• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افراز احمد

ستمبر کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو دفاع وطن کے لئے لڑے جانے والے معرکوں کی ولولہ انگیز یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ جنگ 65ء سترہ روز تک جاری رہی۔ اس معرکہ حق و باطل میں بھارت کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سترہ دنوں نے پوری قوم میں ایک عجیب جوش ولولہ پیدا کر دیا۔ پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ تھی۔ وطن عزیز کے تمام شاعر‘ ادیب‘ موسیقار‘ گلوکار‘ علمائے کرام‘ شہری‘ سول ڈیفنس کے رضاکار ‘ پولیس اہلکار غرض کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایثار و قربانی کی ایک عظیم مثال پیش کی اور اپنی بہادر جانباز اور جذبہ شہادت سے سرشار افواج کی پشت پناہی حوصلہ افزائی اور اخلاقی و مادی امداد و حمایت کے لئے میدان میں اتر آئے۔ ان سترہ دنوں میں کوئی پنجابی تھا نہ بلوچی سندھی تھا نہ پٹھان بلکہ سب پاکستانی تھے۔

مسلح افواج کے افسر اور جوانوں نے تمام محاذوں پر جرأت و بے باکی کے وہ باب رقم کئے جو رہتی دنیا تک سنہری حروف میں لکھے جائیں گے۔ نہ صرف یہ کہ پاک فوج کے ہر افسر و جوان کا جذبہ آسامان سے باتیں کر رہا تھا بلکہ عوام کے دل سے بھی جنگ کا خوف بادلوں کے سائے کی طرح اڑ گیا تھا۔ پاکستانی قوم نے ستمبر 1965ء کی جنگ میں اپنا دفاع کر کے تمام دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ ہم ایک ناقابل تسخیر قوم ہیں۔

جنگ ستمبر کے سترہ دنوں میں کشمیر سے لے کر کھیم کرن تک ہر محاذ پر بے شمار ایسے معرکے لڑے گئے جو تاریخ کے اوراق پر جرات و بہادری کے بے شمار نقش چھوڑ گئے۔ اجتماعی اور انفرادی معرکوں کی ان گنت داستانیں رقم کی گئیں۔ انہیں معرکوں میں ایک معرکہ چونڈہ ہے جنگ ستمبر کا ذکر چونڈہ کے محاذ پر لڑے جانے والے والے اس معرکے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا جسے جنگ عظیم دوئم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کہا جاتا ہے۔

چونڈہ سیالکوٹ شہر سے پچیس کلومیٹر دور ایک چھوٹا سا قصبہ ہے چھ ستمبر چونڈہ کے باسیوں کے لئے وہ یادگار دن ہے جسے یہاں کے بچے بوڑھے اور نوجوان آج بھی اسی جوش و خروش اور جذبے سے مناتے ہیں اور شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ جس کا مظاہرہ انہوں نے اڑتیس برس قبل اپنی مسلح افواج کے ہمراہ دشمن کے سامنے سیسی پلائی ہوئی دیوار بن کر کیا تھا۔ یہ دن چونڈہ میں شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہوتا ہے۔

1965ء میں بھارت کے مذموم عزائم کی فہرست میں چونڈہ پر قبضہ سب سے اہم تھا کہ پسرور کے راستے وہ گوجرانولہ جی ٹی روڈ کو منقطع کر کے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر سکیں۔

معرکہ چونڈہ میں بھارتی سپاہ کو اپنے بے پناہ طاقتور بکتر بند ددستوں کی مدد حاصل تھی اور مزی یہ کہ خشک سالی کی وجہ سے علاقے کے تمام ندی نالے خشک پڑے تھے اور یہ اسی رخ پر بہہ رہے تھے جس رخ پر بھارت کے آرمڈ ڈویژن کو آگے بڑھنا تھا۔ اس لحاظ سے یہ نالے دشمن کو قدرتی ڈھال مہیا کر رہے تھے۔ حقیقت میں بھارتیوں کا منصوبہ بہترین تھا لیکن اس پر عمل درآمد بڑے بے ڈھنگے انداز میں کیا گیا۔ ان کو نہ صرف عددی اعتبار سے ان سے کہیں کم تر فوج نے کئی ہفتے روکے رکھا بلکہ صرف چند کلومیٹر سے زیادہ پاکستان کا بکتر بند ڈویژن جو 6آرمڈڈویژن کے نام سے جانا جاتا ہے اس کے پاس نہ تو ٹینک ہی کافی تھے اور نہ پیدل فوج کی اتنی نفری تھی کہ دشمن کا مقابلہ کر سکے۔ توپ خانے کی مدد بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ بلکہ اکھنور سے واپس آنے والے توپ خانے کو آرمڈ ڈویژن کی مدد کی اضافی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔

بھارتیوں نے منصوبہ تو عظیم بیایا تھا لیکن پاکستان کی بہادر سپاہ ہے جوان مردی سے بھارتیوں کے تمام حملوں کا نہ صرف سینہ تان کر مقابلہ کیا بلکہ جو ابی حملے کر کے دشمن کی پٹی سے آگے نہ بڑھنے دیا۔ الہڑ پہ دشمن نے کئی دفعہ قبضہ کیا لیکن ہر بار جوابی حملہ کر کے پاکستان کی جری سپاہ نے اسے واپس چھین لیا۔

جنگ ستمبر میں بہت بڑا سبق جو سامنے آیا وہ یہ تھا کہ صرف عددی برتری ہی جنگ جیتنے کے لئے کافی نہی ہوتی بلکہ اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت حوصلہ اور میدان جنگ میں موقع کی مناسبت سے بہتر چال ہی فتح کا باعث بنتی ہے۔ ہماری مسلح افواج کے مقابلے میں بھارتی سپاہ کو فوجی سازوسامان سمیت ہر لحاظ سے ایک چار کی شرح سے برتری حاصل تھی۔ لیکن اس کے باوجود ان کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

چھ ستمبر کی سہ پہر 6آرمڈ ڈویژن کو پسرور کی طرف روانگی کا حکم ملا اور ساٹھ ہی ساتھ کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بختیار رانا کی طرف سے اضافی حکم آیا کہ مرالہ راوی لنگ کینال کی طرف سے اندر گھس آنے والے دشمن کو تباہ و برباد کر دیا جائے۔

چونڈہ کے محاذ پر ہماری مختصر افواج کو دشمن کی نمبر ایک کور کا سامنا تھا۔ دشمن کا منصوبہ تھا کہ 6ڈویژن پہلے سچیت گڑھ پر حملہ کر ے گا اور پھرپہاڑی ڈویژن 26ڈویژن کی پیروی کرتے ہوئے معراجکے اور چاردہ پر حملہ کرے گا بعد میں ایک آرمڈ ڈویژن Break out کرتے ہوئے چونڈہ پسرور پر قبضہ کرے گا تاکہ بعد میں گوجرانوالہ لاہور جی ٹی روڈ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکے۔ بھارتی 14نمبر انفنٹری ڈویژن ان کے آرمڈ ڈویژن کے بائیں بازوئوں کی حفاظت پر مامور تھا اس سارے منصوبے میں دشمن کو بھاری توپ خانے کی مدد بھی حاصل تھی۔

ہماری نمبر6ڈویژن کہنے کو تو آرمڈ ڈویژن تھا لیکن حقیقت میں اس میں صرف دو ٹینک رجمنٹیں ایک توپ خانے کی یونٹ اور ایک ہی پیدل دستوں کی یونٹ تھی جو کہ دشمن کے مقابلے میں بہت کم نفری تھی۔ پاکستان آرمی کا 15 پیادہ ڈویژن مرالہ اور جسٹر کے درمیان کی سرحدوں کے دفاع پر مامور تھا۔ یہ ایک وسیع علاقہ تھا جس کے لئے کم از کم تین عدد انفنٹری ڈویژن درکار تھے۔101انفنٹری بریگیڈ سیالکوٹ جموں روڈ کے دفاع کے لئے جبکہ چوبیس اور 115بریگیڈ جسٹر میں متعین تھا۔

دشمن نے پانچ اور چھ ستمبر کی درمیانی شب کو ہمارے پندرہ ڈویژن پر ثانوی حملہ کیا جبکہ بڑا حملہ پھلواڑہ اور چونڈہ پر کیا گیااور پھر سولہ ستمبر تک متواتر کئی حملے ہوئے ان حملوں کے جواب میں پاکستان آرمی کے وہ باب رقم کئے جو رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔ وہ دشمن کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے اور دو ہفتوں کی لڑائی میں بھارتی سپاہ صرف چند کلومیٹر تک کے علاقے پر قبضہ کر سکی۔

چونڈہ پر قبضہ کرنے کی بھارتیوں نے بے انتہا کوشش کی لیکن وہ الہڑ گائوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ جو چونڈہ سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ الہڑ ریلوے سٹیشن پر دشمن نے قبضہ کیا جس کی وجہ سے سیالکوٹ اور لاہور کے درمیان ریلوں کی آمدورفت نارووال کے راستے اس وقت معطل رہی جب تک بھارتی فوج یہ علاقے خالی کر کے واپس نہ چلی گئی۔

سچیت گڑھ معراجکے اور چاردرہ پر قبضے کے بعد انڈین آرمی نے سیالکوٹ کے محاذپر بار بار حملے کئے لیکن سخت مزاحمت کا سامنا کرتے ہوئے انہیں پسپا ہونا پڑا۔ دو ہفتے کے دوران بمشکل دس کلومیٹر آگے بڑھ سکے۔

آج 6ستمبر ہے۔ جنگ ستمبر کے شہیدوں کا لہو اور غازیوں کے دلوں کی دھڑکن پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اے اہل وطن مکار دشمن کی ہر چال سے ہوشیار رہو اور دشمن کے مقابلے میں اپنی بری نظر سے دیکھنے کا کبھی خیال پیدا نہ ہو۔ چھ ستمبر کا دن اپنے جلو میں انمٹ یادیں اور نقوش چھوڑ گیا ہے۔ ان کو یاد کر کے ہماری دلیر مسلح افواج پر سرفخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ ہم دشمن کے ممنون ہیں کہ اس نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا۔ ہمیں خواب غفلت سے بیدار کیا اور ہمیشہ بیدار رہنے کا درس دیا ۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مگر ہم نے جو سبق ستمبر 65ء میں سیکھا ہے وہ آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ آج دشمن دہشت گردی کے ذریعے ہماری سلامتی اور بقاء کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے مگر اس محاذ پر بھی قوم اور افواج بیدار ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے بڑھتے قدموں کو روک کر ثابت کردیا ہے کہ وہ بقائے پاکستان کے لیے ہمہ وقت تیار اور ہوشیار ہیں۔