• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’جب میں کراچی میں اس مزار کی دیواروں کی (بتدریج) ایک ایک انچ بلند ہوتے ہوئے دیکھتی ہوں جو میرے بھائی کے جسد فانی کو محفوظ کر دینےکے لئے کھڑی کی جا رہی ہیں تو میرے ذہن میں اس المناک دن کی یادیں امڈی چلی آتی ہیں‘‘11؍ستمبر 1984ء کو ہفتہ کے روز میرا بھائی مجھ سے چھن گیا تھا اور میری قوم یتیم ہو گئی تھی۔ ان کے ساتھ میری رفاقت چالیس برس سے بھی زائد عرصے پر محیط رہی ہے۔ 

اس طویل عرصہ کے دوران میں نے ان کی زندگی کوکس طرح دیکھا تھا، اس بات کا آغاز کرنے سے پہلے مناسب ہو گا کہ میں آج صبح ان کی قبر پر حاضری دوں ۔ ان کے لئے فاتحہ خوانی کروں، انہیں پھولوں کا نذرانہ پیش کروں اور ان کے لئے آنسو بہاؤں۔ کیونکہ آدمی جن سے محبت کرتاہے، جب وہ بچھڑ کر دوسرے جہان میں چلے جائیں تو انہیں کوئی ان چیزوںکے سوا بھلا کیا دے سکتاہے! وہ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں اور یہ کتاب ان کی زندگی کے کارناموں، برسوں کی جدوجہد ، رکاوٹوں کے ایام اور کامیابی کے لمحات، تصور، فلاسفی اور نظریے کوکھول کر سامنے لے آئے گی جو ان کے مطالبہ پاکستان کی بنیاد تھے۔

جہاں تک اپنے مقاصد میں کامیابی کے حصول کا تعلق ہے، قدرت نے انہیں بےپناہ قوت اور توانائی و ویعت کی تھی۔ یہ وصف ان کے بظاہر ناتواں اور کمزور جسم میں پہناں کر دیا گیا تھا اور ان کی ذات صلاحیتوں سے معمور دل و دماغ، قوت ارادی کی تیز رفتاری کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے قابل نہیں تھی۔ زیادہ المناک بات یہ تھی کہ ان کی صحت ایسی نہیں تھی جو بے پناہ مصائب و مشکلات کے مقابلے میں ان کی جدوجہد سے بھر پور زندگی کا ساتھ دے سکتی اور انہیں وہ قوت فراہم کرسکتی جس کی انہیں ضرورت تھی تاکہ و اپنی قوم کی اٹل تقدیر کی جانب رہنمائی کرنےکی راہ میں حائل وقتوں پر قابو پا سکیں۔

زندگی کے آخری دس برس کے دوران ان کی سیاسی سرگرمیوں اور ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا جب کہ وہ بڑھاپے کی سرحدوں میں پہلے ہی داخل ہو چکے تھے۔ ڈاکٹروں کے مشورے اور چھوٹی بہن کی التجائوں کے باوجود انہوں نے اپنا کوئی خیال نہ رکھا۔ وہ آرام یااپنے کام کی رفتار میں کمی کرنے سے مسلسل انکار کرتے رہے۔ وہ زندگی کی توانائی کے باقی ماندہ ذخیرہ کو کسی کھلنڈرے بچے کی طرح بے دریغ لٹاتے رہے۔ 

ان کی خرابی صحت سے خوفزدہ ہو کر جب کبھی ان سے مسلسل اتنا زیادہ کام نہ کرنے کی التجا کرتی یا ہندوستان بھر کے طوفانی دوروں کا پروگرام کچھ عرصے کے لئے ملتوی کر دینےکا مشورہ دیتی تو وہ کہتے: ’’کیا تم نے کبھی سنا ہے کہ کسی جنرل نے چھٹی کی ہو جب اس کی فوج میدان جنگ میں اپنی بقاءکی جنگ لڑ رہی ہو؟‘‘ انہیں کمال حاصل تھا کہ بنا بنایا مقدمہ ایک جملے میں اڑا دیتے تھے۔ میری بھلا کیا حیثیت کہ انہیں قائل کر سکتی۔ ایسے مواقع پر میں عموماً دلائل کی بجائے جذبات کا سہارا لیا کرتی تھی۔ میں کہتی ’’آپ کی زندگی قیمتی ہے اور آپ کو اس کی مناسب دیکھ بھال کرنی چاہیے ‘‘۔ ان کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرتے ۔ وہ کہتے ’’فرد واحد کی کیا حیثیت ہے جب کہ میں ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کی بقاء کے بارے میں پریشان ہوں۔ کیا تم جانتی ہو کہ (مسلمان قوم) کش خطرے میں ہے؟‘‘ ان کا یہ کہنا جذبات کو سرد کر دینے کے لئے کافی ہوتا بعد ازاں وہ اپنی صحت کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے سیاست کے طلاطم خیز سمندر کی اتھاہ گہرایوں میں اتر جاتے۔

قیام پاکستان کا مطالبہ تسلیم کیا جا چکا تھا اور پاکستان 14، 15اگست کی درمیانی شب معرض وجود میں آچکا تھا۔ ہم گاڑی میں کراچی کی مختلف سڑکوں پر سے ہوتے ہوئے گورنر جنرل ہائوس کی جانب جا رہے تھے اور لوگوں کے انتہائی خوش اور پر جوش ہجوم کو قطعاً خبرنہیں تھی کہ قائد اعظم کے لئے یہ تکمیل کا ایک لمحہ تھا ۔ منزل آگئی تھی مگر سفر ابھی ختم نہیں ہوا تھا دنیا کے سیاسی نقشے پر ابھرنے والی اس مملکت کو ابھی کئی بڑے بڑے اور سنگین مسائل کا سامنا تھا۔ سربراہ مملکت کی حیثیت سے پاکستان کی تقدیر کی کشتی کو ایک محفوظ ساحل تک لے جانے کا کام ان کے ہاتھوں میں تھا اور وہ کام کی کثرت سے تھک چکے تھے۔

میں نے انتہائی افسوس اور کرب کے ساتھ دیکھا کہ کامیابی کے اس عظیم لمحے میں قائد اعظم کی جسمانی صحت کسی بھی لحاظ سے اطمینان بخش نہیں تھی۔ ان کی بھوک برائے نام رہ گئی تھی۔ بلکہ بالکل ہی ختم ہو چکی تھی۔ چنانچہ انتہائی توجہ اور محبت سے بنائے گئے کھانے بھی انہیں اپنی طلب پر آمادہ نہیں کرتے تھے۔ ان کی زندگی بھر کی اپنی مرضی سے سو جانے کی عادت اب عنقا ہو چکی تھی اور وہ مسلسل کئی کئی راتوں تک بے خوابی کے عالم میں تکیوں پر کروٹیں بدلتے اور جاگتے رہتے تھے۔ 

ان کی کھانسی میں اضافہ ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ حرارت بھی اب زیادہ رہنے لگی تھی۔ پاکستان کی سرحد کے اس پار سے مسلمانوں کے قتل عام، آبروریزی، آتش زنی اور لوٹ مار کے لرزہ خیز واقعات نے قائداعظم کے ذہن پر شدید اثرات مرتب کئے تھے۔ سربراہ مملکت کی حیثیت سے وہ مہاجرین کے لئے جو کچھ کر سکتے تھے انہوں نے کیا۔ حالات کے المناک رخ اور قوم کو درپیش مشکلات نے نہ صرف جسم بلکہ ان کے جذبوں اور روح تک کو تھکا دیا تھا۔ وہ ایک بار پھر بیمار ہو گئے۔ اس اثناء میں نومولود مملکت کی حکومت پر ، جس نے اپنا کام ملبے کے ڈھیر سے شروع کیا تھا، ذمہ داریوں کا بوجھ دن بدن بڑھتا چلا گیا، فائلوںکی بوچھاڑ کہ رکنے میں نہ آتی تھی اور ہدایات حاصل کرنے کے لئے سیکرٹریوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ ایسے میں قائداعظم کا آرام و سکون ناممکن ہو گیا۔

قائداعظم یکم جولائی 1948ء کو کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر چکے تھے۔ مجھے اندیشہ تھا کہ کوئٹہ سے کراچی تک کے سفر اور پھر ایک دو روز بعد کوئٹہ واپسی کے باعث ان کی صحت دوبارہ خراب نہ ہو جائے چنانچہ میں نے کوشش کی کہ انہیں یہ سفر نہ کرنے پر آمادہ کر لوں۔ میں نے مشورہ بھی دیا کہ انہوں نے اس موقع کے لئے جو تقریر تیارکی ہے وہ ان کی طرف سے کوئی اور پڑھ دے گا۔ انہوں نے جواب دیا:’’تم جانتی ہو کہ کانگریس اور ہندو پیش گوئی کر چکے ہیں کہ پاکستان ایک دیوالیہ ملک ہو گا اور ہمارے لوگ تجارت، صنعت ، بنکنگ، جہاز رانی اور انشورنس وغیرہ جیسے شعبوں کو نہیں چلا سکیں گے۔ 

 بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح ایک عہدآفرین شخصیت ، عظیم قانون داں، بااصول سیاست داں اور بلند پایہ مدبر تھے۔ ان میں غیر معمولی قوت عمل ، غیر متزلزل عزم، ارادے کی پختگی کے علاوہ بے پناہ صبر و تحمل اور استقامت و استقلال تھا۔ انہوں نے اپنی اٹل قوت ارادی، دانش ورانہ صلاحیتوں ، فہم و ادراک اور فولادی اعصاب کی مدد اور مسلسل انتھک محنت سے مسلمانان پاک و ہند کے گلے سے صدیوں کی غلامی کا طوق اتار اور پاکستان جیسی اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی۔قائد کو پختہ یقین تھا کہ اسلام بنیادی طورپر ایک مکمل جمہوری ضابطہ حیات ہے اور جمہوریت مسلمانوں کے خون اور رگ و پے میں موجود ہے، گو اس خون کی روانی صدیوں سے جمود کا شکار رہی۔ ان کو امید تھی کہ پاکستان کے دستور کی بنیاد اسلام کے نظام عدل اور جمہوری اقدار پر ہوگی۔ وہ اسلام کو ایک متحرک قوت اور قرآنی احکامات کوزندگی کے ہر شعبے کے لئے مشعل راہ سمجھتے تھے۔ قائد انتہائی اصول پرست تھے انھوں نے کبھی اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ آج بانیٔ پاکستان کا یوم وفات ہے۔ زیر نظر مضمون میں محترمہ فاطمہ جناح کی کتاب ’’میرا بھائی‘‘ سے چند اقتباسات نذرِقارئین ہیں۔

چنانچہ ہمیں لازماً ثابت کرنا ہے کہ ہمارے پاس نہ صرف سیاسی شعبے میں ٹیلنٹ موجود ہے بلکہ مالیات اور بنکاری میں بھی باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ہے لہٰذا میری وہاں موجودئی نہایت ضروری ہے اور پھر اس کے بعد ہم چند روز کے اندر ہی کوئٹہ واپس آجائیں گے۔ تم میری صحت کے بارے میں اس قدر پریشان کیوں ہو۔ مجھے اپنا فرض بہرحال ادا کرنا ہے۔ میں اسے ملتوی نہیں کر سکتا اور تم کہہ سکتی ہو کہ میں اس سلسلہ میں کوئی خطرہ قبول نہیں کر سکتا‘‘۔کراچی سے کوئٹہ کے ہوائی سفر سے ان کی حالت زیادہ خراب ہو گئی۔ چنانچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب کی صبح وہ اپنے بستر سے لگے پڑے تھے، وہ بے حد کمزور ہو چکے تھے اس کے باوجود اٹھے، تقریب کے لئے لباس زیب تن کر کے تیار ہوکر تقریب میں گئے اور خطاب کیا۔

کراچی میں پانچ روز کے قیام کے بعد جہاں انہوں نے بعض انتہائی اہم فائلیں دیکھیں اور دیگر کام کیا ہم لوگ ہوائی جہاز سے کوئٹہ واپس پلٹ آئے۔ اگرچہ ہوائی سفر کے دوران وہ ٹھیک رہے مگر اگلے ہی روز سے ان کی طبیعت میں اضمحلال اور تھکاوت کے اثرات نمایاں ہونے لگے تھے۔ ہلکا بخار بدستور تھا جس سے ان کی بے آرامی اور میری تشویش بڑھ گئی۔ ایک بار پھر کوئٹہ میں مختلف اداروں کی طرف سے انہیں دعوت نامے موصول ہونے لگے اور بہت سے افراد اور لیڈر شدید طور پر قائداعظم کو دیکھنے کے لئے بے چین تھے۔ 

قائداعظم کو افسوس تھا کہ خرابی صحت کے باعث وہ ان لوگوں کی خواہشات کامزید احترام کرنے سے قاصر تھے۔ ایک روز انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم کوئٹہ سے زیارت چلے جائیں جہاں کا موسم کوئٹہ سے زیادہ ٹھنڈا اور یقیناً آرام دہ ثابت ہو گا۔ زیارت کی ریذیڈنسی جہاں ہم ٹھہرے ایک پرانی دو منزلہ عمارت میں واقع ایک بلند و بالا پہاڑی پر کسی مستعد چوکیدار کی طرح کھڑی تھی۔ اس کے لان اور گارڈن وسیع ہیں جہاں پرندے صبح نغمہ حمد گاتے اور شام کو چہچہاتے ، پھل دار درختوں کا ایک جھنڈ اور پھولوں کے تختے یہاں کے منظرکی خوبصورتی کو دو بالا کرتے۔ قائداعظم اس کی خاموشی اور دل کشی پر فریفتہ ہو گئے۔

کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی اہلیہ مسز خان نے مجھے بتایا ڈاکٹر ریاض علی شاہ اپنے ایک مریض کو دیکھنے کے لئے زیارت آئے ہوئے ہیں اور ان کے خیال میں ان سے قائداعظم کا معائنہ کرانا مفید رہے گا۔اب تک وہ اپنا تفصیلی معائنہ کرانے اور خود کو مکمل طور پر ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے انکار کرتے آئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ صحت اپنی مرضی کے تابع رکھ سکتے ہیں۔ تاہم اب انہیں یہ احساس رہنے لگا تھا کہ یہ کوششیں ناکامی سے دوچار ہونے لگی ہیں۔ 

پس پہلی بار ان کی صحت نے خود انہیں خطرے کا الارم دینا شروع کیا، ایک روز علی الصبح جب انہوں نے رضامندی ظاہر کی کہ اب انہیں صحت کے بارے میں مزید خطرات مول نہیں لینے چاہیں ،مناسب طبی مشورہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے تو مجھے بے حد خوشی ہوئی۔میں نے وقت ضائع کئے بغیر قائداعظم کے پرائیویٹ سیکرٹری مسٹر فرخ امین سے کہا کہ وہ کابینہ کے سیکرٹری جنرل سے کہیں کہ کرنل الہٰی بخش کو فوری طور پر بذریعہ ہوائی جہاز زیارت بھجوانے کا انتظام کریں ،یہ 21جولائی 1948 کا واقعہ ہے۔

23جولائی1948،بروز جمعہ شام ڈھلے مجھے فرخ امین کی زبانی یہ جان کر اطمینان ہوا کرنل الٰہی بخش پہنچ چکے ہیں اور قائد اعظم کے معائنے کیلئے نچلی منزل پر منتظر ہیں۔ میں نے یہ خوشخبری اپنے بھائی کو سنائی تو انہوں نے جوش سے خالی لہجے میں کہا ’؟ڈاکٹر سے کہو کہ وہ کل صبح دیکھنے کیلئے آئے، شام زیادہ ہوچکی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی مجھےڈسٹرب کرے۔‘’ڈاکٹر کی آمد کی خبر کو انہوں نے جس انداز میں لیا تھا اس پر مجھے حیرت ہوئی اور میں نے محبت بھرے انداز کا سہارا لے کر ان سے درخواست کی کہ وہ ڈاکٹر کو اپنا معائنہ کرنے کی اجازت دے دیں کیونکہ اپنی زندگی سے کھیلنا دانشمندی کی بات نہیں۔ اس کے جواب میں ان کے چہرے پر ایسی دلکش مسکراہٹ پھیل گئی کہ مجھے مکمل طور پر پسپا ہوتے ہوئے ان کی بات ماننا پڑی۔

اگلی صبح میں کرنل الہٰی بخش کو قائداعظم کے پاس لے گئی، اور اس سے پہلے کہ ڈاکٹر مریض سے کوئی سوال کرتا ،انہوں نے کہا ’’ڈاکٹر مجھے امید ہے کہ آپ کا سفر خوشگوار رہا ہو گا ۔‘‘

اب ڈاکٹر الٰہی بخش نے قائد سے بیماری اور اس کی سابقہ علامات وغیرہ سے متعلق استفسار کیا اور قائد اعظم نے 1934سے اپنی بیماری کی مختصر تفصیل ٹھیک ٹھیک ڈاکٹر کو بتا دی۔ ان دنوں کسی کو قائدا عظم سے ملنے کی اجازت نہیں تھی مگر جب واشنگٹن میں متعین پاکستانی سفیر مسٹر اصفہانی زیارت میں ہمارے گھرآئے تو قائد اعظم ان سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ وہ کئی برسوں سے قائدا عظم کے قریبی ساتھی تھے۔ اپنے لیڈر کو دیکھ کر جب مسٹر اصفہانی نیچے اترے تو ان کی آنکھوں سے آنسو نکلے۔ وہ اس ماہر سیاست دان کو بےبسی سے بستر میں پڑے ناتوانی کے ساتھ اپنی زندگی کی جنگ لڑتے دیکھ کر خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے ڈاکٹر الٰہی بخش کو بتایا کہ انہیں قائد اعظم کے لئے امریکہ سے اسپیشلسٹ ڈاکٹر اور مطلوبہ ادویات بھجوا کر بے حد خوشی ہو گی۔ ڈاکٹر الٰہی بخش نے جواب دیا اگر ضرورت پڑی تو وہ بخوشی مسٹر اصفہانی سے ایسا کرنے کیلئے کہیں گے۔

جولائی کے اوآخر میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کسی پیشگی اطلاع کے بغیر چودھری محمدعلی کے ہمراہ زیارت پہنچ گئے۔ انہوں نے ڈاکٹر الٰہی بخش سے قائد اعظم کی صحت کے بارے میں پوچھا۔ ڈاکٹر نے کہا چونکہ وہ میرے بلانے پر قائد اعظم کے معائنے اور علاج کیلئے یہاں آئے ہیں اس لئے وہ انہیں (لیاقت علی خان کو) اپنے مریض کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے ۔‘‘ مگر بحیثیت وزیر اعظم میں ان کی صحت کے بارے میں جاننے کے لئے بیتاب ہوں۔‘‘ 

ڈاکٹر نے شائستگی سے جواب دیا ’’یس سر ‘‘ مگر میں مریض کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کر سکتا۔‘‘ جونہی مجھے بتایا گیا کہ وزیر اعظم اور سیکرٹری جنرل ان سے ملنا چاہتے ہیں ، میں فوراً ان کے پاس پہنچی اور ان لوگوں کی آمدکی اطلاع دی۔چند منٹ بعد قائد اعظم نے فرمایا ‘‘نیچے جایئے … وزیر اعظم کو بتایئے کہ … میں ان سے ملاقات کروں گا ۔‘‘’’اس وقت دیر ہوچکی ہے آپ ان لوگوں سے کل صبح ملاقات کر لیجیے گا ۔

قائداعظم اور لیاقت علی خان کے درمیان ملاقات تقریباً نصف گھنٹہ تک جاری رہی۔ جونہی لیاقت علی خان نچلی منزل پر آئے میں اوپر اپنے بھائی کے پاس چلی گئی۔ وہ بری طرح تھک چکے تھے اور ان کی آنکھوں سے بھی بیماری کے آثار نمایاں ہو رہے تھے ۔انہوں نے مجھے فروٹ جوس لانے کو کہا اور پھر بولے ،مسٹر محمدعلی کو بھجوا دیجئے… کابینہ کے سیکرٹری جنرل تقریباً پندرہ منٹ قائد اعظم کے ساتھ رہے۔

جب قائد ایک بار پھر تنہا ہوئے تو میں ان کے کمرے میں چلی گئی اور ان سے پوچھا کہ وہ جوس پینا پسند کریں گے یا کافی۔ مگر ان کا ذہن میری بات کا جواب دینے کی بجائے شاید کسی اور ہی بات میں الجھا ہوا تھا۔ رات کے کھانے کا وقت ہو رہا تھا انہوں نے کہا ’’بہتر ہو گا … آپ نیچے جائیں … اور ان لوگوں کے ساتھ کھانا کھائیں۔‘‘

’’نہیں‘‘ … یہ درست نہیں … وہ یہاں ہمارے مہمان ہیں …جایئے … جا کر ان کے ساتھ کھانا کھایئے‘‘۔

14اگست قریب آ رہا تھا ۔ جب ہماری قوم کو آزادی کی پہلی سالگرہ منانا تھی۔ ڈاکٹر کے مشورے کے برعکس قائد اعظم اس موقع پر قوم کے نام پیغام کے بارے میں سوچ رہے تھے وہ خرابی صحت کے باوجود اس پیغام کی تیاری کیلئے کام کر رہے تھے۔ یوم آزادی پر جاری کئے جانے والے پیغام میں کہا گیا :

’’یاد رکھئے،پاکستان کا قیام ایک حقیقت ہے جس کی دنیا کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی … مجھے اپنی قوم پر پورا اعتماد ہے …اس نوزائیدہ مملکت کا پیدائش کے وقت گلا گھونٹ دینے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد ہمارے دشمنوں کو اب بھی امید ہے کہ وہ اقتصادی ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنا وہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان کے دل میں جو تعصب اور بدنیتی ہے، و ہ جس قدر دلائل مہیا کرسکتے ہیں اور ان کے ذریعے جتنی بھی حیلہ سازی کی جا سکتی ہیں، ان تمام کو برئوے کار لاتے ہوئے انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان دیوالیہ ہوکر رہ جائے گا ۔دشمن کی گولی اور تلوار جو مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ وہ مملکت کی تباہ شدہ مالی اور اقتصادی حالت کے باعث پورا ہوسکتا ہے مگر برائی کے ان پنڈتوں کے سب دعوے باطل ثابت ہو چکے ہیں …ہمارا اولین بجٹ ہی ایک فاضل بجٹ تھا۔تجارت کا توازن بھی ہمارے حق میں رہا ہے اور اقتصادی شعبے میں بحیثیت مجموعی ترقی ہورہی ہے ‘‘

چند روز بعد ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ قائد کا بلڈ پریشر بہت کم ہو گیا ہے ان کےپائوں پر ورم آ گیا ہے اور ان کے پیشاب کی مقدار بڑی حد تک کم ہو گئی ہے۔ تاہم طویل صلاح مشورہ کے بعد ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ قائد عظم دل اور گردوں کی کمزوری میں مبتلا ہیں۔ان کی صحت کے باعث زیارت میں ان کا قیام مناسب نہیں ہے۔ قائد اعظم نے اس مشورے سے اتفاق کیا مگر انہوں نے اصرار کیا 14اگست کے بعد ہی کوئٹہ منتقل کیا جائے کیونکہ اس روز ہماری آزادی کی پہلی سالگرہ منائی جا رہی ہے ۔ڈاکٹر اس وقت تک انتظار کرنے کیلئے تیار نہ تھے اور اس طرح بالاخر ہم لوگ 13اگست کو زیارت سے کوئٹہ روانگی کیلئے تیار ہو گئے۔

قائد اعظم نے اصرار کیا کہ وہ پاجامہ سوٹ میں سفر نہیں کریں گے کیونکہ ان کے بقول انہوں نے اپنی پوری زندگی کے دوران کبھی ایسا نہیں کیا تھا،میں خوش تھی کہ وہ مسلسل زندگی سے دلچسپی کی علامت کا اظہار کررہے تھے۔ چنانچہ میں ان کے لئے ایک بالکل نیا سوٹ نکال کرلائی جو انہوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں پہنا تھا۔ اس کے ساتھ میچ کرتی ہوئی ٹائی بھی نکال لی اور رومال سوٹ کی آرائشی جیب میں سجا دیا۔ چمکدار پمپ شوز انہیں پہنائے، انہیں ایک اسٹریچر پر لٹا کر ریذیڈنسی کی دوسری منزل سے نیچے لایاگیا اور تکیہ لگاکر نیم دراز پوزیشن میں ایک بڑی کار کی پچھلی نشست پر بٹھا دیاگیا۔ اس کار میں ہم نے زیارت سے کوئٹہ کا سفر کیا ۔میں ان کے بالکل برابر بیٹھ گئی اور مسٹرڈنہام کو اضافی کرسی پر بٹھا دیا گیا۔

جھٹکوں اوہچکولوں سے بچنے کے لئے کار سست رفتاری سے سفر کرتی رہی۔ راستے میں ہم دوبار رکے ،میں نے انہیں چائے اور بسکٹ دئیے۔ ہمیں کوئٹہ پہنچنے میں چار گھنٹے لگے اور مجھے ہر لمحے یہی خدشہ لگارہا کہ وہ اس سفر کی صعوبت کو برداشت بھی کر پائیں گے یا نہیں۔ کوئٹہ ریذیڈنسی پہنچتے ہی ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ قائداعظم کا سفر بخیریت طے ہوا ہے۔ قائد نے چند گھنٹوں کے بعد ڈاکٹروں سے کہا ’’میں یہاں زیادہ بہتر محسوس کررہا ہوں…زیارت میں…مجھے سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی تھی‘‘۔

ان کی صحت اب بہتر ہونے لگی تھی ، ڈاکٹر الہی بخش نے مشورہ دیا کہ وہ روازنہ تقریباً ایک گھنٹہ فائلوں وغیرہ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ہر وقت اپنی صحت کے متعلق سوچتے رہنے کی بجائے زیادہ بہتر ہوگا کہ قائداعظم کے مستعدد ذہن کوکام کی جانب مبذول کردیا جائے۔قائد بہت خوش تھے اور انہوں نے اس آزادی کا بڑے مزے سے لطف اٹھایا۔ چند روز کے بعد ڈاکٹروں نے ان سے کہا کہ وہ بستر سے نکل کر ان کی مدد سے اپنے کمرے کے اندر چند قدم چلنا شروع کردیں تاکہ اس عمل سے ان کےخون کی گردش میں آسانی پیدا ہوسکے۔انہوں نے ڈاکٹروں کا یہ مشورہ مسکرا کر قبول کرلیا ۔ وہ ایک بار پھر خوش تھے کہ کئی ہفتوں کے بعد وہ بیماری سے اٹھ کھڑے ہونے کے قابل ہوچکے تھے۔یہ بات خاصی حوصلہ افزا تھی کہ ان میں ابھی تک جدوجہد جاری رکھنے کے آثار دکھائی دےرہے تھے۔ جب انہوں نے ڈاکٹروں کو مندرجہ ذیل کہانی سنائی تو اس سے ان کی صحت کے بارے میں پیدا ہونے والی امید کی توثیق ہونے لگی۔

’’ڈاکٹر، میں آپ کو ایک کہانی سناوں گا۔ ایک عورت نے اپنے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ چل نہیں سکتی کیونکہ وہ کئی ماہ تک بیمار رہی ہے اور بستر سے نہیں نکلی ۔ڈاکٹر نے کہا وہ صحت یاب ہوچکی ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ بستر سے نکل آئے اور چلنا شروع کردے۔ ڈاکٹر کے تمام دلائل کے باوجود عورت نے انکار کردیا۔ تب ایک دوسرا ڈاکٹر آیا۔ اس نے عورت کا معائنہ کیا اور اس نے بھی وہی مشورہ دیا۔ 

یہاں پہنچ کر قائداعظم بے دم ہوکر سانس لینے کے لئے رکے۔ اس کے بعد ایک اور ڈاکٹر آیا اس نے عورت کو بتائے بغیر ایک جلتا ہوا اسٹواس کے بستر کے نیچے رکھدیا۔ عورت نے محسوس کیا کہ اس کا بستر جلد شعلوں کی لپیٹ میں آجائے گا… اس پر وہ عورت جلدی سے بستر سے باہر نکل آئی۔ چیختی ہوئی… ہم سب یہ کہانی سن کر ہنس دئیے۔’’ ڈاکٹر کیا آپ بھی میرے ساتھ ایسا ہی کرناچاہتے ہیں‘‘۔

پھر کچھ دیر توقف کے بعد انہوں نے کہا : ڈاکٹر! میں سگریٹ پینا چاہتا ہوں‘‘۔

ڈاکٹر الہی بخش نے پریقین لہجے میں کہا ’’ یس سر‘‘ صرف ایک سگریٹ روزانہ سے شروع کیجئے مگر اس کا دھواں نہیں نگلئے گا‘‘۔

میں ان کے پسندیدہ برانڈ کے سگریٹ کریون اے کا کاٹن نکال لائی۔ وہ سدا سے بلاکے سگریٹ نوش رہے تھے اور دن بھر میں تقریباً پچاس سگریٹ پی جاتی تھے۔

شام کو ڈاکٹر آیا۔ اس نے ایش ٹرے میں سگریٹ کے پانچ جلے ہوئے ٹکڑے پڑے دیکھے تو دریافت کرتے ہوئے اپنے مریض کی جانب دیکھا، قائد اعظم نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ’’ ہاں ڈاکٹر، میں نے پانچ سگریٹ پی لئے ہیں…مگر میں نے ان کا دھواں نہیں نگلا‘‘۔ اس کے بعد وہ کھلکھلا کر ہنسے، ایک بچے کی طرح خوش۔

اس برس عید الفطر27اگست کو آرہی تھی اور وہ عید کی مناسبت سے قوم کے نام اپنا پیغام تیار کرنے میں مصروف تھے۔ یہ ان کی سینکڑوں تقاریر کا اختتام ثابت ہوئی جوانہوں نے اپنے طویل سیاسی کیرئیر کے دوران تیار کی تھیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا: ’’ صرف مشترکہ کوشش اور مقدر پر یقین کے ساتھ ہی ہم خوابوں کے پاکستان کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں…’’گذشتہ عید الفطر جو قیام پاکستان کے فوراً بعد آئی تھی، مشرقی پنجاب کے المناک واقعات کے باعث ہمارے لئے اپنے ساتھ لانے والی خوشیاں کھوچکی تھی۔

گذشتہ سال کے خونی واقعات اور ان کے نتائج…لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے، ان واقعات نے عدیم المثال قسم کی مصیبت کھڑی کردی ۔بے گھر انسانیت کو نئے سرے سے آباد کرنے میں ہماری تمام تر توانائیاں صرف ہوگئی تھیں اور ہمارے وسائل اختتام کی آخری حدوں کو چھونے لگے تھے۔ اس کام کی شدت اور وسعت نے ہم سب کو بری طرح متاثر کیاتھا۔ اور مشکلات کے اس سیلاب میں صرف ہمارے سر ہی پانی سے باہر رہ گئے تھے۔ 

بارہ ماہ کا مختصر عرصہ تمام مہاجرین کو جو پاکستان میں آچکے تھے منافع بخش روزگار مہیا کرنے کے لئے کافی نہیں تھا۔ ان کی دوبارہ بحالی کے لئے خاطر خواہ کام کیا جاچکا ہے مگر ان کی کافی تعداد کو بحال کرنے کاکام ابھی باقی ہے۔ ہم اس وقت تک خوشی نہیں مناسکتے ۔جب تک ان میں سے ہر ایک دوبارہ اپنے پاوں پر کھڑا نہیں ہوجاتا ۔مجھے پختہ یقین ہے کہ اگلی عید تک یہ مشکل اور پیچیدہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا اورتمام مہاجرین کو پاکستانی معیشت میں مفید شہریوں کی حیثیت سے جذب کرلیا جائے گا‘‘۔

اپنا پیغام جاری رکھتے ہوئے انہوں نے لکھا:

’’ برادرمسلمان ممالک کے لئے میرا پیغام عید دوستی اور خیر سگالی پر مبنی ہے۔ ہم سب ایک خطرناک دور سے گزر رہے ہیں۔ طاقت کی سیاست کا ڈرامہ جو فلسطین، انڈونیشیا اور کشمیر میں کھیلا جارہا ہے ا سے ہماری آنکھیں کھل جانی چاہیں۔صرف ایک متحد محاذ کے قیام کے ذریعے ہی ہماری آواز دنیا کے ایوانوں میں سنی جا سکتی ہے۔ چنانچہ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ اسے خواہ کوئی زبان دیں مگر میرے مشورے کی روح یہ ہے ’’ہر مسلمان کو دیانتداری، خلوص اور بے غرضی سے پاکستان کی خدمت کرنی چاہیے‘‘۔

یہ ان کے آخری ریکارڈ شدہ الفاظ ثابت ہوئے۔ اگست کے آخری دنوں میں قائداعظم اچانک ہرچیز سے بے نیاز نظر آنے لگے اور ایک روز انہوں نے انہماک سے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا: ’’ فاطمی، مجھے اب مزید…زندہ رہنے سے…کوئی دلچسپی نہیں… میں جتنی جلدی چلاجاوں…اتنا ہی بہتر ہوگا‘‘۔

یہ بدشگونی کے الفاظ تھے۔ میں لرز اٹھی، جیسے میں نے بجلی کے ننگے تار کو چھولیا ہو مگر میں نے خود کو پرسکون رکھتے ہوئے کہا،’’ آپ جلد ہی اچھے ہو جائیں گے،ڈاکٹر پرامید ہیں‘‘۔

وہ مسکرائے۔ ایک بے جان سی مسکراہٹ’’ نہیں میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ مجھے کراچی لے چلئے۔

میں وہیں پیدا ہوا تھا۔ میں وہیں دفن ہوناچاہتا ہوں‘‘۔ ان کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ میں ان کے بستر کے پاس کھڑی رہی۔ ان کی بے ہوشی میں میں ان کے خیالات کی بڑ بڑاہٹ سن سکتی تھی۔ وہ نیند میں سرگوشی کررہے تھے ۔’’ کشمیر…انہیں…فیصلہ کرنے کا …حق دیجئے… آئین… میں اسے جلد ہی…مکمل کروں گا… مہاجرین… انہیں ہر ممکن…امداد دیجئے۔