• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:کرس بیرانیوک۔۔۔لندن
کئی باغبانی کرنے والوں کا خیال ہے کہ پودوں سے بات چیت کرنے سے ان کی نشو و نما بہتر ہوتی ہے، وہیں سائنسی دنیا میں اسی موضوع پر ایک بحث و تکرار ہو رہی ہے کہ کیا پودے ہماری باتیں سنتے ہیں یا وہ ہماری باتوں کا جواب بھی دیتے ہیں۔لارا بیلوف کے گھر کا پودا ایک کلک کی آواز دیتا ہوا سنائی دیتا ہے۔ انھوں نے اس پودے کی جڑوں کے ساتھ ایک مائیکروفون لگا دیا ہے تاکہ وہ مٹی کے اندر بہت ہی خفیف سے ʼکلک کی آواز کو سن سکیں۔یہ ممکن ہے ایک ایسے سوفٹ ویئر کے ذریعے جو انھوں نے اپنی ریسرچ کے لیے خود تیار کیا۔ اس نے ʼکلک کی فریکوینسی کو اتنا کم کر دیا ہے کہ اُس آواز کو انسان سن لیتے ہیں۔جب وہ اپنے ڈیسک پر کام کر رہی ہوتی ہیں تو اس وقت پودے سے جڑی یہ مشین ایک خوشگوار انداز میں بات چیت کر رہی ہوتی ہے۔ لیکن بات چیت کی آواز اس وقت محسوس ہوتی ہے جب کوئی بات کرتا ہے۔بیلوف جو فن لینڈ کی آلٹو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، کہتی ہیں کہ ʼیہ ایک انتہائی عجیب و غریب بات ہے،اس مرتبہ جب ان سے کوئی ملاقات کے لیے آیا تو پودے سے ʼکلک کی آواز آنا بند ہو گئی۔ جب وہ مہمان چلا گیا تو ʼکلک کی آواز دوبارہ آنے لگی۔بعد میں اور بھی بہت سارے لوگ آئے، اس مرتبہ بھی آواز رک گئی۔ اور جب وہ بھی چلے گئے تو آواز دوبارہ سے آنے لگی۔ بیلوف کہتی ہیں کہ ʼمجھے ابھی تک معلوم نہیں کہ میں اس بارے میں کیا سوچوں،کچھ ایسا لگتا ہے کہ یہ پودا بیلوف سے صرف تنہائی میں ʼکلک کرتا ہے یعنی جیسے کہ وہ اِس سے بات چیت کر رہی ہوں۔بیلوف کے پودوں سے نکلنے والے کلکس کا پتا لگانے کی کوششیں دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہیں۔ انھیں ان آوازوں کے بارے میں ابھی بھی یقین نہیں کہ پودا کیا کہہ رہا تھا۔اِس مشین کے بنانے میں استعمال ہونے والا اس کا سامان کم قیمت کا تھا۔ ایک سادہ مائیکروفون جس کے متعلق وہ تسلیم کرتی ہے کہ وہ مٹی یا اردگرد کے ماحول میں موجود مائیکروآرگنِزم کی آوازوں کو بھی محسوس کرسکتا تھا، ضروری نہیں کہ یہ ʼکلک کی آواز پودے کی ہو۔اور یہ اندازہ لگانا کہ پودا بات چیت کر رہا تھا یا اس نے کمرے میں داخل ہونے والے لوگوں پر ردعمل ظاہر کیا، اس وقت محض ایک قیاس آرائی ہے۔لیکن امکان، تھوڑا سا موقع، بیلوف کے اس تجربے کو دلچسپ بنا دیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ʼکیا واقعی ایسا ہو رہا ہے؟ یہی سوال ہے۔پودوں اور پودوں کی زندگیوں کے بارے میں بہت ساری ایسی باتیں ہیں جو ہم نہیں جانتے ہیں۔ فی الحال سائنس کے اُن ماہرین کے درمیان ایک بحث ہے جو پودوں کا مطالعہ کرتے ہیں کہ پھول اور جھاڑیاں کس حد تک ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں یا دوسری جاندار چیزوں سے بات چیت کر سکتے ہیں۔اور اگر وہ کر سکتے ہیں تو کیا یہ نباتات ذہین بھی کہے جا سکتے ہیں یا ان کی یہ صلاحیت انھیں ذہین بھی بناتی ہے،کچھ ایسے بھی پودے ہوتے ہیں جو کیمیکل سگنلز یا آوازوں پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہیں، تاہم یہ خیال کہ وہ آپس میں بات چیت کرسکتے ہیں یا کرتے ہیں، اس وقت سائنسی تحقیق پودوں کی پیچیدگیوں اور ان کی حیرت انگیز صلاحیتوں کے بارے میں مسلسل نئی سے نئی دریافتیں کر رہی ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ پودے اس سے کچھ زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں جتنا کچھ ہم نے ان کے بارے میں فرض کیا ہوا ہے۔ لیکن یہ خیال کہ وہ انسانوں سے ʼبات کرتے ہیں ابھی کافی متنازع ہے۔بیلوف کو پہلے مونیکا گیگلیانو اور دیگر محققین کے تجربات کے بارے میں پڑھنے کے بعد اپنے پودوں کی جڑوں کی آواز سننے کا خیال آیا۔ پچھلی ایک دہائی کے دوران یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں گیگلیانو نے اپنے تحقیقی پیپرز کی ایک سیریز شائع کی ہے جس میں بتایا گیا کہ پودوں میں بات چیت کرنے، سیکھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت ہے۔گیگلیانو کو یقین ہے کہ پودے بات چیت کر سکتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس بات چیت کے ʼثبوت واضح ہیں،2012 میں شائع ہونے والے ایک معروف پیپر میں کہا گیا تھا کہ گیگلیانو نے اور ان کے شریک مصنفین نے پودوں کی جڑوں سے شور کے کلک ہونے کا پتا چلایا۔ محققین نے ان آوازوں کا جڑ سے پیدا ہونے والے سگنلز کا پتا لگانے کے لیے لیزر وائبرومیٹر کا استعمال کیا۔گیگلیانو کا کہنا ہے کہ لیزر کو پودوں کی جڑوں پر تربیت دی گئی تھی جب وہ لیبارٹری کے حالات میں پانی میں ڈوبے ہوئی تھیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ محسوس کی جانے والی آوازیں دراصل جڑوں سے نکل رہی ہیں۔یہ کہنے کے لیے کہ ان کلکس کا کوئی بھی مواصلاتی کام ہے۔ اس کے لیے ابھی مزید شواہد کی ضرورت ہے۔
یورپ سے سے مزید