• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مفتی خالد محمود

اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو وقتاً فوقتاً اس دنیا میں بھیجا جنہوں نے آکر انسان کو دنیا میں آنے کا اصل مقصد بتایا اور اسے صحیح خطوط پر زندگی گزارنے کے طور طریقوں سے آگاہ کیا۔ یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا۔ تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ سلسلۂ نبوت جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا، وہ آنحضرت ﷺ پر ختم کردیا گیا۔آپ ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں،آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ کی امت آخری امت ہے، اس کے بعد کوئی امت نہیں ہوگی آپ پر جو کتاب (قرآن کریم) نازل ہوئی، وہ آخری کتاب ہے۔یہ عقیدہ ختم نبوت کہلاتا ہے۔

’’عقیدۂ ختم نبوت‘‘ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، اس پر ایمان لانا اسی طرح ضروری ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی اکرم ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا، کیوں کہ یہ عقیدہ قرآن کریم کی سو سے زائد آیات اور دو سو احادیث سے ثابت ہے، امت کا سب سے پہلا اجماع بھی اسی پر منعقد ہوا ،یہی وجہ ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ اسلامی تاریخ کے کسی دور میں مشکوک اور مشتبہ نہیں رہا اور نہ ہی کبھی اس پر بحث کی ضرورت سمجھی گئی، بلکہ ہر دور میں متفقہ طور پر اس پر ایمان لانا ضروری سمجھا گیا۔

حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان درحقیقت اس اُمت پر ایک احسان عظیم ہے ،اس عقیدے نے اُمت کو وحدت کی لڑی میں پَرودیا ہے ، آپ پوری دنیا میں کہیں چلے جائیں اور آپ ہر دور اور ہر عہد کی تاریخ کا مطالعہ کریں آپ کو نظر آئے گا کہ خواہ کسی قوم، کسی زبان، کسی علاقے اور کسی عہد کا باشندہ ہو، اگر وہ مسلمان ہے اور حضور اکرم ﷺ پر اس کا ایمان ہے تو اس کے عقائد، اس کی عبادات، اس کے دین کے ارکان، اس کے طریقے میں آپ کو یکسانیت اور وحدت نظر آئے گی جس طرح حضور اکرم ﷺ کے زمانے میں پانچ نمازیں فرض تھیں، اسی طرح آج بھی پانچ نمازیں فرض ہیں،ان کے جو اوقات حضور اکرمﷺ کے زمانے میں تھے، وہی آج بھی ہیں ،اسی طرح روزہ ، حج، زکوٰۃ اور دیگر احکام بھی سب کے لئے یکساں ہیں، یہ سب نتیجہ ہے ختم نبوت کا، اتمام نبوت کا ،اکمال شریعت کا ۔

اسی لئے علامہ اقبالؒ نے یہ حقیقت واشگاف الفاظ میں بیان کی۔’’ دین و شریعت تو قائم ہیں کتاب وسنت سے ، دین وشریعت کی بقا اور دین وشریعت کا استمرار اور وجود مربوط ہے کتاب وسنت سے ، جب تک کتاب وسنت ہے ، دین باقی ہے، دین و شریعت باقی ہے ،لیکن اُمت کی بقاء ختم نبوت کے عقیدے سے ہے۔‘‘

قرآن کریم نے اس عقیدۂ ختم نبوت کو واضح الفاظ میں بیان فرمایا ،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’محمد (ﷺ) تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں، مگر اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔‘‘ (سورۃالاحزاب)اللہ تعالیٰ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ آیت نازل فرمائی جس میں تکمیلِ دین کا اعلان کیا :’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنا احسان پورا کردیا اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔‘‘ (سورۃ المائدہ)

اس کے علاوہ قرآن کریم کی سو سے زائد آیات سے عقیدۂ ختم نبوت ثابت ہوتا ہے، حضور اکرم ﷺ نے صاف اور واضح طور پر اعلان فرمایا:’’میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے ،ہر ایک یہی کہے گا کہ وہ نبی ہے ،حالانکہ میں اللہ کا آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘ (سنن ابودائود، ترمذی)

علمائےکرام نے ان تمام احادیث کو جمع کردیا ہے جن سے عقیدہ ختم نبوت ثابت ہوتا ہے اور ان احادیث کی تعداد دو سو سے زائد ہے۔ اس عقیدے پر امت کا اجماع چلا آرہا ہے،بلکہ امت میں سب سے پہلا اجماع اسی مسئلے پر ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی کسی نے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی، امت نے نہ صرف یہ کہ اسے قبول نہیں کیا، بلکہ اس وقت تک سکون کا سانس نہیں لیا ،جب تک کہ اس ناسور کو کاٹ کر جسد امت سے علیحدہ نہیں کردیا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان بلکہ ملتِ اسلامیہ کی تاریخ میں 7؍ستمبر کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، یہ وہ تاریخی دن ہے جس دن مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور اسے آئین کا حصہ بنا کر ملتِ اسلامیہ کے جسد سے کاٹ کر پھینک دیا گیا۔قوموں کی تاریخ میں ایسے فیصلے کبھی کبھار ہی وجود میں آتے ہیں جس کے اثرات و نتائج صرف اس قوم اور اس ملک تک ہی محدود نہیں ہوتے، بلکہ پوری دنیا پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس قومی اور آئینی فیصلے سے پاکستان اور مسلمانوں کا وقار بلند ہوا، دنیا پر قادیانیوں کا کفر واضح ہوا اور جو پوری دنیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ پاکستان میں ان کی حکومت ہے اور ان کا دار الخلافہ ربوہ ہے، ان کا یہ جھوٹ دنیا پرآشکارا ہوا۔ بے شمار وہ لوگ جو ان کے دام ہم رنگ زمین کا شکار ہو کر ان کے جال میں پھنس گئے تھے، ان پر ان کا کفر کھل گیا اور وہ قادیانیت سے تائب ہو کر دوبارہ دامن اسلام سے وابستہ ہوئے۔ 

بہت سے ممالک ان کی حقیقت سے آگاہ ہوئے، انہوں نے بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا۔ ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی، اس فیصلے سے اغیار کو بھی اس بات کا احساس ہو گیا کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور مسلمانوں میں ابھی وہ غیرت و حمیت موجود ہے کہ وہ ناموسِ رسالت کی حفاظت کے لیے سردھڑ کی بازی لگا سکتے ہیں اور ان میں اتنی ہمت ہے کہ وہ دین کی سربلندی کے لیے جرأت مندانہ اقدام کر سکتے ہیں۔

حضور اکرم ﷺ سے محبت ہر مؤمن کا سرمایہ ایمان ہے،بلکہ آپﷺ سے محبت ایمان کا جزو ہے ، کوئی شخص اس وقت تک مؤمن ہی نہیں ہوسکتا،جب تک کہ اس کے دل میں آپﷺ کی محبت نہ ہو، بلکہ تمام جہاں سے حتیٰ کہ اپنی اولاد، اپنے ماں باپ اور اپنی جان سے بھی آپ ﷺزیادہ عزیز نہ ہوں، اس وقت تک ایمان مکمل ہی نہیں ہوسکتا۔ 

یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں آپ ﷺ کی محبت کا دریا موجزن ہوتا ہے، وہ ہر بات برداشت کرسکتا ہے، لیکن رسالت مآب ﷺ کی شان اقدس میں ادنیٰ سی بھی گستاخی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اور ہمہ وقت وہ آپﷺ کی عزت وناموس پر مر مٹنے ،اپنی اولاد، اپنا مال، اپنی جان سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار و آمادہ رہتا ہے ۔ جب بھی کسی دریدہ دہن نے آپﷺ کی شان میں گستاخی کی ناپاک جسارت کی، مسلمان دیوانہ وار میدانِ عمل میں آئے اور اس کا قلع قمع کر کے چھوڑا۔

حضور اکرم ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں،آپﷺ کی ذات اقدس پر انبیاءؑ کا سلسلہ ختم ہوگیا، اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپﷺ کی ختم نبوت کے بعد کسی کا نبوت کا دعویٰ کرنا، صرف آپ ﷺ کی ختم نبوت کا انکار نہیں، بلکہ آپﷺ کی توہین ہے اور صرف آپ ﷺ کی ہی نہیں، بلکہ تمام انبیاءؑ کی توہین ہے، ختمیت کی دیوار میں سوراخ کرنا اورنقب لگانا دین کے تمام نظام کو درہم برہم کرنا اور اللہ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا ہے۔

اسلام کی بنیاد کلمہ طیبہ پر ہے ، اس کلمے کے دو جزو ہیں: اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار ، محمدالرسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اعتراف و اقرار۔ اس اعتراف کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے سوا کسی مدعی الوہیت کا وجود ناقابل برداشت ہے ، اسی طرح محمدالرسول اللہ ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کا بساطِ نبوت پر قدم رکھنے کی جرأت کرنا بھی لائق تحمل نہیں۔ یہی ’’عقیدۂ ختم نبوت‘‘ کہلاتا ہے جس پر صدرِ اوّل سے آج تک امت مسلمہ قائم رہی ہے۔

اس مسئلے میں امت مسلمہ کبھی دو رائے کا شکار نہیں ہوئی ۔ جو لوگ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ایمان و اقرار سے سرشار ہو کر نورِ ایمان سے منور ہوچکے ہیں اور اسلامی برادری کا حصہ ہونے پر فخر کرتے ہیں، ان پر یہ ذمہ دار عائد کی گئی ہے کہ وہ مشرکوں کی سرکوبی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے باغیوں کے خلاف بھی سینہ سپر ہوجائیں اور جھوٹے مدعیانِ نبوت کے جھوٹے طلسم کو پاش پاش کر کے رکھ دیں۔ اسی ذمہ داری کا نام ’’تحفظ ختم نبوت‘‘ ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ امتِ مسلمہ نے اپنے اس فریضہ سے کبھی غفلت نہیں برتی۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں نے نئی نبوت کا ڈھونگ رچا کر مسلمانوں کی عقیدت و محبت کا مرکز بدلنے کی کوشش کی ،حضور اکرمﷺ سے محبت کا جو مضبوط رشتہ ہے ،بلکہ ان کے ایمان کا حصہ ہے، اس رشتے کو ختم کرنے اور کمزور کرنے کی کوشش کی ،جسے ایک ادنیٰ مسلمان بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ۔

عقیدۂ ختم نبوت دین کی بنیاد ہے ، دین اسلام کی عمارت اسی عقیدے پر استوار ہے ، پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا ،اس کی بقا اور اس کا تحفظ بھی اسی عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ سے وابستہ ہے ۔ محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’کسی عمارت کی بنیاد کھودکر اسے اپنی جگہ سے ہٹادینا اور پھر یہ توقع رکھنا کہ عمارت جوں کی توں قائم رہے گی، ایک مجنونانہ حرکت ہے ، ملت اسلامیہ کا شیرازہ ختمی مرتبت حضرت محمد ﷺ کی ذات عالی سے قائم ہے اور یہی وجود پاکستان کا سنگ بنیاد ہے ، جو شخص اس سے انحراف کرتا یا اسے منہدم کرتا ہے، وہ اسلام، ملت اسلامیہ اور پاکستان تینوں سے غداری کا مرتکب ہے ، ایک ایسے شخص سے جو ملک وملت کی جڑوں پر تیشہ چلا رہا ہو ،کسی مفید تعمیری خدمت کی توقع رکھنا خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے ، جو شخص سرورِ عالم ﷺ کا وفادار نہ ہو ،وہ ملک و ملت کا وفادار کیونکر ہوسکتا ہے۔ 

تاریخ شاہد ہے کہ ملت اسلامیہ کا اجتماعی ضمیر کبھی برداشت نہیں کرسکا کہ آنحضرت ﷺ کے بجائے کسی اور شخص کو محمد رسول اللہ ﷺ اور رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے کھڑا کیا جائے اور اس کے لیے وہ تمام حقوق و مناصب اور آداب و القاب تجویز کیے جائیں جو مسلمانوں کے مرکز عقیدت کے ساتھ مختص ہیں،بایں ہمہ یہ اصرار بھی کیا جائے کہ وہ مسلمان ہے ،ملک و ملت کا وفادار ہے اور مسلمانوں کو اس پر اعتماد کرنا چاہیے‘‘۔(بصائر و عبر ، جلد دوم،ص:۱۷۹-۱۷۸)

جو لوگ قادیانیوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، انہیں ان کے عقائد و نظریات کا نہ علم ہے، نہ اندازہ۔ہم یہاں محدث العصر حضرت علامہ بنوری رحمہ اللہ کی تحریر کا ایک اقتباس پیش کرتے ہیں جس سے مرزائیت کا تھوڑا بہت اندازہ ہوجائے گا:’’ مرزا صاحب نے مسیحائی کے مراتب طے کرنے کے لیے بڑی محتاط قسم کی تدریجی رفتار اختیار کی، پہلے پہل گوشۂ گمنامی سے نکل کر وہ ایک مناظر اسلام کی حیثیت سے قوم کے سامنے آئے اور تمام ادیانِ باطلہ کے مقابلے میں اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے ’’براہینِ احمدیہ‘‘ کی پچاس جلدیں لکھنے کا اشتہار دیا اور قوم سے چندے کی اپیل کی۔

جب وکیل اسلام کی حیثیت سے ان کی روشناسی ہوئی تو اپنے دعوؤں میں علیٰ الترتیب محدث، ملہم من اللہ، امام الزماں، مجدد، مہدی موعود، مثیل مسیح، مسیح موعود، ظلی نبی کے درمیانی مدارج طے کرتے ہوئے تشریعی نبوت کی بام بلند پر پہنچ گئے اور ببانگ دہل وحی، نبوت اور معجزات کا اعلان کردیا اور ’’محمد رسول اللہ‘‘ کا مصداق خود بن بیٹھے، قرآن کریم کی جو آیات حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کے حق میں ہیں ،انہیں اپنی ذات پر منطبق کیا، اپنے دور کو آنحضرت ﷺ کے دور سے افضل بتایا، اولو العزم انبیائے کرامؑ کی توہین کی، انبیاء علیہم السلام سے افضلیت کا دعویٰ کیا۔ 

اپنی تعلیمات کو قرآن جیسی قطعی وحی بتایا اور جو لوگ ان کی اس خانہ ساز نبوت پر ایمان نہیں لائے ،انہیں کافر و جہنمی قرار دیا، نئی شریعت کے ذریعے محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے جن اجزء کو چاہا، منسوخ کرڈالا، برطانوی حکومت کو ظل اللہ فی الارض کا خطاب عطا ہوا، اس کی اطاعت کو فرض اور اسلام کے دو حصوں میں سے ایک حصہ قرار دیا، کافروں سے جہاد کا حکم منسوخ ہوا اور انگریزوں کے مقابلے میں جہاد کے حرام ہونے کا فتویٰ صادر ہوا،دین کے قطعی عقائد کا مذاق اڑایا، احادیث متواترہ کی تکذیب کی، قرآن کریم کی بے شمار آیتوں میں کھلی تحریف ہوئی،مسلمانوں سے شادی بیاہ کرنا، ان کے جنازے میں شریک ہونا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا ممنوع اور حرام قرار پایا۔

غرض ایسے صریح سے صریح ترین دعوے کیے کہ ان میں سے ہر بات مستقل کفر کی بات تھی اور ان میں کسی طرح بھی تاویل کی گنجائش نہیں تھی۔ اس لیے علمائے امت نے متفقہ طور پر مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکاروں کے کافر و مرتد ہونے کا فتویٰ دیا اور ان کی کتابوں سے ایک سو کے قریب صریح کفریات جمع کیے ، اگر پوری طرح استقصاء کر کے تمام کفریات و ہذیانات کو جمع کیا جائے تو ایک ہزار کفریات سے کم نہ ہوں گے، خدا کا غضب ہے کہ ظل و بروز کے پردے میں اسلام کی تمام اصطلاحات کو مسخ کیا گیا، مرزا صاحب کی اہلیہ کے لیے ’’ام المومنین‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی، ان کے ہاتھ پر کفر و ارتداد قبول کرنے والوں کو صحابی کہا گیا اور انہیں محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے افضل بتایا گیا، قادیان کو حرم اور مرزا کی قبر کو گنبد بیضاء قرار دے کر مکہ اور مدینہ کے بجائے یہاں کے حج و زیارت کی دعوت دی گئی اور اسے مکہ و مدینہ کے حج و زیارت سے افضل بتایا گیا‘‘۔ (بصائر و عبر، جلد دوم، ص: 179-170)

جب کبھی قوم کے سامنے، نوجوانوں کے سامنے، پڑھے لکھے طبقے کے سامنے ان کے عقائد ، افکار و نظریات حوالہ جات کے ساتھ واضح کیے گئے تو انہیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ قادیانیوں کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں،بلکہ یہ اسلام کے متوازی اور مقابل ایک مذہب ہے ، لیکن اپنے مفادات کے لیے یہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے اور مسلمانوں میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں جب مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں پر جرح شروع ہوئی اور سوال و جواب ہوئے تو ہر ایک کی آنکھیں کھل گئیں ۔ اس پوری بحث کے دوران ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی ممبر نے ان کے حق میں کوئی ایک لفظ کہا ہو، ان سے ہمدردی کا اظہار کیا ہو ، کسی بات پر ناراض ہو کر احتجاج کیا ہو ، بائیکاٹ تو دور کی بات صرف واک آوٹ ہی کیا ہو،بلکہ بحث کے آخر میں ممبران اسمبلی نے اپنے جن خیالات کا اظہار کیا، وہ خیالات بتا رہے ہیں کہ ان کی رائے قادیانیوں اور لاہوریوں کے حق میں کیا تھی۔

قومی اسمبلی کی یہ مصدقہ رپورٹ شائع ہوگئی ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ گواہوں پر جرح کے دوران کسی ممبر کو اظہار خیال کی اجازت نہیںدی گئی،انہیں آخر میں موقع دیا گیا ، قادیانیوں اور لاہوریوں نے جب اپنا موقف بیان کردیا تو مفتی محمودؒ نے پوری ملت اسلامیہ کی طرف سے اپنا موقف پیش کیا جو دو دن میں مکمل ہوا۔ قادیانیوں کے محضر نامے کا شق وار جواب مولانا غلام غوث ہزاروی نے دیا جسے مولانا عبدالحکیم نے پڑھ کر سنایا۔ دو دن اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے بحث کو سمیٹتے ہوئے اپنا بیان مکمل کیا۔ پوری رپورٹ پانچ جلدوں میں 2952 صفحات پر مشتمل ہے ۔ویسے تو پوری رپورٹ ہی پڑھنے کے قابل ہے۔

خلاصۂ کلام یہ کہ پوری جرح، بیانات اور غور و خوض کے بعد قومی اسمبلی کی اس خصوصی کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پیش کی۔ وہ پہلے ہی فیصلے کے لیے 7ستمبر کی تاریخ طے کرچکے تھے، چنانچہ 7ستمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں خصوصی کمیٹی کی سفارشات پیش کی گئیں اور آئین میں ترمیمی بل پیش کیا گیا۔ رائے شماری کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے پانچ بج کر باون منٹ پر اعلان کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی آئینی ترمیم کے حق میں ایک سوتیس ووٹ آئے ہیں ،جبکہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں ڈالا گیا۔ اس طرح قومی اسمبلی میں یہ آئینی ترمیمی بل اتفاقِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔

قادیانی اپنے عقائد و نظریات کی بنیاد پر اپنے وجود کے اوّل دن سے ہی اسلام سے خارج تھے، بلکہ انہوں نے ایک نئے نبی کو مان کر از خود اپنا راستہ مسلمانوں سے علیحدہ کرلیا تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ خود بھی اپنے علاوہ دیگر تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے انہیں کافر قرار نہیں دیا، ہاں قومی اسمبلی نے ان کے افکار و نظریات ، عقائد و خیالات کو دیکھتے ہوئے ان کی آئینی حیثیت متعین کی کہ وہ دیگر غیر مسلم اقلیتوں کی طرح ایک اقلیت ہیں۔

آج یہ شور مچاتے ہیں کہ ہم اس آئین کو کیسے تسلیم کریں جس میں ہماری نفی کی گئی ہے ،یہ بات بالکل غلط ہے۔ اس آئین نے تو انہیں ایک حیثیت دی ہے، ان کے وجود کو تسلیم کیا ہے، کیوں کہ اس ترمیم سے پہلے ان کا اپنا کوئی وجود نہیں تھا، نہ وہ مسلمانوں میں شامل تھے ، نہ دیگر اقلیتوں میں۔ آئین نے ان کی ایک حیثیت متعین کر کے نہ صرف یہ کہ ان کے وجود کو تسلیم کیا ہے ، بلکہ انہیں آئینی طور پر حقوق دیئے ہیں کہ وہ ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر اس ملک میں رہ سکتے ہیں۔ 

دوسری اقلیتوں کی طرح ان کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی، وہ غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے اپنے مذہب پر عمل کرسکتے ہیں، غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے انتخاب لڑ سکتے ہیں، دیگر اقلیتوں کی طرح اسمبلی کا حصہ بن سکتے ہیں، آئین انہیں یہ سارے حقوق دیتا ہے،مگر افسوس آئین کی جس شق کو متفقہ طور پر منظور کر کے آئین کا حصہ بنایا گیا، جس کی پوری امت مسلمہ نے توثیق کی ، عدالت عظمیٰ جس کی کئی بار توثیق کرچکی، قادیانی اس شق کو نہ ماننے پر بضد ہیںاور تمام فیصلوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے خود کو مسلمان کہلانے اور اسلام کا نام استعمال کرنے پر بضد ۔

قادیانی دنیا بھر میں اس متفقہ اور جمہوری فیصلے کے خلاف لابنگ کر رہے ہیں اور اسے ختم کرانے کے لیے پورا زور لگا رہے ہیں۔مغربی عالمی سیکولر لابیوں کی انہیں مکمل پشت پناہی حاصل ہے، ان حالات میں تمام مسلمانوں خصوصاً اہل پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ چوکنا رہیں اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور اس دستوری فیصلے کا مسلسل پہرہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ ہرچور راستے کو بند کر کے اس میں نقب لگانے کی کوشش کو ناکام بنادیا جائے۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ قادیانی مسلمانوں سے علیحدہ قوم ہیں، ان کے نظریات بھی یہی بتا رہے ہیں۔ان کا اعتراف بھی یہی ہے۔ اسی کے مطابق قومی اسمبلی نے آئین میں ترمیم کرکے انہیں غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا جو عین انصاف ہے۔ جب سے یہ قانون بنا ہے، اس وقت سے کوششیں جاری ہیں کہ کسی طرح یہ قانون یا تو ختم ہوجائے یا اس میں اس طرح ترمیم کردی جائے کہ اس کی افادیت ختم ہوجائے۔ ۷؍ستمبر کے موقع پر پوری امت مسلمہ خصوصاً پاکستانی قوم یہ عہد کرے کہ ہم اس قانون کو تبدیل ہو نا تو دور کی بات ہے،اس میں ادنیٰ سی ترمیم بھی نہیں ہونے دیں گے۔ 

اس کے لیے پوری قوم کو ہمہ وقت بیدار اور چوکنا رہنا ہوگا کہ کوئی بھی چورراستے سے اس میں نقب زنی نہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ آنحضرتﷺ کی ختم نبوت کی حفاظت فرمائے اور ہمیں سرکار دو عالمﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے قبول فرمائے۔(آمین)

اسپیشل ایڈیشن سے مزید