• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر جلد بازی میں ووٹنگ تباہ کن ہوگی، سینیٹ کمیٹی کو الیکشن کمیشن کا خط

اسلام آباد ( نوشین یوسف ) الیکشن کمیشن نے سینٹ کی پارلیمانی امور کمیٹی کوخط لکھ کر مجوزہ انتخابی ترامیم پر اپنے 34نکات پر مشتمل تحفظات سے آگاہ کیا ہے ، ان تحفظات کے مطابق الیکٹر انک ووٹنگ مشین منصوبے پر عملدرآمد بہت پیچیدہ ہے،آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال قابل عمل تجویز نہیں ،جلد بازی کے کسی بھی فیصلے سے عوام کا انتخابی عمل سے اعتماد اٹھ جائےگا، ای وی ایم پر جلد بازی میں ووٹنگ ملک کیلئے تباہ کن ہو گی ، مشین کے پائلٹ پراجیکٹ کو جلد شروع کرنا چاہیے، دنیا کی بہترین جمہوریتیں بھی انتخابات کیلئے ا لیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال نہیں کرتیں ، ای وی کا نظام بہت مہنگا پڑے گا ،اس نظام پر الیکشن کے لیے 150 ارب روپے اخراجات آئیں گے،ای وی ایم مشینز پر ایک ہی دن میں پولنگ کرانا نا ممکن ہے،الیکشن تنازعات کی صورت میں شواہد کی کمی کا سامنا ہو گا ،گرد ، نمی سے پاک اور کنٹرولڈ درجہ حرارت کے وئیر ہاوسز کی کمی ہے،ای وی ایم کو پہلے مقامی حکومتوں کے انتخابات ، پھر ضمنی الیکشن اور عام انتخابات میں چندانتخابی حلقوں میں استعمال کیا جائے ، ای وی ایم سے ووٹ کی سیکرسی پامال ہو سکتی ہے، جبرا ووٹ کے اندراج اور ووٹ کی خریداری کا امکان ہے ،مشین تمام اقسام کے فراڈ نہیں روک سکے گی ،سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر میں مختلف انداز کی ہیرا پھیری کے ذریعے فراڈ کا امکان ہے،مشین پولنگ بوتھ پر قبضے، خواتین کے ووٹ کی کم شرح ، ریاستی اختیارات کے ناجائز استعمال ، الیکٹرانک انداز سے بیلٹ بھرنا جیسےفراڈ نہیں روک سکتی ،خریداری ، امن و امان کی صورت حال ، بے ایمان پولنگ اسٹاف ، انتخابی تشدد کو نہیں روک سکتی،ووٹر کی شناخت کے لیے بائیو میٹرک تصدیق یا چہرے کی شناخت جیسی ٹیکنالوجی نہیں، نو لاکھ ای وی ایم کو رکھنا بہت مشکل کام ہو گا ۔

تازہ ترین