• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خیال تازہ…شہزاد علی
ان کالموں میں برطانوی پاکستانی، کشمیری بچوں کی تعلیمی اعتبار سے پسماندگی اور اس کے عوامل کو وقتاً فوقتاً زیر بحث لایا جاتا رہا ہے، ہمارے خیال میں برطانوی کثیر الثقافتی، کثیر المذاہب معاشرے میں مسجد، مدرسہ، چرچ، گوردوارہ، مندر اور دیگر مذاہب کے مراکز اور ان کے مبلغین کے کردار کو جاننا بھی تعلیمی نقطہ نظر سے ازحد ضروی ہے، بچوں کی تعلیم اور تربیت پر مذہبی تعلیم اور مذہبی اداروں کا بہت اثر ہوتا ہے جب کہ برطانیہ میں مسلمان بچوں کی قابل ذکر تعداد موجود ہے ہمارا فوکس چونکہ پاکستانی، کشمیری بچے ہیں جن کے تعلیمی معیار اور رویوں اور عمومی کردار سے متعلق گوناگوں چیلنجز آج کمیونٹی کو درپیش ہیں، ان بچوں کو درپیش مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جہاں اسکول اپنی اپنی جگہ کردار ادا کر رہے ہیں، قابل ذکر والدین اپنی ذمہ داریاں پورا کرنے کے لئے کوشاں ہیں مگر اب بھی ایک بڑی تعداد ان حوالوں سے فعال نہیں، ہمارے خیال میں اسکولوں کے ساتھ ساتھ والدین کو اپنے بچوں کے تعلیمی امور پر زیادہ سے زیادہ متحرک کرنے کے لئے مساجد اور مدارس میں دینی علوم سے بہرہ ور جید علماء کرام، حفاظ کرام اور قراء سے رہنمائی حاصل کرنا بھی اشد ضروری ہے، یعنی اسکول، گھر اور مدرسہ تینوں کے اشتراک عمل سے زیادہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے امکانات ہیں اور پھر تینوں کے درمیان روابط بڑھانے سے ایک دوسرے کے تجربات شیئر کیے جاسکتے ہیں اور اسی طرح بچوں کی اصلاح بھی ممکن ہو سکتی ہے تاہم بچوں کی دینی تعلیم و تربیت اور اصلاح کے لئے جہاں دینی اداروں کے ساتھ ان کے تعلق کو مزید مربوط بنانے کی ضرورت ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ برطانیہ کے اندر پاکستانی کشمیری کمیونٹی سے متعلق اکثر دینی اداروں میں خطیب، قاری حضرات اور اساتذہ کی ڈے ٹو ڈے ٹریننگ پر بھی مساجد اور مدارس کے منتظمین وسائل صرف کریں اور پھر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ علماء کرام کو ان کی جائز مراعات بھی دیں اور ان کے عزت اور وقار اور مقام کا بھی احساس کریں اور یہ تب ہی ممکن ہو گا جب انتظامی کمیٹیوں میں بھی حقیقی معنوں میں جذبہ خدمت اور تعلیم سے بہرہ ور افراد کی نمائندگی ہوگی، اس لیے جہاں مساجد مدارس ان سے متعلق کمیٹیوں، علما کرام، خطیب حضرات کے کردار کو ان کے دینی کاموں سے لگن کو سراہنے کی ضرورت ہے وہاں ان اداروں میں برطانوی ماحول کے مطابق بہتر سے بہتر تبدیلیوں کی بھی ضرورت محسوس کی جارہی ہے جب کہ مساجد اور مدارس کے برطانیہ کے اندر پاکستانی کشمیری بچوں کی تعلیم کے کردار کے تناظر میںاس کالم میں ہمارے ٹاؤن لوٹن سے ہی تعلق رکھنے والے اکیڈمک جمیل احمد کی ایک تحقیق کے چند نقاط شیئر کرنا چاہیں گے، اس تحقیق کے بعض حوالے پہلے بھی قارئین کے سامنے پیش کیے تھے، انہوں نے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ امام کا انٹرویو کیا جن کا کہنا تھا کہ طلباء کو اساتذہ کا احترام کرنا چاہئے کیونکہ استادِ کا احترام ہمارے مذہب کا حصہ ہے غلط رویوں کی ایک وجہ انہوں نے بے مہار آزادی کو قرار دیا پھر نوجوانوں کو کنٹرول کرنے کے لیے جو قوانین ہیں ان کو موثر بنایا جائے امام صاحب کا کہنا تھا کہ مساجد کا نہایت اہم رول ہے اگر وہ اسے پرفارم کریں تو بچوں کو پروان چڑھانے کے لیے وہ بہت بہتر رول ادا کر سکتی ہیں، گائیڈ کر سکتی ہیں ان کی یہ بھی تلقین تھی کہ مساجد کو یہ بتانا چاہیے کہ ہمارے رسول اکرمﷺ نے دوسرے مذاہب کے احترام کی تعلیم دی اور بعض مساجد یہ رول ادا کر رہی ہیں اسلام ہمیں امن اور ہارمنی سے ایک دوسرے کے ساتھ باہم مل کر رہنے کی تعلیم دیتا ہے، والدین کے رول کو مزید مضبوط کرنے پر بھی زور دیا گیا کہ وہ بچوں کی تعلیم کے امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ان کے ہوم ورک میں بھی مدد کریں والدین کو بچوں کی تعلیم میں رول ادا کربا چاہیے، اسکولوں کو رویوں کو بہتر بنانے کی پالیسیوں کو مزید امپروو کربا چاہیے بعض والدین بچوں کے متعلق شاندار توقعات ہی نہیں رکھتے، وہ ان سے ان کے کاروبار سنبھالنے کی توقعات رکھتے ہیں اور کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم دلانے کو ضروری خیال نہیں کرتے حالانکہ بہتر تعلیم سے وہ بزنسیز کو بھی بہتر فروغ دے سکتے ہیں اور تعلیم ان کے بچوں کی پرسنالٹی، کریکٹر بلڈنگ اور شخصیت سازی میں اہم رول ادا کرتی ہے برطانیہ کی پاکستانی کشمیری کمیونٹی مساجد اور مدارس میں انتظامی لیڈر شپ کی موجودہ صورتحال پر انہوں نے بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا تاہم کہا کہ بتدریج اس میں نوجوان پڑھے لکھے لوگوں کی شمولیت سے بہتری آجائے گی، یقینی طور پر ایک امام مسجد کے اس طرح کے پیغام سے کمیونٹی کو مثبت پیغام جاسکتا ہے۔
یورپ سے سے مزید