اسلام آباد(فاروق اقدس) افغان عبوری حکومت میں شامل تمام وزراء طالبان رہنما ہیں جبکہ بعض وزراء ماضی میں بھی طالبان حکومت کا بھی حصہ رہے ہیں اور اس ضمن میں بڑی مثال وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی ہے۔ جبکہ ملا عمر کے بیٹے یعقوب مجاہد کو عبوری وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے، بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اہم ممالک جن میں عالمی طاقتیں بھی شامل ہیں ان کے دبائو کے پیش نظر عبوری حکومت کے قیام کا ایک وقتی سا انتظام کیا گیا ہے جبکہ اصل کابینہ کے انتخاب میں طالبان کی سوچ اور مختلف دھڑوں کی نمائندگی کرنے والے افراد بعد میں سامنے آئیں گے۔ نامزد عبوری سربراہ ملا محمد حسن اخوند طالبان کی طاقتور رہبری شوریٰ کے بھی سربراہ ہیں۔ ان کا تعلق قندھار سے ہے جہاں طالبان کی بنیاد پڑی تھی۔ ملا محمد حسن طالبان کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ملا ہیبت اللہ کے ساتھ 20 سال تک کام کیا ہے۔ وہ پچھلی طالبان حکومت میں وزیرخارجہ بھی رہ چکے ہیں۔ ملا عبدالغنی برادر طالبان شوریٰ کے اہم رکن اور ملا عمر کے نائب کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کا تعلق بنیادی طور پر اورزگان سے بتایا جاتا ہے۔