• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’گلزار‘‘شاعر،فلمساز،گیت نگار، افسانہ نگار، کہیں تو کیا کہیں کہ کچھ بچا ہی نہیں، وہ پاکستان کو اپنا وطن اور بھارت کو نیا ملک قرار دیتے ہیں۔اس مثبت رویے میں شاید اُن کی آبائی مٹی ’’دینہ‘‘ کا بھی ہاتھ ہے۔ گلزار کی قلم بند کی ہوئی کہانی نذرِ قارئین ہے:

اتنا بھاری نام ہے انوُ کا، تب پتا چلا، جب اسکول کے میگزین میں اس کی کہانی چھپی۔ انل کمار چٹو پادھیا۔ چھٹی جماعت۔تبھی سے افسانہ نگار بننے کا شوق تھا اسے۔ کہانیاں خوب سوجھتی تھی۔ اور مجھے تو ہمیشہ سے یقین رہا ہے کہ شاعر یا ادیب ہونا، خدائی دین کی بات ہے، ورنہ ہر کوئی شاعر نہ ہوجاتا۔ انوُمیں وہ بات تھی، جو بڑے بڑے فنکاروں کو پیدائشی ملتی ہے۔

ہم جب گلی ڈنڈا کھیل رہے ہوتے، تب بھی انوُ سب سے الگ بیٹھا، کاپی میں کچھ لکھ رہا ہوتا، یا سوچ رہا ہوتا۔ ہمیں یہ جاننے کی ہمیشہ بے چینی رہتی کہ انوُ کے دماغ میں اب کیا چل رہا ہوگا؟ کیسے وہ خلاء میں ایک کردار پیدا کرتا اور اسے سامنے پڑے کاغذ پر لیتا ہے۔ پھر وہ چلنے پھرنے لگتا ہے۔ انوُ جہاں جی چاہتا، اسے وہاں بھیج دیتا۔ جو چاہے اسے کروا لیتا ہے، اور جہاں جہاں سے گزرتا ہے، کہانی کا ایک پلاٹ (Polt) بنتا چلا جاتا ہے۔ واہ! افسانہ نگار بھی کمال ہوتے ہیں، جسے چاہیں مار دیں، جسے چاہیں زندگی دے دیں۔ ہے نا خائی جیسی بات!

انو ہنسا! یہ کالج کے زمانے کی بات ہے۔

’’ایسا نہیں ہے۔ میرے کردار من گھڑت نہیں ہیں اور وہ میرے بس میں بھی نہیں ہیں، بلکہ میں ان کے بس میں رہتا ہوں‘‘۔

انو اب بات بھی رائٹرز کی طرح کرتا تھا، مجھے اچھا لگتا تھا۔ اس کی کہانی ’’پرتاپ‘‘، ’’ملاپ‘‘ یا ’’جنگ‘‘ کے سنڈے ایڈیشن میں جب چھپتی تھی تو مجھے بڑا فخر محسوس ہوتا۔ میں نے اخبار ماں کو دکھایا۔

’’یہ دیکھو۔ انوُ کی کہانی انل کمار چٹو پادھیا۔ اسی کا نام ہے‘‘۔

’’اچھا، سنا تو‘‘۔

میں نے کہانی پڑھ کر سنائی ماں کو۔ ایک غریب موچی کی کہانی تھی، ماں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

’’ارے یہ تو اپنے ہی محلے کے بھیکو موچی کی کہانی ہے۔ اس کی ماں کے ساتھ ایسا ہوا تھا‘‘۔

یہ مجھے بھی معلوم نہیں تھا، لیکن میں نے فوراً انوُ کے الفاظ دہرا دئیے۔

’’اس کی کہانیاں من گھڑت نہیں ہوتیں ماں۔ وہ کردار پیدا نہیں کرتا، بلکہ اپنے ماحول سے کردار چنتا ہے۔ اس کے لئے آنکھ کان ہی نہیں، سوچ اور سمجھ کی کھڑکیاں بھی کھلی رکھنی پڑتی ہیں‘‘۔

گلی میں ایک بہت بڑا جامن کا پیڑ تھا۔ اس کے نیچے بیٹھا کرتا تھا بھیکو موچی۔ سارے محلے کی جوتیاں اسی کے پاس آیا کرتی تھیں اور انوُ کا تو اڈا تھا۔ کپڑے چاہے کیسے بھی میلے کچیلے ہوں، ’’کھیڑیاں‘‘ خوب چمکا کے رکھتا تھا انوُ۔

بھیکو اپنے بیٹے گھسیٹا کو چپل کے انگوٹھے میں ٹانکا لگانا سیکھا رہا تھا۔ میں نے جب بھیکو کی کہانی اس کو سنائی تو اس کا گلا رندھ گیا۔

’’ہمارے دکھ درد اب آپ لوگ ہی تو سمجھو گے بیٹا۔ اب آپ لوگ نہیں جانوگے ہماری کہانی، تو اور کون جانے گا؟‘‘

انوُ کا رتبہ اس دن سے میرے لئے اور بڑھ گیا۔ وہ سچ مچ پیدائشی ادیب تھا۔

کالج ختم ہوا اور میں دلی چھوڑ کے بمبئی چلا آیا۔ میری نوکری لگ گئی تھی۔ اور انوُ اپنے بڑے بھائی کی ’’بیٹھک‘‘ پر ان کا ہاتھ بٹانے لگا، جہاں سے وہ آیوروید اور ہومیوپیتھی کی دوائیاں دیا کرتے تھے۔ کسی سرکاری دفتر میں نوکر تھے، لیکن صبح و شام دو دو گھنٹے اپنی بیٹھک میں یہ دواخانہ بھی چلاتے تھے۔ انوُ کے لئے بہت سی نوکریوں کی سفارش کی۔ لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔

میں ایک بار بہن کی شادی پر دلی کیا تو ان سے ملاقات ہوئی۔ کافی بیمار تھے۔ مجھ سے کہنے لگے۔

’’تمہیں کچھ سمجھائو انوُ کو، کچھ کام کاج کرے۔ یہ دنیا بھر کی کہانیاں لکھنے سے کیا ہوگا؟‘‘

میں چپ رہا۔ وہ دیر تک سینے کا بلغم خالی کرتے رہے۔ خود ہی بولے۔

’’وہ حرامزادی اس کا پیچھا چھوڑ دے، تو اس کی مت ٹھکانے آجائے‘‘۔

میں نے انوُ سے پوچھا۔

’’وہ حرا مزادی کون ہے؟‘‘

بولا:’’افسانہ نگاری۔ بس اسی کو گالیاں دیا کرتے ہیں بھائی صاحب۔ وہ سمجھتے نہیں۔ وہ جسمانی بیماری کا علاج کرتے ہیں، میں سماجی اور روحانی مریضوں کا علاج کرتا ہوں۔ میں سماج کے رستے ہوئے ناسوروں پر اپنے افسانوں کے پھاہے رکھتا ہوں۔ اندھیرے میں بھٹکتے ہوئے مظلوم انسانوں کے لئے چراغ جلاتا ہوں، انہیں اپنی ذہنی غلامی کی زنجیریں کاٹنے کے ہتھیار مہیا کرتا ہوں‘‘۔

میرا جی چاہا، تالی بجادوں۔ وہ بہت دیر تک بولتا رہا۔ اس نے بتایا۔ اس کی پہلی کتاب چھپنے کے لئے تیارہے۔ ملک کے بڑے بڑے ادبی رسالوں میں اس کی کہانیاں چھپ رہی ہیں۔ اکثر تقاضے آتے ہیں رسالوں سے، لیکن وہ سب کے لئے لکھ نہیں پاتا۔ وہ ایک ناول بھی لکھ رہا ہے، لیکن بیٹھک سے اتنا وقت نہیں ملتا کہ وہ جلدی سے پورا کرسکے۔ بڑے بھائی بہت بیمار رہتے ہیں۔ اور ان کے دوبچے، بے چارے! ان کو لے کر بھی وہ ایک کہانی سوچ رہا تھا۔

اس کی بات چیت میں اب بڑے بڑے مصنفوں کا ذکر آتا تھا۔ کچھ نام میں نے سنے ہوئے تھے، کچھ وہ بتا دیتا تھا۔ سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، کے بعد ’’کافکا‘‘ اور ’’سارتر‘‘ کا ذکر میرے لئے نیا تھا۔ کچھ باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر گئیں۔ پہلے وہ کہانیوں کے پلاٹ بتایا کرتا تھا۔ اب وہ ’’کافکا‘‘ کے Symbolism اور ’’سارتر‘‘ کے Existencialism کی بات کررہا تھا۔ مجھے لگا شاید کہانی کہیں پیچھے چھوٹ گئی، لیکن انل کمار چٹو پادھیا نے مجھے سمجھایا۔

’’کہانی صرف پلاٹ کے اوقات کی تفصیل اور اس سے پیدا ہونے والے کرداروں کے تعلقات کا ہی نام نہیں ہے، بلکہ ذہنی حادثات کے تصورات کو…‘‘

بات میرے اوپر سے ضرور گزر رہی تھی، لیکن میں اس کے وژن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔

انل ایک بار بمبئی آیا۔ کسی ’’رائٹرز کانفرنس‘‘ میں حصہ لینے۔ اس کی چاروں دستخط شدہ کتابیں میں نے الماری سے نکال کر دکھائیں۔ وہ کتابیں میں دوستوں کو دکھانے میں بڑا فخر محسوس کرتا تھا۔ اتنے بڑے ادیب کی کتابیں، اور اب وہ خود میرے یہاں رہ رہا تھا۔ میں نے بھائی صاحب کے دونوں بچوں والے افسانے کے بارے میں پوچھا۔ ’’وہ لکھا؟‘‘

اس نے افسو ناک خبر دی۔

’’بھائی صاحب گزر گئے اور رشتے داروں نے مل کر ان کی بیوہ پر چادر ڈال دی۔ مجھے شادی کرنی پڑی۔ میں اب دونوں بچوں کا باپ ہوں‘‘۔

کچھ دیر رہ کر انل واپس چلا گیا۔

اب اس کے بارے میں اکثر اخباروں میں پڑھ لیا کرتا تھا۔ جب بھی کوئی نئی کتاب چھپتی، وہ مجھے ضرور بھیج دیتا تھا۔

بہت سالوں بعد ایک بار پھر دلی جانا ہوا۔ اپنی بیوی کو بھی لے گیا تھا۔ اس سے کہا تھا، اپنے رائٹر دوست سے ضرور ملائوں گا۔اسی شام، جامن کے بیڑ کے نیچے، انوُ اپنی ’’کھیڑیاں‘‘ پالش کرا رہا تھا، گھسیٹا سے۔ اس کا اڈا اب بھی وہی تھا۔ بات پھر چل نکلی افسانے کی۔

’’نئی کہانی کا سب سے بڑا مسئلہ حقیقت کا بدلتا ہوا تصور ہے۔ حقیقت صرف وہ نہیں جو دکھائی دیتی ہے، بلکہ اصل حقیقت وہ ہے، جو آنکھ سے نظر نہیں آتی۔ کہانی صرف ایک Logical Relationship کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کیفیت کا نام ہے، جو کردار کے Subconscious میں واقع ہورہی ہے‘‘۔

میں منہ کھولے چپ چاپ سن رہا تھا انل کمار کہے جارہے تھے۔

’’پچھلے پچاس سالوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے اردو افسانے میں۔ ہماری کہانی نے ان پچاس سالوں میں اتنی ترقی کی ہے کہ ہم اسے دنیا کے کسی بھی…‘‘

گھسیٹا نے پائوں کی چمکتی ہوئی ’’کھیڑیاں‘‘ آگے کرتے ہوئے کہا۔

’’کس کی کہانی کی بات کررہے ہیں بھائی صاحب؟ جن کی کہانی لکھتے ہو، وہ تو وہیں پڑے ہیں۔ میں اپنے باپ کی جگہ بیٹھا ہوں۔ اور آپ اپنے بھائی صاحب کی ’’بیٹھک‘‘ چلا رہے ہو۔ ترقی کون سی کہانی نے کرلی؟‘‘

’’کھیڑیاں‘‘ دے کر گھسیٹا ایک چپل کے انگوٹھے کا ٹانکا لگانے میں مصروف ہوگیا۔