• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاور کمپنیوں نے نیپرا کے قواعد و ضوابط کو مذاق بنادیا


کراچی (زین احمد صدیقی) پاور کمپنیوںنے نیپرا کے قواعد و ضوابط کو خود اس کی ناک کے نیچے مذاق بنادیا ہے۔ 

جن صارفین کو بلوںمیں سہولت یا استثنا حاصل ہے، انہیں ٹیرف کی ہیرا پھیری کرکے اووربلنگ کی جارہی ہے۔ نیپرا نے صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرلی ہے۔ 

پورے ملک میں صارفین کو غیر منصفانہ طور پر بھاری بل ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ پاکستانی پاور کمپنیوں کی من مانی پر کوئی روک ٹوک نہیںہے۔ دریں اثناء اس ایشو کی نشاندہی کے باوجود نیپرا جسے بجلی صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہئے اس نے نظرانداز کرنے و الی پالیسی اختیار کرلی ہے۔ 

اس کا موقف ہے کہ وہ اووربلنگ کے شکایت درج کرانے پر انفرادی کیسز کو ہی حل کرتی ہے۔ جن بلوں کا جائزہ لیا گیا ان میں کے الیکٹرک، فیسکو، ہیسکو، میپکو، جیپکو اور سیپکو شامل ہیں۔ 

انہوں نے گزشتہ جنوری سے ایک ماہ میں طے شدہ 31؍ دنوں سے زائد کے بلز بھیجے ہیں، کچھ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں نے تو ایک ماہ میں 35؍ سے 37؍ دنوں پر مشتمل بل بھیجے ہیں۔

یہ نیپرا کے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے تحت ایک ماہ میں 31؍ دنوں پر مشتمل بلنگ کی اجازت ہے۔ نیپرا نے اپنے ایک تحریری بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ اس ضابطے میں کوئی سہولت یا استثناء نہیں ہے۔ یہ ضابطہ بجلی پر سبسڈی طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ 

اسی اصول پر 25؍ ہزار روپے سےزائد بلوں پر ساڑھے سات فیصد انکم ٹیکس پنالٹی بھی طے کی جاتی ہے یہ سنگین مجرمانہ غفلت اور قانون کا عدم احترام ہے۔ 

پاور کمپنیاں ٹیرف شرائط میں ہیرا پھیری سے کام لے رہی ہیں جس کے نتیجے میں صارفین کو بجلی کی زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ میپکو نے بڑی ڈھٹائی سے قواعد و ضوابط کا غلط استعمال کیا۔اس نے عیدالفطر کے تناظر میں مئی کا بل 37؍ دنوں کا بھیجا۔ 

سیکپو نے مئی میں 35؍ دن اور جولائی میں عیدالاضحی پر ایک ماہ میں 34؍ لگا کر بل بھیجا۔ گزشتہ جنوری میں جیپکو اور فیسکو نے 33؍ دنوں پر مشتمل بل بھیجے۔ اسی طرح فیسکو نے مئی میں 34؍ اور ہیسکو نے 32؍ دنوں کا مہینہ بنا کر بل بھیجے ۔ کے الیکٹرک نے ایک سےزائد بار 32؍ دنوں پر مشتمل مہینے کا بل بھیجا۔ اسی طرح لیسکو نے گزشتہ اگست میں 33؍ دنوں کے پیسے وصول کئے۔ 

آئیسکو بجلی فراہم کرنے والی واحد کمپنی ہے جس نے قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کی۔ پاور سیکٹر کے حکام کاموقف ہے کہ اضافی دنوں کے چارجز گزشتہ یا آئندہ بلوں میں ایڈجسٹ کرائےجاتے ہیں۔ خاندانوں کے لئے سبسڈیز کو بھی لوٹا جاتا ہے۔

گھریلو صارفین کو 300؍ یونٹ بجلی کے استعمال پر سبسڈی ملتی ہے زیادہ یونٹ استعمال کرنےپر یہ سبسڈی منفی ہوجاتی ہے اس طرح صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑجاتی ہے۔

بلنگ دورانیہ کے ضابطے کے مطابق صارفین کو 31؍ دنوں میں 300؍ یونٹ تک بجلی کے استعمال پر سبسڈی سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔پاور سیکٹر حکام نے صارفین سے 31؍ دنوں سے زائد کے چارجز کی قانونی حیثیت پر کہا کہ یہ کوئی غلط بات نہیں ہے۔ مختلف آپریشنل وجوہ کے باعث میٹرریڈنگ میں تاخیر ہوجاتی ہے۔ 

ان کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے نیپرا کے ساتھ غیر تحریری معاہدہ ہے جبکہ نیپرا کا کہنا ہے کہ ایساکوئی انتظام نہیں ہے۔ وکلاء کہتے ہیں کہ پاور کمپنی اپنے طور پر یکطرفہ طریقے سےبلنگ دورانیہ کی تشریح نہیں کرسکتی۔ 

پاور سیکٹرپر قانونی ماہر ماریہ فاروق نے کہا کہ ٹیرف کے شرائط و ضوابط میں تبدیلی کا کسی بھی کمپنی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ 

نیپرا حکام کا کہنا ہےکہ کوئی بھی صارف 31؍ دنوں سے زائد کی بلنگ پر زیادہ ٹیرف کی وصولی پر ثبوت اور شہادتوں کے ساتھ ریگولیٹر سےرابطہ کرسکتا ہے اور اس کا مسئلہ حل کردیا جائے گا۔ تاہم ریگولیٹر نے اس جانب کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ اووربلنگ کے معاملے میں صارفین کے مفادات کا کس طرح تحفظ کررہی ہے۔

تازہ ترین