• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمّد احمد غزالی

بغداد کی جامع مسجد میں وعظ جاری تھا کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور بزرگ سے سوال پوچھا،’’ اِس حدیثِ مبارکہ ؐ کا کیا مطلب ہے،’’ مومن کی فراست سے ڈرو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے؟‘‘ بزرگ نے ایک نظر اُسے دیکھا اور پھر کچھ توقّف کے بعد بولے،’’ اِس کا مطلب یہ ہے کہ تم مسلمان ہوجاؤ۔‘‘ سوال پوچھنے والا یہ سُن کر گڑ بڑا گیا، جب کہ مسجد میں موجود سیکڑوں افراد بھی حیران تھے کہ بزرگ ایک ایسے شخص کو مسلمان ہونے کا کہہ رہے ہیں، جس کے سَر پر عمامہ اور چہرے پر داڑھی ہے۔جب تصدیق کی تو پتا چلا، وہ شخص واقعی آتش پرست تھا اور بزرگ کا امتحان لینے مسجد آیا تھا۔ یہ روشن ضمیر بزرگ، اولیائے کرامؒ کے سرتاج، سیّد الطائفہ، حضرت جنید بغدادیؒ تھے۔

خاندان، تعلیم وتربیت

حضرت جنید بغدادیؒ کا خاندان نہاوند( ایران) سے بغداد منتقل ہوا تھا اور وہیں 210ہجری، 825ءکے آس پاس آپؒ کی ولادت ہوئی۔ والد آئینے بیچا کرتے تھے، اِس نسبت سے آپ کو’’ قواریری‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔بچپن ہی سے چہرے سے سعادت اور ذہانت ٹپکتی تھی۔ ایک بار آپؒ کے ماموں اور اپنے دَور کے معروف صوفی بزرگ، حضرت سری سقطیؒ ایک مجلس میں’’ شُکر کیا ہے؟‘‘کے موضوع پر محوِ گفتگو تھے۔آپؒ 7 برس کے تھے اور اُن کے قریب ہی کھیل رہے تھے۔ ماموں نے محبّت سے پوچھا،’’ اچھا جنید تم بتاؤ، شُکر کیا ہے؟‘‘ آپؒ نے جواب دیا،’’ شُکر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے، جو ہمیں طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا ہے۔‘‘

آپؒ نے ماموں کی زیرِ نگرانی پہلے دین کی بنیادی تعلیمات حاصل کیں، پھر امام احمد بن حنبلؒ، حسن بن عرفہؒ اور ابو عبیدؒ جیسے صاحبانِ علم سے حدیث کی تعلیم حاصل کی۔حارث محاسبیؒ سے بھی، جو ایک صوفی ہونے کے ساتھ فلسفے کے بھی عالم تھے، بھرپور استفادہ کیا۔ بعدازاں، امام ابو ثورؒ جیسے نام وَر فقیہہ سے فقہ کی تعلیم حاصل کی اور اِس میں یہاں تک مہارت حاصل کی کہ20 برس کی عُمر میں اُن کی مجلس میں فتویٰ دینے لگے۔اِس کے بعد آپؒ نے حضرت سری سقطیؒ کی نگرانی میں سلوک کی منازل طے کرنا شروع کیں اور جلد ہی درجۂ کمال تک جاپہنچے، یہاں تک کہ حضرت سری سقطیؒ فرمایا کرتے تھے،’’ جنید ؒمجھ سے بھی آگے نکل گئے۔‘‘آپؒ نے مشہور صوفی بزرگ،حضرت محمّد بن القصابؒ سے بھی فیض حاصل کیا، جب کہ آپؒ کے مجموعی طور پر 120 اساتذہ بتائے جاتے ہیں۔گویا آپؒ نے راہِ سلوک میں قدم رکھنے سے پہلے خود کو دینی علوم سے آراستہ کیا اور آپؒ دوسروں کو بھی یہی تلقین کیا کرتے تھے۔

جامع مسجد میں مجلسِ وعظ

آپؒ بغداد کی جامع مسجد میں وعظ کیا کرتے تھے، جس میں دُور دُور سے لوگ آکر شریک ہوتے اور فیوض و برکات سمیٹتے۔ ابتدا میں آپؒ وعظ و نصیحت سے گریز کیا کرتے، حالاں کہ عوام اور شاگرد ایک عرصے سے مجلس سے خطاب کی استدعا کرتے آ رہے تھے، مرشد حضرت سری سقطیؒ نے بھی وعظ کا سلسلہ شروع کرنے کو کہا، مگر آپؒ عوام کے سامنے بیان میں جھجک محسوس کرتے تھے اور دوسری طرف یہ بھی کہنا تھا کہ’’ جب تک میرے شیخ زندہ ہیں، مَیں وعظ و نصیحت نہیں کرسکتا۔‘‘ 

شیخ علی ہجویریؒ نے لکھا ہے، ’’ حضرت جنید بغدادیؒ لوگوں کے اصرار کے باوجود وعظ و نصیحت سے گریز کر رہے تھے۔ اسی دَوران ایک روز خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت سے مشرّف ہوئے، تو آپﷺ نے فرمایا،’’ اے جنید! لوگوں کے لیے وعظ شروع کرو، کیوں کہ تمہارے وعظ سے اُنھیں ہدایت ملے گی اور اللہ تعالیٰ تمھارے کلام کو ایک عالَم کی نجات کا ذریعہ بنائے گا۔‘‘اِس پر اُنھوں نے وعظ و نصیحت کا سلسلہ شروع کیا۔ خود بھی فرماتے ہیں،’’مَیں نے اُسی وقت وعظ شروع کیا، جب اشارہ ہوا اور 30 سے زاید مشایخ نے کہا کہ’’ تم دعوت الی اللہ کے اہل ہو۔‘‘

صوفیاء میں مقام

آپؒ صوفیائے کرامؒ میں تاج العارفین اور سیّد الطائفہ یعنی اِس طبقے کے سردار کے طور پر مشہور ہیں۔تصوّف کے تمام سلاسل میں آپؒ کو مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ اِس ضمن میں حضرت شاہ ولی اللہؒ نے لکھا ہے کہ’’ تصوّف کے سلاسل اپنے اوراد وظائف اور طور طریقوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن اپنے نسب میں سب حضرت جنید بغدادیؒ پر متفّق ہیں۔‘‘حضرت فرید الدّین عطّارؒ نے آپؒ کا ذکر اِن الفاظ میں کیا ہے،’’ آپؒ قطبِ وقت، منبعِ اسرار، مرقّعِ انوار، سلطانِ طریقت، بادشاہِ حقیقت تھے۔ کلماتِ لطیف اور اشاراتِ عالی میں سب پر سبقت رکھتے تھے۔ 

سب کا آپؒ کی امامت پر اتفاق ہے، مقتدائے اہلِ تصوّف ہیں اور اپنے وقت کے تمام مشایخ کے مرجّع تھے۔‘‘حافظ ابو نعیم کہتے ہیں’’حضرت جنیدؒ اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے شرعی علم کو مضبوط بنایا‘‘، ابنِ تیمیہ نے لکھا’’جنید بغدادیؒ کتاب و سُنّت کے شیدائی تھے۔ آپؒ اہلِ معرفت میں سے ہیں‘‘،حافظ ذہبی نے کہا،’’آپؒ اپنے زمانے کے شیخ العارفین اور صوفیا کے لیے نمونہ تھے۔‘‘دارا شکوہ نے اپنی کتاب’’ سفینۃ الاولیاء‘‘ میں لکھا ہے کہ اُس زمانے کے بزرگوں میں سے کسی نے نبی کریم ﷺ کی خواب میں زیارت کی کہ آپﷺتشریف فرما ہیں اور وہاں حضرت جنید بغدادیؒ بھی موجود ہیں۔آپؐ نے ارشاد فرمایا،’’ مجھے جنید ؒپر فخر ہے۔‘‘

اندازِ تربیت

آپؒ کے ہاں درجنوں افراد حصولِ تعلیم اور منازلِ سلوک طے کرنے کے لیے موجود رہتے، جن کے کھانے پینے اور رہائش کا انتظام آپؒ کے مہمان خانے میں ہوتا۔یہ ایک طرح کی خانقاہ تھی، جس نے بعد کے ادوار میں باقاعدہ ایک ادارے کی شکل اختیار کرلی۔آپؒ عقائد کی اصلاح اور شریعت کی پابندی پر بے حد زور دیتے تھے۔فرمایا،’’ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے سب راستے بند ہیں، سوائے اُس کے جو قدم بقدم رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرے۔‘‘فرماتے تھے،’’ جب تک ایک ہاتھ سے قرآن اور دوسرے سے سنّتِ رسول ﷺ نہ پکڑ لو، اِس راستے پر نہ چلو تاکہ شبہات کے گڑھوں میں گرو اور نہ بدعت کی تاریکی میں مبتلا ہو سکو۔‘‘ 

آپؒ کا یہ بھی ارشاد ہے،’’ میری کام یابی کا راز یہی ہے کہ ہمارا علم کتاب و سُنّت پر مبنی ہے اور جو شخص سلوک کی راہ اختیار کرنے سے قبل حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل نہ کرے، اُس کی پیروی جائز نہیں۔‘‘اِس قول میں جاہل اور نام نہاد صوفیا کے پیچھے لگ کر اپنا ایمان برباد کرنے والوں کے لیے سبق ہے۔وہ مریدین کو بلا وجہ کے فلسفیانہ بحث مباحثوں میں اُلجھنے سے روکتے اور یہ بھی کہ لوگوں کے سامنے ایسی باتیں نہ کی جائیں، جو وہ سمجھ نہ سکیں۔لوگوں کو وقت کی قدر اور محنت پر اُبھارتے۔کہا کرتے تھے،’’ ہر نفیس اور باعزّت علم کا راستہ کوشش ہے۔‘‘

معاشی،سماجی، گھریلو زندگی

آپؒ ایک کام یاب تاجر اور خاصے دولت مند تھے، بعض لوگ اِس بات پر اُن پر تنقید بھی کیا کرتے تھے۔ اُنھوں نے خاندانی پیشہ ترک کرکے کچّے ریشم کی تجارت شروع کی، جو بہت کام یاب رہی، اِسی لیے آپؒ کو’’ خزاز‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔( خز کچّے ریشم کو کہتے ہیں)۔ وہ دین کو معاش کا ذریعہ بنانے کے سخت خلاف تھے۔ فرماتے تھے،’’ آدمی کو سب خرچ نہیں کرنا چاہیے، کچھ بچا کر بھی رکھنا چاہیے اور اُسے چاہیے کہ حلال رزق کے لیے جدوجہد بھی کرے۔‘‘

کاروباری مصروفیات کے باوجود بہت عبادت گزار تھے، کثرت سے روزے رکھتے، راتیں سجود و قیام میں گزرتیں۔روایت ہے کہ آپؒ موقع ملتے ہی دُکان میں بھی نوافل پڑھنے لگتے۔ آپؒ معاشرے سے کٹ کر نہیں رہے، لوگوں سے ملتے جُلتے، بیماروں کی عیادت کے لیے جاتے، جنازوں میں شرکت کرتے اور ضرورت مندوں کی مالی مدد کرتے تھے۔تصوّف ، فقہ، علم الکلام غرض مختلف علوم کے حصول کے لیے بے شمار لوگ آپ سے رجوع کرتے اور آپؒ اُن سے انتہائی خوش اخلاقی سے پیش آتے۔ تواضع اور انکساری کا پیکر تھے۔

غریبوں کو امیروں پر ترجیح دیتے، اُن کی دِل جُوئی کرتے، پوری توجّہ سے اُن کی بات سُنتے۔ دوسروں کی دعوت میں شریک ہوتے اور اپنے ہاں لوگوں کو مدعو کرتے، البتہ حکومتی مناصب رکھنے والوں سے ملنا ملانا کم تھا۔ آپؒ اُس دَور کے صوفیا کے رواج کے مطابق خرقہ یا پھٹے پرانے، پیوند زدہ ٹاٹ وغیرہ کے کپڑے پہننے کی بجائے علماء کے معروف لباس میں ملبوس رہتے۔مختلف کتب میں آپؒ کی ایک بیوی اور ایک بیٹے ،قاسم کا ذکر ملتا ہے، جن کے نام پر آپؒ کی کنیت ابو القاسم ہے۔ انہی صاحب زادے نے آپؒ کی نمازِ جنازہ پڑھائی تھی، جب کہ ’’حلیۃ الاولیاء‘‘ میں آپ ؒکے ایک داماد، ابوبکر کا بھی ذکر ہے۔

آزمائشوں کا سامنا

منصور حلاج ؒ، ابو بکر شبلیؒ، ابوالحسین نوریؒ وغیرہ سے کچھ ایسے جملے سرزد ہوئے، جن کی بنیاد پر اِن امور سے ناواقف لوگوں اور حاسدوں نے ایک طوفان کھڑا کردیا۔اِسی طرح حضرت جنید بغدادیؒ نے ایک شخص کو معرفتِ الٰہی کے اسرار ورموز سے متعلق ایک خط لکھا، جو درمیان میں کسی اور کے ہاتھ لگ گیا، یہ باتیں اُس کی سمجھ سے باہر تھیں،اُس نے خط کی نقول کرواکر تقسیم کردیں، جس پر آپؒ کو زندیق، گم راہ، بے دین اور کافر تک کہا گیا۔

آپؒ فرماتے تھے،’’ مَیں لوگوں کو سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا ہوں۔ اُنھوں نے مجھے بہت ایذا دی۔‘‘آپؒ کو کئی مرتبہ دربار میں بھی طلب کیا گیا اور بعض روایات کے مطابق دیگر صوفیاء کے ساتھ گرفتار بھی ہوئے، مگر چوں کہ آپؒ کی علمی حیثیت بہت بلند تھی اور علماء میں نہایت عزّت واحترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے، اِس لیے زیادہ جسمانی اذیت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

واقعات،ارشادات

کسی نے پوچھا،’’ تصوّف کیا ہے؟‘‘ فرمایا’’ ہر اچھے اخلاق کی طرف عروج اور ہر بُرے اخلاق سے اجتناب کا نام تصوّف ہے۔‘‘سوال ہوا،’’ اللہ تعالیٰ بندے کی طرف کب متوجّہ ہوتاہے؟‘‘ آپ ؒنے فرمایا،’’ جب اُس کے سامنے کھڑے ہوتے ہو تو خود ہی حاضر نہیں رہتے ، بھلا ایسے میں اُس سے التفات کی توقّع کیوں رکھتے ہو؟‘‘ایک مرتبہ کسی نے پوچھا،’’ کوئی ایسی بات بتائیں، جس سے مَیں اللہ کے قریب ہوجاؤں اور لوگوں کے بھی۔‘‘فرمایا’’ اللہ سے مانگنا شروع کردو اور لوگوں سے مانگنا بند کردو، دونوں کے قریب ہوجاؤ گے۔‘‘ایک شخص 500 دینار لے کر آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپؒ نے پوچھا، ’’تمھارے پاس اِس کے سِوا بھی کچھ ہے؟‘‘ 

وہ بولا،’’ ہاں، بہت ہے۔‘‘ فرمایا، ’’کچھ اور بھی چاہتے ہو؟‘‘ کہا،’’ ہاں، کیوں نہیں۔‘‘اِس پر آپؒ نے کہا،’’تو پھر یہ دینار اُٹھا لو، اس کے مستحق تم ہی ہو۔‘‘ایک موقعے پر ارشاد فرمایا،’’ تمہارا سینہ اللہ تعالیٰ کا حرمِ خاص ہے، اس میں اُس کے غیر کو جگہ مت دو۔‘‘ فرمایا،’’ جو زبان ذکرِ حق میں مصروف نہ ہو، اُس کا گونگا ہونا بہتر ہے، جو آنکھ حق تعالیٰ کی قدرت اور حکمت نہ دیکھے، اُس کا اندھا ہونا بہتر ہے۔ جو کان حق بات نہ سُنے، اُس کا بہرہ ہونا ہی اچھا ہے۔‘‘

ایک مجلس میں آپؒ نے فرمایا،’’ مَیں نے اِخلاص ایک حجّام سے سیکھا۔ وہ ایسے کہ ایک روز استاد نے کہا’’ تمہارے بال بڑھ گئے ہیں، کٹوا کر آنا۔‘‘ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ حجّام کی دُکان کے سامنے پہنچا، تو دیکھا، وہ ایک گاہک کے بال کاٹ رہا تھا۔ مَیں نے اُس سے کہا،’’ میرے پاس پیسے نہیں ہیں، اللہ کے نام پر میرے بال کاٹ دو۔‘‘ یہ سُنتے ہی اُس نے یہ کہتے ہوئے گاہک کو ایک طرف کردیا،’’ پیسوں کے لیے تو روز بال کاٹتا ہوں، اللہ کے لیے آج آیا ہے‘‘ اور مجھے کرسی پر بٹھا کر میرا سر چوما اور بال کاٹ دئیے۔ بہت عرصے بعد جب میرے پاس پیسے بھی آگئے تھے، تو ایک دن اُس حجّام کے پاس گیا اور اُسے وہ واقعہ یاد دِلا کر کچھ رقم پیش کی، تو وہ بولا، ’’ جنید! تم اِتنے بڑے صوفی ہوگئے ہو، مگر تمھیں یہ پتا نہیں کہ جو کام اللہ کے لیے کیا جائے، اُس کا بدلہ مخلوق سے نہیں لیتے۔‘‘

وفات

آپؒ کی وفات 297ہجری، 910ء میں ہوئی۔آپ ؒمرض الموت میں بھی عبادت میں مشغول رہے۔ ایک نوجوان نے اِس حالت میں نماز پڑھتے دیکھا، تو کہا’’ آپؒ اِس حالت میں بھی نماز پڑھ رہے ہیں؟‘‘ سلام پھیر کر فرمایا’’ اِس ہی کے ذریعے تو ہم اللہ تعالیٰ تک پہنچے، اِسے کیسے ترک کر سکتے ہیں۔‘‘ابو محمد جریریؒ نے لکھا ہے،’’ مَیں حضرت جنید ؒ کے پاس گیا تو وہ سجدے میں تھے ۔

مَیں نے کہا، ’’کچھ آرام کرلیں، تو بہتر ہے۔‘‘ اِس پر فرمایا،’’ یہی وہ گھڑی ہے، جب مجھے اِس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘‘ پھر سجدے ہی کی حالت میں انتقال کرگئے۔‘‘ روایت ہے کہ ساٹھ ہزار سے زاید افراد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور جسے اطلاع ملتی، وہ اُن کی قبر پر آتا رہا، یہاں تک کہ یہ سلسلہ متواتر ایک ماہ جاری رہا۔آپؒ کو حضرت سری سقطیؒ کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔

سنڈے میگزین سے مزید