حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) حکومت سندھ کے عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوگئے، سندھ میں 7 ماہ کے دوران 442 خودکشی کے واقعات رپورٹ ہونے کا انکشاف۔
تھر پارکر میں سب سے زیادہ خودکشی کے واقعات رونما ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، غربت،بھوک،بدحالی،بے روزگاری اور دیگر مسائل خودکشی کے اسباب میں شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سماجی تنظیم کی جانب سے خود کشی کے واقعات کی روک تھام سے متعلق عالمی دن پر حیدرآباد پریس کلب میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر ویرجی کولہی نے کی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دنیا میں ہر سال 10 ستمبر کو خود کشی کے واقعات کو روکنے کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے،جس کا مقصد خود کشی کے واقعات کو روکنے سے متعلق عوام کو آگہی دینا ہے،مقررین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں خود کشی کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق ہمارے خطے میں خود کشی کے سب سے زیادہ واقعات زہر کھانے کی وجہ سے پیش آرہے ہیں جبکہ خودکشی کرنے والوں میں اکثر یت 15 سے 19 سال کی عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں جنوری سے جولائی 2021 تک 7 ماہ میں مجموعی طور پر 442 خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور مذکورہ اعداد و شمار حیران کن ہیں۔
رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق سندھ میں 7 ماہ کے اندر زہر کھانے سے 97،کالا پتھر کے استعمال کی وجہ سے 54،گھریلو مسائل کے باعث 71،غربت سے تنگ آکر 36،خاندانی تشدد کے باعث 23 افراد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ خودکشی کے بڑے اسباب غربت،بھوک، بدحالی،بے روزگاری اور دیگر مسائل ہیں۔