آج چوں چوں کا مربہ ہی چلے گا کیونکہ ایک سے زیادہ موضوعات للچا رہے ہیں جن میں برکت علی چودھری مرحوم تاصدیقہ بیگم مرحومہ کا 1935ء سے مسلسل شائع ہونے والا ادبی جریدہ ماہنامہ ’’ادب لطیف‘‘ سرفہرست ہے جسے میں اپنا ادبی شجرہ نسب کہوں تو بے جا نہ ہو گا ۔کچھ عرصہ سے اپنے حسین مجروح اس تاریخی ادبی جریدہ کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ سالوں پہلے فکشن، شاعری وغیرہ میرا اوڑھنا بچھونا تھا لیکن پھر میں اور میرے موضوعات تیزی سے تبدیل ہوتے چلے گئے اور میں ’’ادب‘‘ سے کٹتا اور دور ہٹتا چلا گیا۔سنجیدہ تاریخ ، مختلف مذاہب کا مطالعہ، فلسفہ وغیرہ پر فوکس رہا کہ حسین نے حسن کو ’’ادب لطیف‘‘ بھیجنا شروع کر دیا تو پہلی محبت عود کر آئی کہ چور، چوری سے جا سکتا ہے ہیرا پھیری سے باز نہیں آسکتا۔ اسی ’’ادب لطیف‘‘ کے ایک شمارہ میں طاہرہ اقبال کا افسانہ ہے جس کا عنوان افسانے کی طرح ہی منفرد ہے ،’’ملکانی صاحب جی ‘‘ اس کی چند سطریں ’’میرا جسم میری مرضی ‘‘ مائینڈ سیٹ کیلئے پیش کر رہا ہوں۔طاہرہ لکھتی ہیں اور کیا خوب لکھتی ہیں۔’’عورت میں اپنی ذات کی قربانی کا جذبہ ہوتا ہے لیکن مرد میں اپنے تعلقات کی قربانی کا جذبہ زیادہ ہوا کرتا ہے کہ مالک ہوتے ہوئے بھی محکوم بن جاتا ہے۔اپنے تمام تر اقتدار، سرمائے، جائیداد، طاقت بیوی کے سپرد کر دیتا اور خود اس کا دست نگر ہو جاتا ہے ۔صبح سے شام تک کمانا لیکن اپنی جیب خالی رکھنا اور اسی سے مانگ کر خرچہ لینا۔ جس کے سپرد سب کیا تھا، اپنی ہی کمائی کا پورا حساب بھی اسے دیتا ہے اور شاید ہی کوئی شریف مرد ایسا ہو جو یہ کہے کہ ’’میری کمائی میری مرضی ‘‘ کمائی شوہر کی ہوتی ہے مرضی بیوی کی ۔عورت شاید اپنی کمائی ، اپنی جائیداد اور اقتدار میں مرد کو یوں حصہ دار بنانے کا حوصلہ نہیں رکھتی ۔اگر یہ حوصلہ کر بھی لے گی تو طعنہ زنی ضرور کرتی رہےگی لیکن مرد دونوں ہاتھ جھاڑ کر یوں الگ تھلگ ہو جاتا ہے جیسے کسی بینک میں زندگی بھر کی جمع پونجی ڈیپازٹ کروا آیا ہو اور مطمئن ہو کہ سب محفوظ ہے ۔پھر نہ کبھی جتاتا ہے نہ احسان جتاتا ہے کیونکہ وہ تو پڑھتا لکھتا، کیریئر بناتا اور کمائی کے وسائل ڈھونڈتا ہی فیملی کیلئے ہے۔ مستقبل کا خاکہ بناتا ہی کسی لڑکی کے چوکھٹے میں ہے ۔جانی یا انجانی لڑکی‘‘۔قارئین ! یقین کیجئے جب تک طاہرہ اقبال مائینڈ سیٹ موجود ہے، مغربی دمچیوں المعروف ’’میرا جسم میری مرضی ‘‘ کا مستقبل مخدوش ہی رہے گا۔ دوسرا موضوع بزدار حکومت، محکمہ بلدیات اور اس کے سربراہ نور الامین مینگل کا شکریہ ہے۔ میں نے کسی کالم یا ٹی وی پروگرام میں سول رجسٹریشن فیسوں میں زیادتی کا ذکر کیا تھا جو عام آدمی کیلئے بڑا بوجھ تھا کہ زندگی، موت، شادی، طلاق تو بیروزگاروں میں بھی چلتی ہے ۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق ان سب میں ترمیم کر دی گئی ہے مثلاً کمپیوٹرائزڈ ،پیدائش، موت، نکاح، طلاق کی پرانی فیس 300سے کم کرکے200کر دی گئی ہے۔ پیدائش کے لیٹ اندراج کی فیس 2000سے کم کرکے 200، 7سال بعد 5000سے کم کرکے 2000،موت کے لیٹ اندراج کی فیس 5000سے کم کرکے 1000،درستی یا تبدیلی کیلئے 1000سے کم کرکے 500کر دی گئی ہے ۔ آسودہ حال لوگوں کیلئے یہ سب کسی ’’مذاق‘‘ سے کم نہ ہوگا لیکن ان کروڑوں کا سوچئے جو خطِ غربت پر نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں۔چند روز پہلے بھی اسی کالم میں لکھا تھا کہ خطِ غربت کے مکینوں کا مطلب ہے وہ لوگ جن کیلئے قبر، کفن اور قاری صاحب کی فیس بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتی ہے ۔اور اب آخر پہ یہ اخباری سرخی پڑھ کر اپنا مسئلہ بھی یاد آ گیا ’’بجلی بل 31کی بجائے 37روز تک کی بنیاد پر بھیجے جانے کا انکشاف ‘‘ خود میرے ساتھ جو لطیفہ ہوا ،لاجواب ہے ۔ہمارا شہر والا گھر دو حصوں میں تقسیم ایک 7بیڈ روم گھر ہے ۔افراد خانہ کی تعداد 5 ، میں بیسمنٹ میں ہوتا ہوں جہاں ایک وقت میں ایک ایئر کنڈیشنر ہی چلتا ہے مثلاً اگر بیڈروم میں ہوں تو وہاں ، لائبریری میں ہوں تو صرف وہاں، اسی طرح مہمانوں کی آمد پر اگر ڈرائنگ روم میں ہوں تو صرف وہاں ، بیسمنٹ اور بالائی منزلوں کے میٹرز بھی علیحدہ ہیں اور کمال دیکھیں ایک لاکھ سے کہیں اوپر کے بلز میں بیسمنٹ کا بل فیملی والے پورشن سے بھی زیادہ ہے حالانکہ جیسا عرض کیا کہ بیسمنٹ میں ایک سے زیادہ اے سی چلانے کی نوبت ہی نہیں آتی لیکن پورے ماحول پر بدمعاشی اور بلیک میلنگ طاری ہے۔ بہرحال سمجھ ضرور آ گئی ہے، معمہ ضرور حل ہو گیا کہ وارداتیے یعنی بھیجنے والے 31کی بجائے 37روز تک کی بنیاد پر بل بناتے اور بھیجتے ہیں کیونکہ اس معاشرہ میں ’’ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ‘‘ جو کیمیکلز والا دودھ اور کتوں، گدھوں، چوہوں، چمگادڑوں اور مردہ جانوروں مع ’’ٹھنڈی مرغیوں‘‘ کا گوشت بیچ سکتے ہیں ...کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)