی پر چلنے والی لائٹس کے لیے ایسی لائٹس کا انتخاب کریں جو ماحول دوست ہوں اور جن کی روشنی سے گھر یا کمرے میں تپش پیدا نہ ہوتی ہو۔ اگر بجٹ اجازت دے تو، فرش کے لیے لکڑی کا انتخاب کریں، جو گھر کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بہترین ثابت ہوتی ہے۔ ماحول دوست آرائشی اشیا کے حوالے سے مارکیٹ میں کئی آپشنز دستیاب ہیں، جن میں سے آپ اپنی ضرورت کے مطابق منتخب کرسکتے ہیں۔