• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر محمد علی

کسی قوم کی زبان اس کی تہذیب ثقافت اور اُس کی پہچان ہوتی ہے۔ اقوام عالم میں قومی زبان ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہا ہے۔ اکثر اقوام اپنی قومی زبان پر فخر کرتی ہیں اور یہ پختہ یقین رکھتی ہیں کہ قومی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ترقی کا ایک اہم ذریعہ قومی زبان میں تعلیم ہے۔

پاکستان کے عوام بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کی سالمیت اور اتحاد کی ایک اہم علامت قومی زبان ہے۔ پاکستان کی قومی زبان اردو اس لیے ہے کہ تحریک پاکستان میں اسلام کے بعد مسلمانان برصغیر کے اتحاد کا سب سے بڑا ذریعہ اردو تھی، یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم نے قیام پاکستان کے فورا بعد واضح کردیا تھا کہ، پاکستان کی قومی زبان صرف ایک اور وہ اردو ہوگی۔ لیکن برسوں گزر گئے اردو کو اس کا حق نہیں دیا گیا یعنی سرکاری دفتری، عدالتی اور تعلیمی زبان کے طور پر اردو کو نافذ نہیں کیا گیا۔

دنیا کے اکثر ممالک اپنی قوم کو تعلیم اپنی قومی زبان میں دیتے ہیں، خاص طور سے ابتدائی تعلیم۔ جاپان نے شکست کے بعد اپنی زبان اور تعلیمی نظام کو برقرار رکھا اور چالیس سال کے اندر عالمی قوت بن گیا۔

چین نے اپنی قومی زبان میں تعلیم حاصل کرکے خود کو عالمی طاقت کے طور پر منوالیا۔ پاکستان میں بھی بارہا یہ کوشش کی گئی کہ قومی تشخص کی بقاء اور تحفظ کے لیے قومی زبان اردو ایک اہم ذریعہ بنے۔ پاکستان کے تمام علاقے اور ان کی زبانیں قابل احترام ہیں۔ پاکستان میں ہر فرد کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی ثقافت اور زبان کا تحفظ اور اس پر فخر بھی کرے۔ لیکن ان تمام مختلف اللسان اکائیوں کو جوڑنے والی واحد زبان اردو ہےاور سب کو یہ بات باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اردو ان تمام زبانوں کی حریف نہیں حلیف ہے، اسی طرح تمام زبانیں بھی اردو کی حریف نہیں حلیف ہیں، اور ہر دو زبانوں کے لیے یہ تعاون و اشتراک از حد ضروری ہے کیوں کہ قومی زبان ہی قومی یک جہتی کا باعث بنتی ہے، اس کے بغیر حقیقی تعلیم اور ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، اسے ذریعہ تعلیم بنا کر ہی ترقی کی ٹھوس بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

مختلف زبانوں اور مختلف سطح کے نظام ہائے تعلیم قوم میں صرف تفریق ، احساس برتری اور کم تری کا ذریعہ بنی ہیں، نہ کہ کسی قومی تعاون و اشتراک کا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں دو طبقات نے جنم لیا ہے، ایک احساس برتری کا شکار حکمران طبقہ دوسرا احساس محرومی کا شکار محکوم طبقہ۔ اس کا واحد حل پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے قومی زبان میں تعلیم ضروری ہے۔ جب تدریسی قابل فہم ہوگی تو طالب علم نہ صرف مضمون کو سمجھ سکے گا بلکہ اس حوالے سے وہ اپنے خیالات و تصورات کو بہتر انداز میں پیش کر سکے گا۔ 

طلباء میں اعتماد تب پیدا ہوگا جب وہ اپنی بات اور اپنا مافی الضمیر کھل کر بیان کرسکیں گے، اور بولتے ہوئےکوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں گے،یہی وجہ ہے کہ طویل عرصہ سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ پاکستان کا ذریعہ تعلیم قومی زبان ہونا چاہیے، تاکہ طلباء کی صلاحیتوں کو یکساں معیار پہ پرکھا جاسکے۔ ضروری ہے کہ قومی زبان سے محبت اور عزت کا جذبہ نئی نسل کے دلوں میں پیدا کیا جائے۔ ابتدائی جماعتوں سے ہی اردو زبان کا معیار بلند کیا جائے۔

حکومت وقت کا یہ اقدام انتہائی قابل تحسین ہے کہ ملک میں پہلی بار تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں اردو قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنادیا گیا ہے، خاص طور سے ابتدائی سطح پر، اب اس کے نتیجے میں طلباء اپنی توانائیاں زبان سیکھنے کے بجائے مضامین کی تفہیم اور تعلیم پر صرف کریں گے۔