• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلڈ کینسر کی تشخیص و علاج میں تاخیر جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے

بات چیت :عالیہ کاشف عظیمی

عکّاسی: اسرائیل انصاری

سرطان کی دو تنظیموں کے(’’دی لیوکیمیا فاؤنڈیشن‘‘اور’’نیشنل فاؤنڈیشن فار کینسر ریسرچ‘‘ ) اشتراک سےہر سال دُنیا بَھر میں ستمبر کا پورا مہینہ ’’بلڈ کینسر اوئیرنیس‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے،تاکہ ہر سطح تک اس مرض سے متعلق چیدہ چیدہ معلومات عام کی جاسکیں۔ لیوکیمیا ریسرچ فاؤنڈیشن کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دُنیا بَھر میں ہر تین منٹ بعد ایک فرد میں بلڈ کینسر تشخیص ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہر سال بلڈکینسر کاعالمی یوم 28مئی کو،جب کہ ستمبر کا پورا مہینہ’’بلڈ کینسراوئیرنیس‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہم نے بھی اِسی مناسبت سے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، کراچی کے ڈیپارٹمنٹ آف کلینیکل انکولوجی کے سربراہ، ڈاکٹر غلام حیدر سے خصوصی بات چیت کی۔

ڈاکٹر غلام حیدر نے چانڈکا میڈیکل کالج، لاڑکانہ سے 1994ءمیں ایم بی بی ایس کیا۔1996ء میں آغا خان یونی ورسٹی اسپتال، کراچی سے ریذیڈینسی اِن میڈیسن کی اور 1997ء میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹرکے ڈیپارٹمنٹ آف میڈیسن سے بطور میڈیکل آفیسر وابستہ ہوگئے۔2001ء میں ڈیپارٹمنٹ آف ریڈی ایشن تھراپی سے ایم او کے طور پر منسلک ہوئے۔ بعد ازاں، ترقّی پاکر سینئر رجسٹرار مقرر ہوگئے۔

2002ء تا2010ء ایف سی پی ایس(میڈیکل انکولوجی)اور ایف سی پی ایس(میڈیسن)کا امتحان پاس کیا،جب کہ 2005ءتا2008ء آغا خان یونی ورسٹی اسپتال، کراچی سے فیلوشپ اِن میڈیکل انکولوجی بھی مکمل کی اور اب 2011ء تاحال، آغا خان یونی ورسٹی اسپتال، کراچی کے انکولوجی ڈیپارٹمنٹ سے بطور لیکچرار منسلک ہیں، تو جناح اسپتال، کراچی کے ڈیپارٹمنٹ آف کلینیکل انکولوجی کے سربراہ بھی ہیں۔

’’سرطان آگہی ماہ‘‘کے حوالے سے ڈاکٹر غلام حیدرسے ہونے والی گفتگو کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

نمایندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے
نمایندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے

س: سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ دُنیا بَھر میں سرطان کی شرح میں اضافے کی کیا وجوہ ہیں؟

ج: سرطان کا مرض ترقّی پذیر ہی نہیں، ترقّی یافتہ مُمالک میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے،جس کے محرّکات ہر مُلک میں مختلف ہیں۔ جیسے مغربی مُمالک میں تمباکو نوشی عام ہے، تو وہاں پھیپھڑوں کےسرطان کے مریض زیادہ پائے جاتے ہیں، ہمارے یہاں پان ،چھالیا اور گٹکے کے استعمال کی وجہ سے منہ کا سرطان عام ہے۔

اس کے علاوہ دیگر عمومی وجوہ میں نامناسب طرزِ زندگی ، موٹاپا، جسمانی سرگرمیوں کا فقدان ،فوڈ کیمیکلز، الکحل،جینیاتی طور پر تبدیل کی جانے والی غذائیں، پھلوں اور سبزیوں کا کم استعمال، آلودگی، تاب کاری کے اثرات، فیکٹریوں، کارخانوں، مِلوں اور انڈسٹریز سے نکلنے والی گیسز، زہریلا دھواں اور آلودہ پانی وغیرہ شامل ہیں ۔

س: پاکستان میں سرطان کی کون کون سی اقسام عام ہیں، نیز، مَرد و خواتین دونوں میں سےکس میں شرح بُلند ہے؟

ج: اس وقت دُنیا بَھر میں سینے، پھیپھڑے، معدے، بڑی آنت اور سروائیکل کے سرطان عام ہیں۔رہی بات پاکستان کی، تو یہاں خواتین میں بریسٹ اور اووری، جب کہ مَردوں میں منہ ،پھیپھڑے اور پروسٹیٹ کا سرطان سرِفہرست ہیں۔منہ کا سرطان ہمارے مُلک میں تیزی سےبڑھتا ہوا ایک موذی مرض ہے، جس کی شرح کراچی اور اندرونِ سندھ میں زیادہ بُلند ہے اور اب تو نو عُمر افراد بھی اس کا شکار ہورہے ہیں۔

حالاں کہ نسوار میں بھی تمباکو شامل ہوتا ہے، لیکن یہ منہ کے سرطان کی وجہ نہیں بنتا۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس مرض کے شکار مریض خود اپنے ہاتھوں سرطان خریدتے ہیں۔ باوجود اس کہ قانون ایسی تمام اشیاء کو مضرِ صحت قرار دیتا ہے، پھر بھی ان کی فروخت جاری ہے۔صرف جناح اسپتال ہی میں ہر روز منہ سمیت دیگر سرطان کی اقسام کے لگ بھگ30نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جب کہ پُرانے کیسز کی تعداد ا ن سے الگ ہے۔ اور بچّوں میں خون کے سرطان کا تناسب سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔

س: سرطان کی اقسام کاخطرہ عُمر کے کس حصّے میں بڑھ جاتاہے؟

ج: ویسے توسرطان عُمر کے کسی بھی حصّے میں لاحق ہوسکتا ہے، لیکن اس ضمن میں کی جانے والی مختلف تحقیقات کے مطابق50سال کی عُمر کے بعد بریسٹ،دماغ ،پھیپھڑوں اور آنتوں کے سرطان کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

س: ماہِ ستمبر’’خون کےسرطان سےآگہی ماہ‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے، تو عام افراد کے سمجھنے کے لیے اس سے متعلق ذرا تفصیلاً بتائیں کہ اس کی وجوہ ،علامات کی شناخت اور تشخیص و علاج کے ضمن میںکس حد تک پیش رفت ہو چُکی ہے؟

ج: بچّوں اور بڑوں میںخون کا سرطان لاحق ہونے کی زیادہ تر وجوہ جینیٹک ہی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ تاب کاری کے اثرات، ملاوٹ والی غذائیں اورایسی سبزیاں اور پھل ،جن کی کاشت کے لیے آلودہ ،خاص طور پر صنعتی فضلے کا پانی استعمال کیا جائے، سبب بن سکتے ہیں۔

واضح رہے، جناح اسپتال میں افغانستان سے بلڈکینسر کے علاج کی غرض سے جو مریض لائے جاتے ہیں، ان میں سے اکثریت میں اس کی وجہ تاب کاری کے اثرات ہی ہوتے ہیں۔ بلڈ کینسر کی عام علامات میں کم زوری محسوس ہونے، وزن میں کمی ہوجانا، خون پتلا ہونا، پلیٹلیٹس کی کمی، چلنے سے سانس پُھولنا، بخار اور خون جمنے کی صلاحیت کم ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

رہی بات تشخیص و علاج کے ضمن میں پیش رفت کی، تو بیرون ِ مُمالک میں حکومت کی جانب سے علاج کی مفت سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، اِس لیےوہاںصحت یابی کا تناسب بھی زیادہ ہے،جب کہ ہمارے یہاں تو بیش تر سرکاری اسپتالوں میں سرطان کے علاج کی ادویہ ہی دستیاب نہیں۔ اگر جناح اسپتال کی بات کریں ،تو بلڈ کینسرکی تشخیص کے لیے سی بی سی یا ایل ایف ٹی(Liver function test) تجویز کیے جاتے ہیں، جب کہ ایڈوانس ٹیسٹس کے لیے ہمیں آغا خان اسپتال کی لیبارٹری ہی سے رجوع کرنا پڑتا ہے ، جن کے اخراجات عموماً عطیات کے ذریعے پورے کیے جاتے ہیں۔ 

ایسا نہیں کہ ہمارے پاس سرطان کے جدید علاج کی سہولتیں نہیں۔ بالکل ہیں، لیکن سرکاری سطح پر ادویہ فراہم نہ ہونے کے سبب مریض ان سے مستفید نہیں ہوپاتے ہیں ،حالاں کہ ہر سال صحت کی مد میں معقول بجٹ بھی مختص کیا جاتا ہے۔ پھر خون کےسرطان کے کام یاب علاج میں ایک رکاوٹ اتائی بھی ہیں۔ 

عموماً گائوں، دیہات میں پہلے اتائیوں کے ہاتھوں علاج کروانے میں وقت ضایع کر دیا جاتا ہے اور جب مرض خطرناک مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے، تو پھر معالج سے رجوع کیا جاتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ صحت کے بجٹ پر چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ اتائیوں پر بھی مکمل پابندی عاید کرے۔

س: خون کے سرطان کی کتنی اقسام ہیںاورکیا ان کا موروثیت سے بھی کوئی تعلق ہے؟

ج: خون کےسرطان کی تقریباًآٹھ اقسام ہیں،جن میں سےبچّوں میں لیوکیمیا (Leukemia) عام ہے، جب کہ لِمفوما (Lymphoma) مائیلوما (Myeloma) مائیلائڈ لیوکیمیا(Myeloid leukemia)بچّوں ، بڑوں دونوں میںپائے جاتے ہیں۔البتہ کرونک لمفو سائٹک (Chronic lymphocytic) سے 60سال سے زائد عُمر کے افراد متاثر ہوتے ہیں۔ ان اقسام کا موروثیت سے تعلق جانچنے کے لیے جین کا ایک مخصوص ٹیسٹ کیا جاتا ہے،جو 60 سے 70 ہزار روپے کا ہے، مگر اس کی سہولت سرکاری طور پر دستیاب نہیں۔

س: لِمفوما اور لیو کیمیا میں کیا فرق ہے اوران کی علامات کیاہیں؟

ج: لِمفوما میں جسم کے مختلف حصّوں میں پائے جانے والے غدود یا لمف نوڈز (Lymph Nodes) متاثر ہوجاتے ہیں۔ لِمفوما کے زیادہ تر کیسز میںگردن کے غدود متاثر ہوتے ہیں۔ اس سرطان کا علاج کیمو تھراپی ہے۔ لیو کیمیا سفید خلیات کا سرطان کہلاتا ہے، اس کے علاج میں کام یابی کا تناسب لمفوما سرطان سےکم ہے۔

پھر مریض مختلف پیچیدگیوں کا بھی شکار ہوسکتے ہیں۔ لیو کیمیا کی عام علامات میں ہڈیوں ، جوڑوں کا درد، کم زوری، پیلاہٹ، وزن میں کمی، غدود، تلّی اور جگر بڑھ جانا اور پیٹ پھول جانا شامل ہیں، تو لِمفوما میں غدودوں کی سوزش عام علامت ہے۔

س: بلڈ کینسرکے علاج کے ضمن میں کیموتھراپی اور اسٹیم سیل ٹرانس پلانٹیشن سے متعلق بھی کچھ بتائیں؟

ج: عام طور پر تشخیص کے لیے سی بی سی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اگر رپورٹ درست نہ آئے، تو پھرایڈوانس ٹیسٹس تجویز کیے جاتے ہیں۔ بلڈ کینسرکےعلاج کے لیے کیمو تھراپی اور بعض کیسز میں اس کے ساتھ اسٹیم سیل ٹرانس پلانٹیشن بھی کی جاتی ہے،جسے بون میرو ٹرانس پلانٹ بھی کہتے ہیں۔

یہ خون کے سرطان کا مؤثر طریقۂ علاج ہے، جس میں خون کے خلیے بنانے والے خاص خلیے کو عطیہ کرنے والے کے جسم سے نکال کر سرطان کے مریض میں داخل کیا جاتا ہے۔ بعدازاں، یہ صحت مند اسٹیم سیل، خون کے صحت مند خلیوں کی افزایش میں کارآمد ثابت ہوتا ہے، لیکن اس مرحلے میں عطیہ کرنے والے اور مریض کے ہڈیوں کے گُودےکا یک ساں ہونا ضروری ہے۔

س: تشخیص وعلاج میں تاخیرسے کس قسم کی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں؟

ج: دیکھیں، دیگر اقسام کے کینسرزکے جسم میں پھیلنے کے چار مراحل ہوتے ہیں اورجس مرحلے پر مرض تشخیص ہو، اُس ہی کے مطابق علاج کیا جاتا ہے،لیکن بلڈ کینسر میں اسٹیجیز کا کوئی تصوّر نہیں ۔اس لیےتشخیص و علاج میں ذرا سی بھی تاخیرجان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ بہرحال، سرطان کی چاہے کوئی بھی قسم ہو، بروقت تشخیص ہی کام یاب علاج کی ضمانت ہے۔

س: بلڈ کینسر سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی میں کیا تبدیلیاں لائی جائیں؟

ج: خون کے سرطان سے محفوظ رہنے کے لیےمتوازن غذا کا استعمال کیا جائے۔ تازہ موسمی پھل اپنے غذا ئی شیڈول میں لازماً شامل رکھیں۔ چکنائی والی اشیاء کا استعمال کم سے کم کریں،تمباکو نوشی سے اجتناب برتیںاور خاص طور پرتاب کاری سے بچیں،جب کہ بار بار اور غیر ضروری ایکس رے بھی ہرگز نہ کروائے جائیں۔

اس کے علاوہ کھانوں کو دیر تک محفوظ رکھنے والے کیمیکلز کے بے جا استعمال سے بھی بلڈ کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، لہٰذا ایسے کھانوں سے بھی اجتناب برتا جائے۔ اگر فیملی ہسٹری میں بلڈ کینسر شامل ہو، تو معالج کے مشورے پر سالانہ معائنہ اور ضروری ٹیسٹ لازماً کروائیں۔

س: پاکستان میں بچّوں کے سرطان کی کیا شرح ہے،نیز مریضوں کے پیشِ نظر پیڈیاٹرک انکولوجسٹس کی تعداد تسلی بخش ہے؟

ج: ہمارے یہاں سرکاری طور پر تو اعداد و شمار دستیاب نہیں، البتہ مختلف اداروں کی جانب سے کیے جانے والے والے ایک سروے کے مطابق سالانہ 8سے9ہزار بچّے اس موذی عارضے کا شکار ہوتے ہیں۔ بچّوں کے علاج کے ضمن میں ہمارے مُلک میں پیڈیاٹرک اونکولوجسٹس کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی میں صرف چند نجی اسپتالوں ہی میں پیڈیاٹرک اونکولوجسٹس موجود ہیں، سرکاری اسپتالوں میں ایک بھی نہیں ہے۔ البتہ ابھی جناح اسپتال کے ایک انکولوجسٹ انڈس اسپتال سے پیڈیاٹرک اونکولوجی کی تربیت حاصل کررہے ہیں،جو بعد ازاں این آئی سی ایچ میں خدمات فراہم کریں گے۔

س: کیا بچّوں میں سرطان لاحق ہونے کی وجوہ بڑوں سے کچھ مختلف ہوتی ہیں؟اور کیا ان مریضوں کی ویکسی نیشن کی جاسکتی ہے؟

ج: جی بالکل وجوہ مختلف ہوتی ہیں۔ بڑوں میں جینیاتی اثرات کے مقابلے میں ماحولیاتی اثرات زیادہ ہوتے ہیں، جب کہ بچّوں میں جینیاتی عوامل زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ رہی بات ویکسی نیشن کی، تو بالکل کی جاسکتی ہے،بلکہ ان مریضوں کو بوسٹر ڈوز کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے، تاکہ کووِڈ-19کی پیچیدگیوں سے تحفّظ حاصل ہوسکے۔

س: اگر سرطان سے متاثر ہ مریض کورونا وائرس کا شکار ہوجائے، تو اس صُورت میں کیمو تھراپی جاری رکھی جاتی ہے یا پھر کورونا ٹیسٹ نیگیٹیو ہونے کانتظار کیاجاتا ہے، کیوں کہ کیموتھراپی کے اثرات امیون سسٹم پر بھی مرتب ہوتے ہیں ؟

ج: اگر سرطان سے متاثر ہ مریض کورونا وائرس کا شکار ہوجائے، تو اس صُورت میں کیمو تھراپی وقتی طور پر روک دی جاتی ہے، جب تک کووِڈ-19کا ٹیسٹ نیگیٹیو نہ آجائے۔ مگر یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ سرطان کے زیادہ تر مریضوں میں کورونا وائرس موت کا سبب بن رہا ہے، کیوں کہ ایک کیمو تھراپی کی وجہ سے پہلے ہی ان کا امیون سسٹم خاصاکم زور ہوچُکا ہوتا ہے، پھر کورونا بھی حملہ آور ہوجائے تو پیچیدگیاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔

س: کووِڈ-19 کے پھیلاؤ کے باعث کیا سرطان کےمریضوں کے علاج معالجے میں کچھ رکاوٹوں کا سامنا ہے؟

ج: اگرچہ وبائی ایّام میں ہمارے کئی ڈاکٹرز بھی کووِڈ-19کا شکار ہوئے، لیکن الحمدللہ، ہم نے سرطان کے مریضوں کے علاج معالجے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔

س: عام طور پر سرکاری اسپتالوں میں انتہائی رش کے باعث کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی کے لیے مریضوں کو کئی کئی روز تک انتظار کرنا پڑتا ہے، تو نئے کینسر اسپتال قائم کرنے کے حوالے سے سرکاری سطح پر کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟

ج: کیمو تھراپی کے لیے نہیں، البتہ ریڈی ایشن تھراپی کے لیے مریضوں کو اپنی باری کا چھے چھے ماہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ دراصل پورے کراچی میں ریڈی ایشن کی 11مشینیں ہیں، جن میں سے تین ہمارے پاس ہے، حالاں کہ آبادی کے اعتبار سےکم از کم 100مشینیں ہونی چاہئیں۔ پھر تربیت یافتہ سرجنز، اونکولوجسٹس اور ریڈیالوجسٹس وغیرہ کی تعداد بھی خاصی کم ہے۔

یہ دیکھ کر دُکھ ہوتا ہےکہ اس حوالے سے کیے جانے والے حکومتی اقدامات صرف کاغذات ہی حد تک محدود ہیں، البتہ ہمیں ڈونرز کی جانب سے تشخیص اورعلاج معالجے کے ضمن میں خاصا تعاون حاصل ہے۔ بعض ڈونرز نے ہمیں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف حتیٰ کہ خاکروب تک فراہم کیے ہیں، جنہیں تن خواہیں بھی ان ہی کے فنڈز سے ادا کی جاتی ہیں۔ میرےخیال میں نئے اسپتال کی تعمیر سے قبل سرکاری اسپتالوں میں سرطان کی ادویہ فراہم کردی جائیں،تو زیادہ بہتر ہےکہ سرطان کا علاج انتہائی منہگا ہے اور یہ اخراجات برداشت کرنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔

س: پلاسٹک کے برتنوں، مائکروویو اوون اور اسی طرح کی کچھ اشیاء کے استعمال سے متعلق عام تصوّر ہے کہ یہ کینسر کے موجب ہیں، تو کیا ایسا ہی ہے؟

ج: دیکھیں، اس ضمن میں وثوق سے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے، کیوں کہ مریضوں میں سرطان سے متاثر ہونے کی وجوہ مختلف ہوتی ہیں۔ جیسا کہ سنگا پور میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال بھی سرطان کی وجہ بن سکتا ہے، لہٰذا بہتر تو یہی ہے کہ ان اشیاء کا استعمال کم سے کم ہی کیا جائے، تاکہ ممکنہ حد تک سرطان کے خطرات سے محفوظ رہا جاسکے۔

سنڈے میگزین سے مزید