• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بحیثیت ادارہ الیکشن کمیشن پر اعتراض کرنا غیر معقول بات ہے، تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کی خصوصی ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن پر اعتراض کرنابحیثیت ایک ادارے کے بالکل غیر معقول بات ہے۔

اعظم سواتی کو اپنی بات پر معذرت کرنی چاہئے ادارے کے خلاف اس طرح کے سخت الفاظ ادا نہیں کرنے چاہئے تھے۔خصوصی ٹرانسمیشن میں مصطفٰی نواز کھوکھر،اعظم نذیر تارڑ،احمد بلال اور سلیم صافی نے اظہار خیال کیا۔

سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھرنے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے وطیرہ بنا لیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں ہر کسی کو چور ڈاکو کہنااور جو شخص بھی حکومت کی لائن ٹوہ نہ کرے چاہے وہ کوئی آئینی ادارہ کیوں نہ ہو اس پر اس قسم کے الزامات عائد کردیئے جاتے ہیں۔

آج کا جو الزام ہے الیکشن کمیشن کی کارکردگی کے اوپر ا ن کے جائزنکات تھے 37 کے قریب ان کے اعتراضات تھے یہ نہ صرف الیکشن کمیشن کے اعتراضات تھے بلکہ اس کے علاوہ جو آزاد آرگنائزیشنز ہیں جیسے فافن ، پلڈاٹ ہیں انہوں نے بھی اعتراضات اٹھائے ۔ 

حکومت کی جانب سے EVM مسلط کرنے کی جو کوشش کی جارہی ہے اس کے اوپر انہوں بھی طویل اعتراضات اٹھائے اور حکومت سے اتفاق نہیں کیا۔تو اپوزیشن جماعتیں ، آزاد این جی اوز، آرگنائزیشنز سب ایک طرف اور حکومت ایک جانب ہے ۔

اب حکومت نے اپنی ضد کو آگے بڑھاتے ہوئے جو الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے تو ہم یہ پوچھنا چاہئیں گے کہ آخر کار الزام کس کے اوپر ہے۔کیا پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن یا دیگر جماعتو ں نے الیکشن کمیشن کو پیسے دیئے ۔ڈسکہ الیکشن پر ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے جو نئے الیکشن کمشنر ہے وہ الیکشن کمیشن کی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش میں ہیں ۔ انہوں نے اس وقت بھی حکومت کی نہیں مانی ایک واضح دھاندلی کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔

تو ان کے جو جائز اعتراضات تھے حکومت نے ان کے اوپر الزام لگا دیا کہ پیسے پکڑے۔اگر آنے والے انتخابات آنے سے قبل ہی متنازع ہوجاتے ہیں تو پھر حکومت ملک کو سنگین بحران کی طرف دھکیلنا چاہ رہی ہے۔ہم ٹیکنالوجی کے استعمال کے حق میں ہیں لیکن اگر حکومت اپنی ضد پر قائم رہے کہ نہیں آپ نے اگلے عام انتخابات میں ہی یہ مشین استعمال کرنی ہے۔ 

نہ صرف مشین استعمال کرنی ہے بلکہ ہماری بنائی ہوئی مشین استعمال کرنی ہے تو پھراس کے اوپر اعتراضات ہوں گے۔ الیکشن کمیشن اور دیگر تکنیکی ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ انڈیا میں 30 سال لگے انہیں EVM کے پائلٹ ٹیسٹنگ کرتے ہوئے ہم نے تو ابھی صرف دو پائلٹ پروجیکٹس کئے ہیں۔

اگر آپ ہم پر یہ حکم نامہ صادر کردیتے ہیں کہ ہم نے اگلے الیکشن میں اس کو استعمال کرنا ہے تو پھر خدانخواستہ الیکشن کے دن دس لاکھ مشینیں ہیں ان کو اگر آپ بغیر پائلٹ پروجیکٹ منعقد کئے استعمال میں لے آئیں گے ۔

عملے کو ٹرینڈ کرنا ہے پانچ یا دس فیصد مشینیں خراب ہوجاتی ہیں تو پھرتو اس کے نتیجے میں جو بحران کھڑا ہوگا اس کا ذمہ دارکون ہوگا۔ہم حکومت سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بھی ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں ہیں مگر جس طریقے سے آپ ان EVM کو لانے کی کوشش کررہے ہیں اس سے ہمارے شکوک و شبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑنے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے خود یہ صورتحال پیدا کی ہے چونکہ پچھلے تین ماہ سے الیکشن کمیشن کا یہ موقف ہے کہ الیکشن کمیشن نے ہماری 16 میٹنگ میں یہ ہی موقف اختیار کیا ہے ۔

الیکشن کمیشن کے موقف کی فافن، پلڈاٹ اور حکومت نے جوکنسلٹنٹ تقرر کئے ہیں سب نے کہا ہے کہ EVM سے الیکشن ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ فول پروف نہیں ہے اور ایک دم اتنا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا۔

صرف یہیں پر نہیں پارلیمنٹ نے رپورٹ جاری کردی ہے الیکشن کمیشن نے جو ضمنی انتخابات پائلٹ پروجیکٹ کئے سپریم کورٹ کے حکم کے تابع اس میں بھی انہوں نے خدشات کا اظہار کیا۔

تازہ ترین